- الإعلانات -

جنوبی پنجاب صوبے کا قیام آسان نہیں، صدر عارف علوی

پشاور: صدرعارف علوی کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کا قیام آسان کام نہیں جب کہ فاٹا کا انضمام بھی مشکل اقدام تھا جو اب مکمل ہوچکا۔ 

گورنرہاﺅس پشاورمیں گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان، وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی اور وزیر جنگلات اشتیاق ارمڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ صدر کی بنیادی اور آئینی ذمہ داری صوبوں کے مابین روابط قائم کرنا ہے جس کے لیے میں اپنا کردار ادا کررہا ہوں جب کہ اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے پر کسی قسم کا کوئی غور نہیں ہورہا تاہم صوبوں کو حاصل اختیارات میں توازن لانے اوران کی استعداد میں اضافے کے لیے مرکز بعض امور پر غور کررہی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے تعلیم کے شعبے میں ترقی حکومت کو جاتا ہے، فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے لیے جو آئینی ترمیم کی گئی اس میں میرا بھی کردار تھا، نہ تو فاٹا کا انضمام آسان ہے اور نہ ہی صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام تاہم فاٹا کا انضمام تو ہوچکا اور اب مسائل کو ختم کرتے ہوئے وہاں نظام قائم کیا جانا ہے جب کہ ضم شدہ علاقوں میں لیویز اور خاصہ دار اہلکاروں کو فارغ نہیں کیا جارہا بلکہ وہ نئے نظام میں ایڈجیسٹ کرلیے جائیں گے اورمزید 20 ہزار پولیس کے لیے بھرتیاں کی جائیں گے۔

عارف علوی نے کہا ہے کہ وہاں عدالتی نظام بھی قائم کیا جانا ہے اور این ایف سی کا تین فیصد حصہ بھی ان علاقوں کے لیے دیاجائے گا کیونکہ ان لوگوں نے ملک میں قیام امن کے لیے بڑی قربانیاں دیں، فاٹا میں نقصانات کو پورا کرنے کے لیے 10 سالوں تک 100 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسنز کے حوالے سے وزیراعظم ،آرمی چیف اور عدلیہ مشترکہ طور پر غور کررہی ہے تاکہ مسئلہ بھی حل ہو اور معلوم کیا جاسکے کہ غائب شدہ افراد کہاں گئے۔