- الإعلانات -

شام کے شہر ادلیب میں شہریوں کے قتل عام کا خدشہ ہے، طیب اردگان

بشکک: ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ شامی اور اتحادی افواج کے ادلیب پر فضائی حملے سے معصوم شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کرغزستان سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے امید ظاہر کی ہے کہ ادلیب پر حملے کے فیصلے کو واپس لے لیا جائے گا جس کے لیے روس، ایران اور ترکی کے سربراہان کی ملاقات ہونے جا رہی ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ تہران میں ہونے والی سہ ملکی سربراہان کے اجلاس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور ادلیب پر فضائی حملے کے بجائے کوئی دوسرا حل نکال لیا جائے گا۔ یہ ایک یا دو نہیں بلکہ ساڑھے 3 ملین انسانوں کی جان و مال کا معاملہ ہے جو ادلیب میں آباد ہیں اور فضائی حملے کے نتیجے میں بری طرح متاثر ہوں گے۔

طیب اردگان نے مزید کہا کہ اگر ادلیب پر فضائی حملہ کیا جاتا ہے تو لاکھوں افراد ترکی کی جانب ہجرت کریں گے جس سے نئے مسائل جنم لیں گے۔ اس لیے انتہائی قدم اُٹھانے سے قبل شام کو بذریعہ روس اور ایران اپنا پیغام پہنچائیں گے۔

واضح رہے کہ شامی صدر بشار الاسد نے شام میں داعش کے آخری مضبوط گڑھ ادلیب میں حتمی کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے جہاں داعش اور النصرہ کا 30 ہزار پر مشتمل آخری جتھہ سرکاری اور اتحادی افواج سے برسرپیکار ہے۔