- الإعلانات -

بھارت کا پاکستانی طلبا کو ‘دہشت گرد’ قرار دینے کا ڈرامہ فلاپ ہوگیا

بھارت کے سیکیورٹی ادارے تو پاکستان دشمنی کا کئی بار ثبوت دے چکے ہیں لیکن اب بھارتی میڈیا بھی تحقیقی اور مثبت صحافت کے بجائے ریاستی اداروں کے رنگ میں رنگا نظر آتا ہے۔

فیصل آباد کے دو طلبا واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب دیکھنے گئے اور وہاں کھینچی گئی اپنی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی، جو اس سنگ میل پر بنائی گئی جس پر دہلی 360 کلومیٹر اور فیروز پور 9 کلو میٹر درج ہے۔

تصویر سوشل میڈیا پر آتے ہی بھارت کی خفیہ ایجنسیاں اور پولیس بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی اور پولیس نے ان نوجوانوں کو ‘دہشت گرد’ قرار دے کر نئی دہلی میں کئی مقامات پر ان کی تصاویر کے پوسٹرز بھی آویزاں کر دیئے۔

— فوٹو: فیس بک
— فوٹو: فیس بک

بھارتی میڈیا نے بھی حقائق تک پہنچنے کی ضرورت نہ سمجھی اور وہ بھی پاکستانی نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دینے پر تُل گیا اور پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع کرنے میں زرا دیر نہ لگائی۔

بھارتی میڈیا کا جھوٹ اس وقت پکڑا گیا جب پتہ چلا کہ دونوں نوجوان فیصل آباد کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم ہیں اور پاکستان میں ہی ہیں۔

مدرسہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے طلبا ندیم اور طیب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ بھارت نہیں بلکہ واہگہ بارڈر گئے تھے۔

انہوں نے منفی پروپیگنڈا کرنے پر بھارتی میڈیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

مدرسے کے مہتمم شاہد عزیز نے بتایا کہ دونوں طلبا رائے ونڈ کے اجتماع میں شرکت کے لیے گئے تھے، وہاں سے واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب دیکھنے چلے گئے جہاں انہوں نے سنگ میل کے پاس کھڑے ہو کر تصویر بنائی جو وائرل ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں لڑکے مدرسے میں کئی سال سے زیر تعلیم ہیں، مدرسے کے حاضری رجسٹر میں ان کی یہاں موجودگی کا تمام ریکارڈ موجود ہے اور دونوں کبھی بھارت گئے ہی نہیں۔