Site icon Daily Pakistan

تحریک خالصتان کے عالمی ریفرنڈم

بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں اور مبینہ ہٹ دھرمی کے باعث خالصتان تحریک اب صرف پنجاب تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ دنیا کے کئی ممالک میں ایک فعال اور عالمی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ اس تبدیلی کے نمایاں محرکات اور عالمی سطح پر اس کے اثرات میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کی ہلاکت کے بعد کینیڈا اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا۔ اس واقعے نے خالصتان کے حامیوں کو بین الاقوامی سطح پر متحرک کیا اور مغربی ممالک میں سکھوں کے حقوق اور آزادی کے حوالے سے بیداری پیدا کی۔ کینیڈا، برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھارتی سفارتخانوں کے باہر خالصتان کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں، جس نے اس تحریک کو عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے خالصتان تحریک سے جڑے افراد اور تنظیموں پر پابندیاں لگانے کے دباؤ کے باعث کئی ممالک کی حکومتوں اور بھارت کے درمیان سفارتی کشمکش دیکھنے میں آئی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم نوجوان سکھوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے خالصتان کے حق میں ایک مؤثر ڈیجیٹل مہم چلائی ہے، جس سے اس تحریک کو عالمی سطح پر نئی نسل کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک میں "خالصتان ریفرنڈم” کے نام سے عوامی ووٹنگ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں ہزاروں کی تعداد میں سکھ کمیونٹی کے افراد حصہ لے کر آزاد خالصتان کے قیام کے حق یا مخالفت میں اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ سکھ رہنماوں، کارکنوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پنجاب کے بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار نے جو ابتدائی طور پر ایک اندرونی مسئلہ تھا ،اسے ایک عالمی سیاسی چیلنج بنا دیا ہے اور دنیا بھرمیںمقیم تارکین وطن سکھ اپنے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لئے سرگرم ہو رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی داخلی پالیسیوں اور پنجاب میں فوجی کارروائیوں سے بیرون ملک مقیم سکھوں خاص طور پر سکھوں کی بڑی آبادی والے ممالک میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ کینیڈا، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا میں سکھ کمیونٹی پنجاب، انسانی حقوق اور سکھوں کی سیاسی امنگوں سے متعلق مسائل پر موثر آواز بن کر ابھری۔ ٹورنٹو، وینکوور، لندن اور سڈنی جیسے شہروں میں سکھوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں دیکھی جاسکتی ہیں جنہوں نے اپنے خدشات کی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کرانے کیلئے احتجاج، آگاہی مہم اور دیگر اقدامات کئے۔ پنجاب میں اختلاف رائے کو دبانے کیلئے کیے گئے اقدامات نے بالآخر تارکین وطن سکھوں میں خالصتان تحریک کی حمایت کو تقویت دی۔ بھارت کی حکمت عملی نے ایک مقامی تنازعے کو ایک عالمی مسئلہ بنادیاہے کیونکہ سکھ تنظیموں اور کمیونٹی گروپوں نے بین الاقوامی فورمز اور حکومتوں اور انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ نتیجہ خیز سرگرمیوں سے بھارت پر سفارتی اور سیاسی دباو بڑھ گیا اور پنجاب کا مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا۔مبصرین نے کہا کہ سکھوں کی شناخت اور سیاسی بیداری گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پوری دنیا میں مضبوط ہوئی ہے، بیرون ملک مقیم سکھوں نے تاریخی یادداشت کو محفوظ رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے اور اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ بھارت بات چیت اور جمہوری طریقوں سے اقلیتوں کی شکایات کو دور کرنے میں ناکام رہا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں اندرونی بدامنی کس طرح بین الاقوامی تشویش کا معاملہ بن گئی جس سے طویل مدتی تناو پیدا ہوا جو بیرون ملک بھی دیکھاجاسکتا ہے۔ اختلاف رائے کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوششوں سے اکثر الٹے نتائج برآمد ہوتے ہیں، یہ مزاحمت کو ہوا دیتی ہیں اور حمایت کو متاثرہ علاقے سے باہر تک پھیلاتی ہیں۔ عالمی سطح پر سکھوں کی سرگرمیاں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ حل طلب سیاسی شکایتیں سرحدیں عبورکرکے بین الاقوامی مسائل بن سکتے ہیں۔تحریکِ خالصتان سکھ قوم کی بھارتی پنجاب کو، بھارت سے الگ کر کے ایک ؛آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک ہے۔ سکھ زیادہ تر بھارتی پنجاب میں آباد ہیں اور امرتسر میں ان کا صدر مقام ہے۔ 1980 کی دہائی میں میں خالصتان کے حصول کی تحریک زوروں پر تھی جس کو بیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی امداد حاصل تھی۔ بھارتی حکومت نے آپریشن بلیو سٹار کر کے اس تحریک کو کچل ڈالا۔ کینیڈا میں مقیم سکھوں پر یہ الزام بھی لگا کہ انھوں نے بھارتی مسافر طیارہ اغوا کر کے تباہ کر دیا آج موجودہ دور میں بی جے پی کی حکومت میں سکھوں پر مظالم اور بڑھ گئے ہیں مودی حکومت نے مشرقی پنجاب کے سکھ کسانوں پر نئے قانون کے ذریعے ان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی دوسری جانب اب سکھ قوم کے نوجوان آزادی کے لیے کوششیں کر رہئے ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کے مستقبل میں آزاد خالصتان سکھ قوم کا مقدر ہو گا۔بھارت کی ریاست پنجاب و ہماچل پردیش میں سکھ قوم اکثریت پسندوں کی آزاد سکھ جمہوری ریاست قائم کرنے اور مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کی پرزور قومی اور بین الاقوامی تحریک ہے۔

Exit mobile version