Home » کالم » تاشفین اور میڈیا وار
uzair-column

تاشفین اور میڈیا وار

uzair-column

اس وقت پوری دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے ۔ایک کلک پر ہر چیز سامنے آجاتی ہے پھر سوشل میڈیا اتنا آگے جاچکا ہے کہ کسی بھی چیز کو چھپانا مشکل بات ہے ۔مگر حیران کن مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ ،یورپ بشمول کسی بھی کافر ملک میں اگر کوئی چڑیا بھی مرجائے تو اس کو دہشتگردی کاواقعہ قرار دیکر مسلمان ممالک پر چڑھائی کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا جاتا ہے ۔نائن الیون کامسئلہ ہو یا سیون /سیون یا پیرس میں قتل وغارت گری کا بازار گرم ہو یا پھر کیلیفورنیا کے سینٹر میں فائرنگ کاواقعہ ہو اس میں ایسے ایسے خود ساختہ پروف پیدا کرلیے جاتے ہیں کہ جن کے ڈانڈے مسلم ممالک سے جاملتے ہیں ۔گذشتہ روز لندن میں ایک ٹرین کے مسافروں پر نامعلوم شخص نے چاقو سے حملہ کردیا اسے بھی دہشتگردی کا واقعہ قرار دیدیا گیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں ۔اس میڈیا وار میں یقینی طور پر امت مسلمہ بہت پیچھے ہے ۔کیونکہ جتنا بھی انٹرنیشنل میڈیا ہے اس پر یہودیوںکی حکمرانی ہے ۔پھر ہمارا میڈیا بھی جس وقت بولتا ہے تو وہ بھی اتنا مادر پدر آزاد ہے کہ اس کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں یا قلم سے نکلے ہوئے الفاظ ملک وقوم کیلئے کتنے زہرناک ثابت ہوں گے ۔کچھ ایسا ہی واقعہ دہلی حملوں کے وقت پیش آیا تھا اور پھر اس پاک وطن کو کتنے کتنے مصائب بھگتنے پڑے وہ پوری قوم کے سامنے ہے ۔اسی طرح کیلیفورنیا میں ہونیوالی فائرنگ کے واقعے کو بریکنگ نیوز بنا کر پاکستان کیساتھ ہمارے مقامی میڈیا نے ہی اس طرح جوڑا کہ تاشفین کے آبائی گاﺅں تک کے بارے میں انکشافات کردئیے ۔جبکہ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے واضح طور پر بتایا کہ تاشفین کا خاندان ڈیرہ غازیخان سے 25سال قبل سعودی عرب منتقل ہوگیا تھا اور جو تاشفین کی زیادہ تصاویر سامنے آئی ہیں وہ جعلی ہیں ۔مغربی میڈیا کی من گھڑت خبروں کے پیچھے ایک خاص مقصد ہے ۔کسی ایک مسلمان کی غلط حرکت پر تمام مسلمانوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔تاہم تاشفین ملک سے متعلق معلومات عالمی قوانین کے مطابق شیئر کریں گے ۔کتنی اہم بات وزیرداخلہ نے کہی ہے کہ گذشتہ دنوں سے امریکہ یہ شور مچارہا ہے کہ تاشفین کی تصاویر مولانا عبدالعزیز کے ساتھ برآمد ہوئی ہیں ۔جبکہ وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ زیادہ ترتصاویر جو ہیں وہ جعلی ہیں ۔کفار کو تو صرف ایک بہانہ چاہیے ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ مسلم ممالک کو فکس کرے ۔پھر پاکستان تو ان کی آنکھوں میں شہتیر کی طرح کھٹکتا رہتا ہے ۔کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے اور ہماری مسلح افواج دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہیں ۔کفارکیلئے پاکستان ایک خطرے کی مانند ہے لہذا دنیا میں جو بھی چیز ملتی ہے اس کو کسی نہ کسی صورت میں پاکستان کیساتھ جوڑنا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔مولانا عبدالعزیز نے بھی کہا کہ وہ کسی تاشفین کو نہیں جانتے ۔انہوں نے توکبھی اپنی بیوی یا بیٹیوں کے ساتھ بھی تصاویر نہیں بنوائیں ۔مگر شاباش ہے اس مغربی میڈیا پر کہ جس نے رات بھر میں ایسی سازش تیار کی کہ لگا کہ جیسا دنیا میں کوئی بھونچال آگیاہے ۔یہاں پر ہم یہ ضرور کہیں گے کہ میڈیا کو بھی بالکل اتنا آزاد ہونا نہیں چاہیے کہ جو منہ میں اوردل میں آئے اس کو کہیں دیں ۔یا صفحات کے سپرد کردیں ۔کم از کم وطنیت کو ملحوظ خاطر رکھنا لازمی ہونا چاہیے ۔امریکہ میں اگر کرائم کو دیکھا جائے تو ہر منٹ کے بعد کوئی نہ کوئی خطرناک ترین واردات ہوتی ہے مگر مجال ہے کہ وہاں کامیڈیا کسی بھی ایسی خبر کو بریکنگ نیوز جو کہ اس کے خلاف ہو ۔گلف وار ہو یا اور کوئی وہ لوگ حملہ کریں تو پینٹا گون کے تحت صحافیوں کو بریفنگ دی جاتی ہے اور جہاں تک وہ جانے کی اجازت دیتے ہیں وہاں تک کی ہی خبریں باہر آتی ہیں ۔کسی بھی صحافی کو بولتے ہوئے یہ خیال رکھنا چاہیے کہ کیا اس کے یہ الفاظ ملک دشمن عناصر کیلئے فائدہ مند تو نہیں ثابت ہوں گے ۔اس بریکنگ نیوز کے فوبیا نے نہ صرف میڈیا کا ہی بلکہ ملک کا بھی بیڑہ غرق کرکے رکھا ہوا ہے ۔بریکنگ نیوز کا کوئی معیار ہی مقرر نہیں ۔اگر کہیں کسی نالے میں گائے بھی گرجائے تواس کو بھی بریکنگ نیوز کرکے چینلز کی سکرین کو لال ولال کردیا جاتاہے اوراگر کوئی خبر ہتھے چڑھ جائے تو اس کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔پرنٹ میڈیا میں باقاعدہ ادارتی بورڈ ہوتا ہے جو کہ ادارے کی پالیسی اور اس میںشائع ہونیوالی چیزوں کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے ان کی چھانک پھٹک کرتا ہے ،خبروں کو دیکھتا ہے پھر چیزیں شائع ہوتی ہیں ۔گو کہ الیکٹرانک میڈیا کیلئے بھی ضابطہ اخلاق موجود ہے ۔اب حکومت کو چاہیے کہ اس پر وہ باقاعدہ سختی سے عمل کرائے ۔ہم اس چیز کے قطعی خلاف نہیں کہ خبر نہ دی جائے ۔خبر ضرور دینا چاہیے کیونکہ اگر خبر گیری بھی نہ رکھی جائے پھر بھی حکمران سسٹم سے بالکل ہی آﺅٹ ہوجاتے ہیں ۔میڈیا ملک اور قوم کی آنکھ ہے اور وہ اسے لمحہ بہ لمحہ ہر تازہ خبر سے آگاہ رکھتا ہے ۔مگر خدارا اس وقت جو دنیا بھر کے حالات جارہے ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے خبر دینے سے یہ ضرور فیصلہ کرلینا چاہیے کہ جو بھی ہم کوئی بریکنگ نیوز دینے جارہے ہیں اس کے دور رس نتائج کیا برآمد ہوں گے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative