- الإعلانات -

بھارتی سپریم کورٹ نے غیرازدواجی تعلقات کو قابل سزا جرم کی فہرست سے نکال دیا

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے شادی شدہ مرد اور عورت کے درمیان غیر ازدواجی جنسی تعلق پر پانچ سال قید کی سزا دینے سے متعلق آرٹیکل 497 کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 1860 میں بنائے گئے قانون کے سیکشن 497 کو ختم کر دیا ہے۔ اس قانون کے تحت شادی شدہ مرد کے اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری شادی شدہ عورت سے جنسی تعلق قائم رکھنے پر مرد پانچ سال قید کی سزا دی جا سکتی تھی۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں سیکشن 497 کو آرٹیکل 14 اور 21 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی شدہ مرد یا شادی شدہ عورت کا اپنے پارٹنر کے علاوہ کسی اور سے جنسی تعلق قائم رکھنا طلاق کا باعث تو بن سکتا ہے لیکن یہ قابل سزا جرم نہیں۔ اس لیے سپریم کورٹ سیکشن 497 کو غیر آئینی قرار دیتی ہے۔

انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 497 کو ایک مرد مخالف قانون سمجھا جاتا ہے۔ یہ 150 سال قبل 1860 میں نافذ کیا گیا تھا جس کے تحت اگر کوئی شادی شدہ مرد اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری شادی عورت سے باہمی رضامندی کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرتا ہے تو ایسے مرد کو پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے لیکن اپنی مرضی سے جنسی تعلق قائم کرنے والی شادی شدہ عورت کے لیے کوئی سزا مختص نہیں۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ جنسی تعلق اگر عورت کی رضامندی کے بغیر قائم کیا جائے تو اسے ’ جنسی زیادتی‘ سمجھا جاتا ہے اور اس پر بھی مرد کو سزا دی جاتی ہے۔ اس لیے قانون کو مرد مخالف تصور کیا جاتا ہے اور اس پر مختلف اوقات میں آوازیں بھی اُٹھتی رہی ہیں۔

سپریم کورٹ میں سیکشن 497 کے خلاف 1954، 1985، اور 1988 میں بھی اعتراضات جمع کرائے گئے تھے جس میں مطالبہ کیا گیا تھا غیر ازدواجی جنسی تعلق استوار کرنے میں شادی شدہ عورت کی مرضی بھی شامل ہوتی ہے اس لیے عورت کو بھی سزا دینی چاہیئے یا پھر اس قانون کو ختم کر کے ’آڈلٹری‘ کو جرم ہی نہ مانا جائے۔

شادی شدہ مرد اور عورت کے درمیان باہمی رضامندی سے غیر ازدواجی تعلق استوار کرنے پر دونوں کو یکساں مجرم قرار دینے کے مطالبے پر قانون دانوں کا موقف یہ رہا ہے کہ قانون کی نظر میں ‘اڈلٹری’ میں پہل مرد ہی کرتا ہے اور اسے انتہا تک لے جانے میں بھی کلیدی کردار مرد کا ہوتا ہے جو عمومی طور پر وہ ’محبت‘ کے نام پر بہلا پھسلا کر کرتا ہے اس لیے سزا کا حقدار بھی وہی ہے۔

سیکشن 497 کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس قانون میں موجود ایک اصطلاح ’ اڈلٹری‘ کو سمجھ لیا جائے۔ یہ لفظ ‘اڈلٹریٹ’ یعنی خراب ہوجاتا ہے سے نکلا ہے اس لیے ’اڈلٹری‘ کو ناپاک ہونے سے جوڑا گیا ہے۔ یعنی ایک مرد کسی شادی شدہ عورت سے جنسی تعلق قائم کر کے عورت کے شوہر کی نسل خراب کرنے کا باعث بنتا ہے اس لیے سزا بھی اسے ملے گی۔