- الإعلانات -

کابل کے اسپورٹس کمپلیکس میں 2 دھماکے، 20 افراد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے اسپورٹس کمپلیکس کے اندر 2 خودکش دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے۔

افغان پولیس کے ترجمان حشمت استنکزئی نے بتایا کہ خود کش بمبار نے خود کو اسپورٹس کمپلیکس کے اندر دھماکے سے اڑا اور اس کے ایک گھنٹے بعد بارود سے بھری گاڑی کا بھی اسی مقام پر دھماکا ہوا، جہاں اس وقت سیکیورٹی ہلکاروں اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

دوسرے دھماکے کے نتیجے میں 4 صحافی زخمی ہوئے جبکہ افغانستان کی طلوع نیوز نے اپنے 2 صحافیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان واحد مجروح نے بتایا کہ دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے جبکہ وزارت داخلہ کے ترجمان نے 20 افراد کے ہلاک اور 70 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا۔

پہلے دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد سیکیورٹی اور ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ساتھ جائے وقوع پر صحافیوں کی بڑی تعداد رپورٹنگ کے لیے پہنچی تھی۔

اسی دوران ایک اور خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔

میوند ریسلنگ کلب کے ڈائریکٹر پہلوان شیر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ سے گفتگو کرتے ہوئے پہلے دھماکے میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب پہلا دھماکا ہوا تو وہ کمپلیکس کے ہال کے باہر موجود تھے جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے اکثریت ریسلرز کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے کوچ کو ڈھونڈ رہا تھا اور بالآخر وہ ہسپتال میں ملے لیکن ان کی حالت بہت تشویشناک ہے۔

دھماکے کے عینی شاہد نے سوشل میڈیا پر تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خود کش بمبار نے کلب میں موجود محافظ کو قتل کرنے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا تھا۔

محمد حنیف نامی فیس بک صارف نے لکھا کہ خود کش بمبار نے خود کو ایسے مقام پر دھماکے سے اڑایا جہاں بڑی تعداد میں کھلاڑی موجود تھے۔

تاحال کسی گروہ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تاہم ماضی میں عوامی مقامات پر داعش سمیت دیگر گروپس کی جانب سے حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے افغانستان مستقل بدامنی کا شکار ہے اور آئے روز افغان دارالحکومت کابل سمیت مختلف صوبوں میں بم دھماکے اور حملے کیے جاتے رہے ہیں جن میں غیر ملکی افواج سمیت مقامی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔