- الإعلانات -

عوام پرمنی بجٹ کی صورت میں منی مہنگائی کا بم گرایا گیا، شہباز شریف

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ برسوں عوام کی غربت کا رونا رویا گیا اور آج عوام پر منی بجٹ کا بم گرایا گیا۔

پارلیمنٹ میں ضمنی بجٹ پر بحث کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت نے انتخابات سے قبل کہا تھا  کہ ان کے پاس بہترین ٹیم موجود ہے جو عوام کے مسائل کے حل کے لیے دن رات ایک کردیں گے اور اپنی مراعات کو بھی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں گے۔

حکمرانوں کے دوستوں کو بڑے بڑے عہدوں سے نوازا جارہا ہے

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عوام کو سبز باغ دکھائے گئے، تبدیلی کے نعرے لگائے گئے، پروٹوکول نہ لینے اور سادگی کے دعووں سے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی لیکن آج ذاتی دوست اور امپورٹڈ ایڈوائزر ہر جگہ نظر آرہے ہیں، حکمرانوں کے دوستوں کو بڑے بڑے عہدوں سے نوازا جارہا ہے۔

گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا

شہباز شریف نے کہا کہ برسوں عوام کی غربت کا رونا رویا گیا اور آج عوام پر منی بجٹ کی صورت منی مہنگائی کا بم گرادیا گیا، منی بجٹ میں 183 ارب کے نئے ٹیکس لگائے گئے، متوسط طبقے کے لیے گیس کی قیمت بڑھا دی گئی ہے، گیس کی قیمت بڑھا کرکسان پر بوجھ ڈالا گیا جس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا، گیس کی قیمت میں 57 فیصد اضافے سے بجلی کی قیمت بھی بڑھے گی، اسد عمر ایک پڑھے لکھے وزیرخزانہ  ہیں ان سے توقع نہیں تھی کہ وہ ایسا عوام دشمن بجٹ لائیں گے، آپ اشرافیہ کے لیے قیمتیں بڑھادیں کوئی اختلاف نہیں کرے گا لیکن غریب عوام پر ٹیکس بڑھانا ان کے بچوں پر ظلم کی بات ہے۔

موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پوری قوم کو علم ہے کہ یہ حکومت ووٹوں کے ذریعے نہیں آئی، موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے، عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، امید کرتے ہیں کہ خصوصی کمیٹی بروقت اپنا کام مکمل کر کے ایوان میں رپورٹ پیش کرے گی اور انتخابی نتائج کے حوالے سے حقائق عوام کے سامنےلائے جائیں گے، ہم یہاں 2018ء کے عام انتخابات کے نتائج کو دوام بخشنے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہم جمہوریت کے فروغ و استحکام کے لیے ایوان میں آئے۔

چینی وزیر خارجہ کا بے رخی سے استقبال کیا گیا

قائدِ حزبِ اختلاف کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبہ 22 کروڑ عوام کے لیے بہت اہم اور پاکستان اور چین کے درمیان ایک پل ہے، یہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں معاشی ترقی کا سنہری موقع ہے، لیکن چینی وزیرخارجہ کو سر آنکھوں پر بٹھانے کے بجائے بے رخی سے استقبال کیا گیا، اس طرح کے رویئے سے چین کی دوستی کا امتحان لینے کی کیا ضرورت تھی؟ سی پیک سے متعلق حکومت کی جانب سے جو باتیں کی گئیں یہ پاکستان کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے، یہ ایوان اور عوام سی پیک کو کہیں جانے نہیں دیں گے۔

پانچ سالہ دور میں گیس کی قیمت ایک دھیلا بھی نہیں بڑھائی

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2013ء میں جب ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ جیسے بڑے چیلنجز ملے لیکن ہم نے عوام کے ساتھ مل کر ان پر قابو پایا،  نوازشریف کی قیادت میں پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے لگائے، پاور پراجیکٹس، زراعت کا سب سے بڑا پیکیج ہماری حکومت نے دیا، کسانوں کو اربوں روپے کا زراعت پیکیج دیا، صحت، تعلیم اور فرانزک لیب کی صورت میں عوام کو سہولیات دیں اور  5 سالہ دور میں ایک دھیلا گیس کی قیمت نہیں بڑھائی۔

چاروں صوبوں کی مرضی کے بغیر کالا باغ ڈیم چھیڑنا وفاق کی غلطی ہوگی

شہباز شریف نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی اقتصادی پوزیشن بہت مضبوط اور یہ ایک بہت مفید اور اہم پروجیکٹ ہے لیکن یہاں ایوان میں موجود چاروں صوبوں کے نمائندگان کی مرضی کے بغیر کالاباغ ڈیم نہیں بن سکتا، چاروں صوبوں کی مرضی کے بغیر اس منصوبے کو چھیڑنا غلطی ہوگی۔

داسو ڈیم بھی نواز شریف کی حکومت کا منصوبہ ہے

انہوں نے کہا کہ داسو ڈیم ایک فعال پروجیکٹ ہے جسے ورلڈ بینک فنانس کررہا ہے، اس سے 4 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی، یہ منصوبہ بھی ہمارے دور میں شروع ہوا، تحریک انصاف کی حکومت اسے جتنی جلد مکمل کرلے اتنا بہتر ہوگا۔

دیامر بھاشا کے لیے 122 ارب میں زمین ہم نے خریدی تھی

دیامر بھاشا ڈیم سے متعلق انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم ’مدر آف ڈیم‘ ہے، ڈکٹیٹر مشرف نے 2005ء میں اس کا فیتہ کاٹا لیکن ایک انچ زمین نہیں خریدی، یہ کریڈیٹ بھی نواز شریف کی حکومت کو جاتا ہے کہ 122 ارب روپے خرچ کرکے دیامر بھاشا ڈیم کی زمین خریدی، فزیبلیٹی رپورٹ فائنل ہے، آخری بجٹ میں ہم نے 23 ارب روپے بھاشا ڈیم کے لیے مختص کیے، اس بات کی خوشی ہے کہ موجودہ حکومت بھی ڈیمز کے لیے فعال ہے تاہم حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو بہتر ہوگا۔

دوسری جانب وزیر خزانہ اسد عمر نے اپوزیشن لیڈر کے اعتراضات کو مسترد کردیا اور کہا کہ ہم نے ٹیکس امیروں پر لگایا ہے غریبوں پر نہیں حکومت کو آئے ہوئے ابھی ایک ماہ ہوا ہے آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔