- الإعلانات -

جمال خاشقجی کے معاملے پر امریکی وزیر خارجہ کی سعودی فرمانروا سے ملاقات

ریاض: امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ترکی میں سعودی قونصل خانے سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی پراسرار گمشدگی کے حوالے سے کشیدہ صورتحال پر ہنگامی دورے پر سعودی عرب پہنچے۔

امریکی وزیر خارجہ نے دورے کے دوران سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے شاہی محل میں ملاقات کی جس میں سعودی امریکی تعلقات، جمال خاشقجی کی گمشدگی اور خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر اور وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بھی موجود تھے۔

— فوٹو: بشکریہ امریکی سفارتخانہ 

بعد ازاں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی جس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں ملاقات میں وزیرخارجہ عادل الجبیر اور امریکا میں تعینات سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان بھی موجود تھے۔

اس موقع پر سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں اور دونوں ممالک دیرنیہ اور طاقتور حلیف ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی شہری اور واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کو آخری مرتبہ 2 اکتوبر کو سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں تاہم سعودی حکام کا کہنا تھا کہ صحافی اسی روز واپس روانہ ہوگئے تھے تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

جمال خاشقجی اپنی ترک منگیتر ہیٹس سنگز سے شادی کے خواہاں تھے اور دستاویزات کے حصول کے سلسلے میں قونصل خانے گئے تھے اور اس موقع پر ان کی منگیتر قونصل خانے کے باہر ان کا انتظار کرتی رہیں۔

خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ صحافی کو قونصل خانے میں ہی قتل کردیا گیا جب کہ گزشتہ روز ترک پولیس نے سعودی قونصل خانے کی تلاشی بھی لی اور شواہد اکٹھے کیے۔

جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور اب اس معاملے میں امریکا بھی کود پڑا ہے۔

 گزشتہ دنوں اپنے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو سزا ناگزیر ہوگی۔