- الإعلانات -

شہباز شریف کی رہائی نیب کیلئے لمحہ فکریہ ہے، فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائی کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے لیے لمحہ فکریہ قرار دے دیا۔

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ’یہ محض انکشاف ہے کہ شہباز شریف رہا ہوئے ہیں کیونکہ وہ قید ہی کب تھے، ہم انہیں اسلام آباد کی سڑکوں پر فراٹے بھرتے دیکھ رہے تھے‘۔

عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہاں مرغی چور کو اپنی ضمانت کے لیے کئی سال لگ گئے لیکن اگر 15 سو ارب روپے چوری کرنے والے کی ضمانت 90 روز سے کم میں ہوجاتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی ضمانت ان کی بے گناہی ثابت نہیں تاہم ضمانت کو چیلنج کیا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے نیب پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ’نیب کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ جن لوگوں کو کرپشن کیس میں حراست میں لے رہے ہیں ان کے مقدمات کو منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچا رہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نیب کو یہ باتیں عوام کے سامنے رکھنی چاہیے، شہبازشریف کی ضمانت سے معاشرے میں منفی اثر جائے گا‘۔

صنعتی زونز میں گیس، بجلی فوری فراہم کرنے کا فیصلہ

وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلوں کی منظوری سے متعلق بتایا کہ ’انڈسٹریل زونز میں گیس اور بجلی کی فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا‘۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’پوری دنیا سے ملک میں سرمایہ کاری کا رحجان بڑھا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ وقت سے پہلے بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں اب تک 440فیصلے لیے گئے تاہم 6ماہ میں کابینہ کے 26 اجلاس ہوئے اور 43 فیصلوں پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے نئے بورڈ کی منظوری دی گئی جس میں ظفر عثمانی نئے چیئرمین ہوں گے‘۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ’وفاقی کابینہ نے اوورسز پاکستانی اور بینکنگ میں وسیع تجربہ رکھنے والے عدنان غنی کو زرعی ترقیاتی بینک کا چیئرمین مقرر کیا ہے‘۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم اوورسز پاکستانیوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ملک کے دروازے ان کے لیے ہمیشہ کھولے ہیں اور وہ واپس آکر اپنا تجربہ استعمال کریں‘۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے فیصلوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’نصیر خان کاشانی کو گوادر پورٹ اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا‘۔

اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’مالیاتی ادارے کو ماضی میں شدید بحران کا سامنا رہا جس کے مارکیٹ شیئرز 100 فیصد سے کم ہو کر محض 28 فیصد رہ گئے تھے‘

انہوں نے بتایا کہ ’اسٹیٹ لائف کی ترقی کے لیے انتظامی سطح پر از سرنو نظام سازی کے لیے چیئرمین اسٹیٹ لائف کے منصوبے پر عملدرآمد ہو گا جس کے لیے اسٹیٹ لائف انشورنس کی یونین پر ’اسینشل سروس ایکٹ‘ کے تحت پابندی لگا دی گئی ہے‘۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ ’وفاق کو ملنے والے طبی ادارے شیخ زید ہسپتال اور کراچی کے جناح ہسپتال سے متعلق امور چلانے کے لیے کابینہ کو بریفنگ دی گئی‘۔

بعدازاں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’وزیرا عظم عمران خان 18 فروری کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں تاہم ان کی مصروفیات کے باعث یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا‘۔

’طالبان نمائندوں کے مذاکرات پاکستان میں ہوں گے‘

وفاقی وزیر نے افغانستان میں امن مذاکرات سے متعلق امور پر تصدیق کی کہ ’طالبان نمائندوں کے مذاکرات پاکستان میں ہوں گے‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خارجہ محاذ پر بے پناہ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور مسلم امہ کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔

’وزیر اعظم خود سعودی ولی عہد کا استقبال کریں گے‘

فواد چوہدر ی نے سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان انتہائی منفرد قرار دیتے ہوتے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان از خود سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا خود استقبال کریں گے۔ چوہدری فواد

انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کے دوران معاشی معاہدوں پر دستخط ہوں گے تاہم سعودی عرب گوادر میں 8 ارب ڈالر مالیت کی آئل ریفائنری لگائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے لئے ویزا فری پالیسی کا بھی کام کیا گیا ہے لیکن سعودی شہریوں کو پاکستان میں سیاحت کی سہولیات حاصل ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ سعودی ولی عہد کو پاکستان آمد پر 21 توپوں کی سلامی دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ میں سعودی ولی عہد کے دورہ کے دوران پانی وبجلی کے شعبہ میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی منظوری دی جائے گی

فواد چوہدری نے بتایا کہ بجلی کے 5 منصوبوں کیلئے ایک ارب 20 کروڑ 75 لاکھ ریال کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوں گے۔

علاوہ ازیں دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 37 کروڑ 50 لاکھ، مہمند ڈیم کے لیے 30 کروڑ، شونترمنصوبے کے لیے 24 کروڑ 75 لاکھ، جامشورو پاور پراجیکٹ کے لیے 15 کروڑ 37 لاکھ، جاگران ہائیڈرو پاورمنصوبہ کےلیے 13 کروڑ 12 لاکھ ریال ملیں گے۔