- الإعلانات -

اسرائیل 2200 سیٹلر گھر بنانے کا منصوبہ بنارہا ہے، این جی او

یروشلم: غیر حکومتی ادارے پیس ناؤ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے پر 2 ہزار 2 سو سیٹلمنٹ گھر بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

سیٹلمنٹ پر نظر ر کھنے والے ادارے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایسے منصوبوں کی ذمہ دار وزارت دفاع کمیٹی نے اس منصوبے کی منظوری دی جو اب دیگر مختلف جگہوں سے منظوری کے مرحلے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 1159 رہائشی گھروں کو تعمیر کا پرمٹ جاری کیے جانے سے قبل حتمی منظوری مل چکی ہے جبکہ 1032 ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو کی حکومت نے 9 اپریل کو قبل ازوقت انتخابات اور پارلیمنٹ تحلیل کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

نتن یاہو کا حالیہ اتحاد اسرائیل کا دائیں بازو تصور کیا جاتا ہے۔

سیٹلمنٹ اسرائیل کی داہنی بازو کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور نتن یاہو نے یروشلم میں سیٹلر کی قیادت سے ملاقات بھی کی تھی۔

ملاقات میں انہوں نے سیٹلرز سے کہا تھا کہ ’بائیں بازو کی جانب سے میڈیا اور دیگر کی مدد سے ہماری حکمرانی کے خاتمے کی کوششیں کی جائیں گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ کامیاب نہیں ہوسکتے اور اگر وہ ہوگئے تو وہ سیٹلمنٹ تحریک کے لیے خطرہ ثابت ہوں گے‘۔

اپنی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سیٹلمنٹ کی بڑی کامیابیوں کے لیے حالیہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر بہت محنت کرنی ہے‘۔

خیال رہے کہ بینجمن نتن یاہو کے اتحاد کے اہم رکن سیٹلمنٹ کی حمایتی اور فلسطینی ریاست کے مخالف ہے۔

اسرائیلی سیٹلمنٹس عالمی قوانین کے مطابق غیر قانونی ہیں اور امن کے لیے رکاوٹ تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ فلسطین کی زمینوں پر بنائے گئے ہیں۔

مغربی کناروں کے سیٹلمنٹ میں تقریباً 4 لاکھ اسرائیلی قیام پذیر ہیں جبکہ مزید 2 لاکھ افراد مقبوضہ مشرقی یروشلم میں رہتے ہیں۔

بل منظور

اسرائیلی قانون سازوں نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور 9 اپریل کو قبل ازوقت انتخابات کرانے کے بل کی ابتدائی منظوری دے دی۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو اٹارنی جنرل کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف 3 کرپشن کیسز میں الزامات کا اعلان کرنے سے قبل انتخابات کرانا چاہتے ہیں۔

بنجمن نتن یاہو کے خلاف یہ اعلان کا حتمی وقت تو سامنے نہیں آسکا ہے تاہم رپورٹ کے مطابق یہ اپریل کے درمیان میں کیا جائے گا۔