- الإعلانات -

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

اسلام آباد: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دو روزہ تاریخی دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے طیارے کا پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی شایان شان استقبال کیا گیا اور فضا میں ہی پاک فضائیہ کے ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے شاہی طیارے کو اپنے حصار میں لیا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان خان کا نورخان ایئربیس پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان، وفاقی کابینہ کے ارکان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستان میں سعودی سفیر نے پرتپاک استقبال کیا۔

سعودی شاہی مہمان کی آمد کے موقع پر ان کے استقبال کے لیے اسلام آباد شہر کی مختلف سڑکوں پر خیرمقدمی بینرز آویزاں کیے گئے ہیں جن پر استقبالی کلمات اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات پر مبنی کلمات درج ہیں۔

شاہی ڈاکٹرز، شاہی سیکیورٹی، شاہی اسٹاف پر مشتمل 235 رکنی ٹیم پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی ہے۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کی آمد

سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ کا استقبال شاہ محمود قریشی نے کیا — فوٹو: پی ٹی آئی آفیشل 

سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نور خان ایئربیس پہنچ چکے ہیں  جہاں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب سے 19 رکنی اعلیٰ سطح کا وفد 2 خصوصی طیاروں سے نور خان ایئر بیس پہنچا، مہمان وفد میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے قریبی ساتھی شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی وفد کو انتہائی سخت سیکیورٹی میں اسلام آباد پہنچا دیا گیا ہے جب کہ نور خان ایئر بیس کی سیکیورٹی ٹرپل ون بریگیڈ نے سنبھال لی ہے۔

کچھ دیر بعد نور خان ایئربیس پر سعودی ولی عہد کو اترتے ہی 21 توپوں کی سلامی دی جائے گی اور وزیراعظم عمران خان کابینہ سمیت ایئرپورٹ پر سعودی شہزادے کا پرتپاک استقبال کریں گے۔

سیکیورٹی انتظامات

سعودی وفد کو پانچ تہوں پر مشتمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

سعودی ولی عہد کے ذاتی استعمال کی اشیاء کے 80 کنٹینرز بھی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ذاتی استعمال کے لیے کچھ گاڑیاں سعودی عرب سے بھی پاکستان پہنچائی گئی ہیں۔

حکومت پاکستان نے وفد کے لیے 300 لینڈ کروزر گاڑیاں الگ سے حاصل کر رکھی ہیں۔

ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ائیر پورٹ سے وزیراعظم ہاؤس تک لے جانے کے لیے دو پلان بنائے گئے ہیں۔

ممکنہ طور پر وزیراعظم عمران خان سعودی ولی عہد کی گاڑی چلائیں گے یا پھر دونوں ہیلی کاپٹر کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس روانہ ہوں گے۔

سعودی ولی عہد کی پاکستان میں مصروفیات

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی وزیراعظم عمران خان سے ون آن ون ملاقات اور پھر وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوں گی۔

سعودی مہمان کی صدر پاکستان، چیئرمین سینیٹ اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقاتیں ہوں گی جب کہ محمد بن سلمان کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ بھی دیا جائے گا۔

سعودی ولی عہد کی سیکیورٹی کے لیے 123 شاہی محافظ پہلے سے ہی پاکستان میں موجود ہیں، وزیراعظم ہاؤس اور 8 نجی ہوٹلز کی سیکیورٹی پاک فوج کے سپرد کردی گئی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس میں سعودی ولی عہد کی ورزش کے لیے جم بھی تیار ہو چکا ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران سعودی سرمایہ کاری کی کئی مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے جائیں گے۔

چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پاکستان میں تیل و گیس، توانائی، پن بجلی، معدنیات، خوراک و زراعت کے شعبے میں طویل المدتی منصوبے شروع کرنا چاہتا ہے۔

مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد کہتے ہیں سعودی عرب دفاع اور سیکیورٹی کے شعبوں میں بھی معاہدے کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک سپریم کوآرڈینیشن کونسل بھی بنے گی جس کے سربراہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم عمران خان ہوں گے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی۔

اس کے علاوہ قطر، ملائیشیا، کوریا اور متحدہ عرب امارات بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔