- الإعلانات -

قومی اسمبلی؛ اسد عمر کے فضل الرحمن کو گمراہ کہنے پر اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو گمراہ کہنے پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی معاشی صورت حال پر گفتگو کی گئی۔

وزیر خزانہ اسد عمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو 35 ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے، ہمارا دنیا میں سب سے بڑا باہمی تجارتی خسارہ چین کے ساتھ ہے جس میں کمی کا ہدف ہے، پاکستان چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا، پچھلی حکومتوں نے 1200 ارب کے نئے نوٹ چھاپے اور بجٹ خسارہ 9 سو ارب سالانہ سے بڑھ گیا، ہم آئی ایم ایف پر سو فیصد انحصار نہیں کرنا چاہتے، حکومت کی کوشش ہوگی یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہو۔

اسد عمر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو کسی نے کوئی غلط خبر دی اور میرے والد صاحب کے بارے میں گمراہ کیا ہے، میرے والد نے جھنگ پر قبضہ کیا آج بھی تاریخ گواہ ہے، میرے والد 1971 میں جنرل آفیسر کمانڈنگ تھے اور چھمب جوڑیاں میں تعینات تھے، انہوں نے چھمب جوڑیاں پر قبضہ کیا جو آج بھی پاکستان کے پاس ہے، فوج کے سرینڈر سے میرے والد کا کوئی تعلق نہیں تھا، جنرل نیازی کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں، وہ میانوالی سے ضرور تھے لیکن عمران خان کا ان سے کوئی رشتہ نہیں۔

اسد عمر اظہار خیال کرکے ایوان سے چلے گئے، تاہم جے یو آئی ف کے اراکین نے اسد عمر کے الفاظ پر ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گمراہ کا لفظ غیر پارلیمانی نہیں ہے، مولانا فضل الرحمن اس ایوان کا حصہ رہ چکے ہیں ان کا سب احترام کرتے ہیں، اگر اراکین کی دل آزاری ہوئی تو میں وزیر خزانہ کی جانب سے ان الفاظ کو واپس لیتا ہوں، اس پختہ عمر میں فضل الرحمن کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ تاہم اپوزیشن نے شاہ محمود کی وضاحت قبول نہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ کی عدم موجودگی پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔

مولانا عبدالواسع نے کہا کہ فضل الرحمن کے خلاف نازیبا گفتگو کی گئی، اسد عمر نے ناقابل قبول بات کی، گمراہ کا لفظ ان کیلئے استعمال ہوتا ہے جو دین سے بھٹکے ہوں، اسد عمر کے والد جنرل نیازی کے ساتھی تھے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ہم صرف وزیر خزانہ کا بھاشن سننے نہیں آئے، وزیر خزانہ نے بھاشن دیا اور چلے گئے، بات کر کے چلا ہی جانا تھا اس ایشو پر بحث کیا ضرورت تھی، ان کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ جس کی وجہ سے وزیر بنے اس ادارے کو ٹائم نہیں دے رہے، اسد عمر کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے بارے میں گمراہ کا لفظ استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ جے یو آئی والے پاکستان بنانے کے وقت بھی گمراہ تھے اور کبھی صحیح راہ پر نہیں کھڑے ہوئے،1988 سے کشمیر کمیٹی پر براجمان تھے، نواز شریف اور فضل الرحمن بھارت کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے تھے، انہوں نے ایک جملہ کشمیر ایشو پر نہیں بولا، جے یو آئی والوں کودن میں تارے اور رات کو اسرائیلی طیارے نظر آتے ہیں، ہم نے سعودی عرب سے پاکستان کے بچوں کے لیے بھیگ مانگی۔