- الإعلانات -

پشاور: ایس پی طاہر خان داوڑ کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

پشاور پولیس لائن میں مقتول سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) طاہر خان داوڑ کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، گورنر شاہ فرمان، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور آئی جی خیبر پختونخوا نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔

صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی، ترجمان کے پی حکومت اجمل وزیر، کور کمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل شاہین مظہر محمود اور کمانڈنٹ فرنٹئیر کانسٹبلری معظم انصاری سمیت اعلیٰ پولیس وسول حکام بھی نمازجنازہ میں شریک ہوئے۔

نماز جنازہ سے قبل خیبر پختونخوا پولیس کے دستے نے شہید ایس پی طاہر خان داوڑ کو سلامی دی۔

لاش پاکستانی حکام کے حوالے

وزیر مملکت برائے داخلہ اور دیگر حکام طوخم سرحد پر موجود ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
وزیر مملکت برائے داخلہ اور دیگر حکام طوخم سرحد پر موجود ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

قبل ازیں افغانستان نے مقتول سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) طاہر خان داوڑ کی لاش طورخم سرحد پر پاکستانی حکام کے حوالے کردی۔

اس سے قبل ریڈیو پاکستان کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ افغان حکام نے پاکستانی حکام کو ایس پی کی میت دینے سے انکار کردیا ہے اور وہ جسد خاکی محسن داوڑ کو دینا چاہتے ہیں۔

ایس پی کا جسد خاکی لینے کے لیے طورخم سرحد پر سرکاری حکام کے ساتھ ساتھ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور ایم این اے محسن داوڑ موجود تھے۔

محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم نے میت حوالے کرنے کے لیے تقریباً دو گھنٹے تک افغان حکام کو قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکام کا کہنا تھا کہ وہ میت صرف قبائلی عمائدین کے حوالے کریں گے۔

بعد ازاں محسن داوڑ اور ان کے بھائی سمیت قبائلی عمائدین کی ٹیم نے بارڈر پر پہنچ کر جسد خاکی وصول کیا۔

طاہر خان داوڑ کی میت کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا گیا۔

اس موقع پر طورخم سرحد پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور کسی گاڑی یا فرد کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

افغان حکام کا رویہ اذیت ناک تھا، شہریار آفریدی

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ ‘پاکستان نے 80 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو جگہ دی لیکن اس کے باوجود طاہر خان داوڑ کی میت کی حوالگی سے متعلق افغان حکام کا رویہ غیر مناسب تھا اور جو رویہ طورخم پر دیکھنے کو ملا وہ اذیت ناک تھا۔’

انہوں نے کہا کہ ‘افغان حکام نے طاہر داوڑ کی میت پاکستانی قونصل خانے کو دینے سے انکار کیا اور افغان حکام نے میت حوالگی کے بدلے کچھ مطالبات رکھنے کی کوشش کی، جبکہ ڈھائی گھنٹے انتظار کے بعد میت حوالے کی گئی۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ریاست پاکستان، افغان حکومت سے اس رویے سے متعلق بات کرے گی۔’

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ‘خیبر پختونخوا حکومت سے طاہر داوڑ سے متعلق رپورٹ طلب کرلی گئی ہے، ریاست پاکستان اپنے ایک ایک سپاہی اور شہری کی ذمہ دار ہے اور ہم ایس پی داوڑ کے قتل کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔’

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طاہر خان داوڑ کو رواں برس کے آغاز میں دیہی علاقوں کا ایس پی بنایا گیا تھا اس سے قبل وہ یونیورسٹی ٹاؤن اور فقیر آباد میں بحیثیت ڈی ایس پی اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

خیال رہے کہ وہ 26 اکتوبر کو ہی پشاور سے اسلام آباد پہنچے تھے جہاں انہیں اسی روز اغوا کرلیا گیا تھا، ان کے اہلِ خانہ نے اسلام آباد پولیس کو بتایا تھا کہ ان کا فون شام پونے 7 بجے سے بند جارہا تھا۔

یہ بات بھی مد نظر رہے کہ ایس پی اس سے قبل بنوں میں تعیناتی کے دوران 2 خود کش حملوں کا سامنا کرچکے تھے جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ایس پی طاہر خان داوڑ کے قتل کا معاملہ دیکھ رہے ہیں اور کے پی حکومت کو اسلام آباد پولیس کے ساتھ مل کر اس معاملے پر فوری انکوئری کا حکم دے دیا ہے۔

ان کا مذکورہ ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ ‘وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو اس معاملے کو فوری دیکھنے کے لیے کہا گیا ہے اور وہ اس کی رپورٹ جلد مجھے پیش کریں گے’۔

ایس پی کا واقعہ پولیس کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے، وزیر مملکت برائے داخلہ

ادھر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران بتایا کہ ایس پی طاہر خان داوڑ پاکستان کا غیرت مند بیٹا تھا اور ان سے قبل ان کے بھائی اور بھابی کو بھی شہید کیا گیا، ایس پی دہشت گردوں کے نشانے پر تھے۔

انہوں نے سینیٹ اراکین کو بتایا کہ آخری پیغام گھر والوں کو ملا کہ ایس پی طاہر داوڑ محفوظ ہیں، ایس پی طاہر خان داوڑ کو پنجاب میں میاں والی کے راستے بنوں اور پھر افغانستان لے جایا گیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ 28اکتوبرکو ایس پی طاہر داوڑ کے لاپتا ہونے کی ایف آئی آر درج کی گئی، یہ واقعہ پولیس کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بھی ایس پی کے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے سابق دور حکومت کے سیف سٹی منصوبے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کہاں ہے؟ سابق حکومت جواب دے، سیف سٹی کے ایک ہزار 8 سو سے زائد کیمرے ناکارہ ہیں، سیف سٹی میں لگائے گئے کیمروں کی انکوائری ہونی چاہیے۔

ایس پی کی لاش پاکستان منتقل کی جارہی ہے، ترجمان افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی

علاوہ ازیں افغان حکومت نے ایس پی طاہر خان داوڑ کی لاش، پوسٹ مارٹم اور ضروری کارروائی کے بعد افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے حوالے کردی۔

بعد ازاں افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ترجمان نے ڈان نیوز کو بتایا کہ ‘افغان حکام نے لاش ہمارے حوالے کردی ہے اسے پاکستان منتقل کرنے کے لیے پاک افغان سرحد پر منتقل کیا جارہا ہے’۔

اس سے قبل پاکستانی وزارت خارجہ نے گزشتہ ماہ لاپتہ ہونے والے خیبرپختونخوا (کے پی) کے ایس پی طاہر خان داوڑ کی لاش افغانستان سے برآمد ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی لاش کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد براستہ طورخم پاکستان پہنچایا جائے گا۔

وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق افغان وزارت خارجہ نے ایس پی طاہر خان داوڑ کی لاش سروس کارڈ کے ساتھ ملنے کی تصدیق کرکے کابل میں پاکستانی سفارت خانے کو آگاہ کردیا۔

اعلامیے کے مطابق طاہر خان کی لاش افغان صوبے ننگرہار کے ضلع دربابا میں مقامی رہائشیوں کو ایک روز قبل ملی تھی۔

قبل ازیں قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) طاہر خان داوڑ کی لاش انٹر نینشل ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ موومنٹ کی جانب سے جلد پاکستانی حکام کے حوالے کردی جائے گی۔

واضح رہے کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) طاہر خان داوڑ، جو پشاور پولیس کے دیہی سرکل کے سربراہ تھے، کو 26 اکتوبر کو اسلام آباد کے علاقے جی-10 سے اغوا کیا گیا تھا، جن کی مبینہ لاش افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ملی ہے۔

اس سے قبل ڈان اخبار کی رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ایس پی کی مبینہ تشدد زدہ لاش کے ساتھ پشتو میں لکھے گئے خط کی تصاویر بھی وائرل ہوگئی تھیں تاہم سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمیں اس افسوسناک واقعے کی اطلاع ’ذرائع‘ سے موصول ہوئی تاہم خیبر پختونخوا پولیس نے اس واقعے کی تصدیق کرنے سے انکار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پولیس افسر کو کس مقام پر قتل کیا گیا اور کون سا گروہ اس کا ذمہ دار ہے، اس بارے میں تحقیقات کی جائیں گی جبکہ لاش کے ساتھ ملنے والے خط میں کسی بھی تنظیم کا نام نہیں تھا، اسے بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائے گا۔

دوسری جانب ایس پی کے افسر کے بھائی احمد الدین نے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں سرکاری ذرائع سے ابھی تک تصدیق موصول نہیں ہوئی تاہم سوشل میڈیا میں تصاویر وائرل ہونے کے بعد تعزیت کرنے والوں کی کثیر تعداد ان کے گھر پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ تصاویر میں نعش کے ساتھ ملنے والے خط میں پشتو زبان میں ولایت خراسان کا نام لکھا ہے اور اس میں وہی رسم الخط استعمال کیا گیا ہے جو پاک افغان علاقے میں داعش استعمال کرتی ہے۔

خط میں ایس پی طاہر خان داوڑ کا نام لے کر لکھا گیا ہے کہ ’پولیس اہلکار جس نے متعدد عسکریت پسندوں کو گرفتار اور قتل کیا، اپنے انجام کو پہنچ گیا‘۔

اس کے ساتھ خط میں دوسرے افراد کو بھی محتاط رہنے کی دھمکی دیتے ہوئے تحریر ہے کہ بصورت دیگر ان کا بھی ایسا ہی انجام ہوگا۔

علاوہ ازیں پاکستان میں افغان سفیر عمر ذاخیل وال نے پشاور میں الوداعی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ایس پی طاہر خان داوڑ کے بارے میں اتنی ہی معلومات میرے پاس ہیں جتنی آپ کے پاس ہیں، دونوں ممالک آپس میں بیٹھ کر بات کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوچنے کی بات ہے کہ کیسے یہاں اسلام آباد میں پولیس افسر اغوا ہوا اور افغانستان پہنچا اور مردہ حالت میں پایا گیا۔

دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے افغان سفیر کا کہنا تھا کہ صلح کے علاوہ اور کوئی راستہ پاکستان اور افغانستان کے پاس نہیں، ایس پی طاہر داوڑ کے معاملے میں دونوں ممالک کی قیادت کو بیٹھنا ہوگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان حکومت نے ایس پی طاہر خان داوڑ سے متعلق کوئی رابطہ نہیں کیا تاہم اس معاملے پر انتہائی افسوس ہے۔