Home » کالم » تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنےوالوں کے مقاصد

تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنےوالوں کے مقاصد

حکمران جماعت تحریک انصاف کے جب سے سیف اللہ نیازی چیف ;200;گنائزر بنائے گئے ہیں پارٹی کے امور اور کارکنوں سے رابطہ مہم میں تیزی ;200;گئی ہے دوسری پارٹیوں سے نامی گرامی شخصیات تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہی ہیں جو کہ ایک اہم پیشرفت ہے ۔ تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنوں کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ ہوئی ہے کہ 2018 کے الیکشن سے پہلے حالات ایسے پیدا ہوگئے اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا کہ سب کو یہ لگنے لگا کہ تحریک انصاف ہی الیکشن جیتے گئی دوسری پارٹیوں سے پرانے ;200;زمودہ چہرے تحریک انصاف میں بھرتی ہوگئے پارٹی ایک اکٹھ سا بن کر رہ گئی اور پارٹی کا اپنا نظریاتی کارکن پیچھے دھکیل دیا گیا عمران خان وزیراعظم بن گئے اور حکومتی معمولات میں اتنے مصروف ہوگئے کہ ان کا براہ راست تعلق اور رابطہ پارٹی اور اپنے کارکنوں سے نہیں رہا لیکن سیف اللہ نیازی کے چیف ;200;گنائزر بننے سے توقع یہی ہے کہ ایک طرف مایوس اور ناراض کارکنوں کو پارٹی میں کردار دیا جائے گا اور پارٹی زیادہ فعال بنائی جائے گی جبکہ دوسری طرف پارٹی میں ایسے قابل، باکردار اور صاف ستھرے افراد شامل کیے جائیں گئے جن کا پاکستان اور پاکستان کی غریب عوام کے لئے کوئی کردار اور ماضی بے داغ ہو ابھی تک تحریک انصاف عمران خان کا دوسرا نام ہے جس کے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا میں چاہنے والے موجود ہیں لیکن اب یہ صورتحال تبدیل ہوجائے گی اب عمران خان وزیراعظم ہیں اور حکومت تحریک انصاف کی ہے اب عوام کے مسائل حل کرنے ہونگے حکومت کا ہنی مون پیریڈ ختم ہو رہا ہے نعروں اور دعوءوں کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔ سیف اللہ نیازی نے برطانیہ میں تحریک انصاف ;200;زادکشمیر کی تنظیم کو بھی تحلیل کردیا ہے ۔ بیرسٹر سلطان محمود کے پی ٹی ;200;ئی میں شمولیت سے قبل پاکستان تحریک انصاف یوکے کی مرکزی تنظیم صرف ایک ہی تھی پھر پی ٹی ;200;ئی ازاد کشمیر یوکے کی تنظیم کو پاکستان تحریک انصاف یوکے کی تنظیم سے الگ کردیا گیا تھا جس سے پاکستانیوں اور کشمیریوں میں باہم چپقلشیں ، اختلافات اور تقسیم پیدا ہوگئی تھی اب بیرسٹر سلطان محمود کے ساتھی اسی تنظیم کو دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں چیف ;200;رگنائزر کو برطانیہ کے کارکنوں کی طرف توجہ دینی ہوگی ۔ سیف اللہ نیازی کے چیف ;200;رگنائزر بننے کے بعد میرے جاننے والے کئی افراد تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں جن میں قابلِ ذکر متحدہ قبائل پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان انٹرنیشنل ہیومن راءٹس کے مرکزی صدر حبیب ملک اورکزئی ہیں قبائیل کے حقوق کے لئے جو اقدامات پی ٹی ;200;ئی نے اٹھائے ھیں ان کو دیکھ کر حبیب ملک نے ضروری سمجھا کہ اس جماعت میں شمولیت اختیار کی جائے انہوں نے اپنی پوری پارٹی تحریک انصاف میں ضم کر دی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ فاٹا کے پسماندہ علاقوں کو ترقی کی طرف لے جایا جا سکے ۔ فاٹا کے مسائل گونا گوں ہیں مگر این ایف سی ایوارڈ سے ہنگامی بنیادوں پر فاٹا کو ترقی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے بڑے بڑے مسا ئل میں تعلیم ، صحت کی سہولیات فراہم کرنا اور بنیادی انسانی حقوق کی کی بالادستی قائم کرنا ہے ،حبیب ملک اورکزئی ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اور سیلفمیڈ انسان ہیں ان کی زندگی 20 سال کی محنت پر محیط ہے ، وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے پاکستانی قوم کو ایک نئی سوچ دی ہے خان نے بطور سوشل ورکر اس قوم کے لئے بہت کچھ کیا ہے جو قابل ستائش ہے ۔ انہیں یقین ہے کہ بطور سیاسی لیڈر بھی وہ قوم کو مشکلات سے نکالے گا;46; وزیراعظم نے نے درست کہا ہے کہ فاٹا کی ترقی کے لئے دوسرے صوبوں کو اپنا تین فیصد حصہ دینا ہوگا حبیب ملک کو بحیثیت سوشل ورکر ہیومین راءٹس کے لئے کام کرنے اور فاٹا کے عوام کے لئے نمایاں خدمات سرانجام دینے پر پاکستان کا پہلا جناح یوتھ ایوارڈ بھی مل چکا ہے ان کے مطابق یہ قبائلی نوجوانوں کی لئے قابل فخر بات ہے ۔ گویا حبیب ملک اورکزئی کی وفاداری فاٹا کی عوام کے ساتھ مشروط ہے جن کے حل کے لئے انہوں نے تحریک انصاف جوائن کی ہے ۔ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں ;200;زادکشمیر کی تحصیل ڈڈیال میرپور سے چوھدری اظہر صادق بھی شامل ہیں وہ ;200;زادکشمیر کے سابق سنیر وزیر چوہدری محمد یوسف کے قریبی عزیز ہیں وہ نہایت باکردار، پڑھے لکھے اور نفیس انسان ہیں انکے خاندان کے افراد نہ صرف ;200;زادکشمیر میں بلکہ برطانیہ اور یورپ میں پاکستان کا بہت بڑا اثاثہ ہیں چوھدری اظہر صادق چوھدری محمد یوسف کی رحلت کے بعد انکے قائم کرددہ الحسن کالج کے نئے سربراہ ہیں جو صرف اور صرف ;200;زادکشمیر کے یتیم غریب اور نادار طلبا و طالبات کی تعلیم اور رہائش کا مفت انتظام کرتا ہے الحسن کالج کا سالانہ خرچہ کروڑوں روپوں میں ہے جو چوھدری اظہر صادق اور چودھری محمد یوسف مرحوم کے قریبی رشتہ دار دوست احباب اٹھاتے ہیں اور اس کالج سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا و طالبات پاکستان اور ;200;زادکشمیر کے تعلیمی اداروں میں نمایاں عہدوں پر فائز ہیں چودھری اظہر صادق جو خود سوشل ورکر ہیں وہ وزیراعظم عمران خان کے سوشل نیٹ ورک کو ;200;ئیڈیل لائز کرتے ہیں اور ;200;زادکشمیر میں تعلیمی اصلاحات چاہتے ہیں اور عمران خان کے ویژن کہ غریب امیر کے لئے ایک جیسی تعلیم ہونی چاہئے ایک نصاب ہونا چاہئے کہ زبردست حمایتی ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے دور حکومت میں ہی مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب پیش رفت ہو سکتی ہیں اسی لئے کشمیری عوام کو عمران خان کا ساتھ دینا چاہئے ۔ تحریک انصاف میں حالیہ دنوں میں شامل ہونے والے لندن کے ممتاز بزنس مین چودھری امین پوٹھی بھی ہیں انہوں نے اعلان کیا ہے کہ خود برطانیہ سے جاکر حلقہ چار کھڑی میرپور ;200;زادکشمیر سے ;200;ئندہ قانون ساز اسمبلی کا الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ نئے لوگ زیادہ بہتر طریقے سے کام کر سکتے ہیں چودھری امین پوٹھی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں برآمدات اور درآمدت کے ذریعے اضافہ چاہتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی مدد بیرون ملک سے اورسیزز پاکستانی زیادہ بہتر انداز سے کرسکتے ہیں ۔ لندن لوٹن سے بیرسٹر اسرار ملک بھی باقاعدہ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں وہ کوٹلی ;200;زادکشمیر کے حلقہ 1 سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں وہ ;200;زادکشمیر میں دو پارٹی نظام کے خلاف ہیں انکے خیال میں تحریک انصاف اب بھی تبدیلی کی جماعت بن سکتی ہے ۔ لندن اکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر یاسین الرحمان بھی تبدیلی کے حصار میں بری طرح مبتلا ہیں وہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو پاکستان کی تمام خرابیوں کی جڑ گردانتے ہیں اور عمران خان کو نجات دہندہ سمجھتے ہیں ڈاکٹر یاسین نے اگلے روز مجھے ایک انٹرویو میں موقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کی مخالفت میں میڈیا پر منفی خبریں چلائی جا رہی ہیں جس کا ملک کو نقصان ہو رہا ہے ۔ حیرانگی یہ بھی ہے حکومت کے خلاف تمام تر منفی خبروں کے باوجود پاکستان کے اہم ترین لوگ تحریک انصاف جوائن کر رہے ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative