Home » کالم » تنقید کے یہ گولے کب تک

تنقید کے یہ گولے کب تک

پاکستانی عوام مہنگائی سے نیم جان اور نیم پاگل ہو رہی ہے ہر طرف زبانی کلامی نعروں اور دعوووَں کا دور دورہ ہے‘ دنیا آگے کی طرف جارہی ہے اور پاکستانی قوم کوکسی کام کی بجائے دھرنوں دھکوں پر مجبور کیا گیا ہے اور نظام کی لاچاری اس قدر ہے کہ منڈی کے نرخ بھی خود متعین نہیں کر سکتے ہیں اور اس کیلئے سات سمندر پار کے محتاج ہیں سامراج کا قانون نافذ ہے اور آئی ایم ایف کا ڈنڈا چل رہا ہے جس نے عوام کی کمر توڑدی ہے اور پورے پاکستان کو ایک ٹانگ پر کھڑا کر دیا ہے مہنگائی نے غریبوں کی پیٹھ پر ایسی ضرب لگائی ہے کہ غریب کی ہڈی پسلی ایک ہوگئی ہے ۔ جو عوام کے منتخب نمائندے ہیں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ سابقہ حکومت کی کارستانی ہے جو خزانہ کوکنگال کر کے گئی ہےدوسری طرف یہ خبریں آرہی ہیں کہ حکومت بجلی گیس تیل پٹرول اور اشیائے خوردنی میں ہر دوسرے دن اضافہ کرکے حکومت اس مد میں بھی روزانہ کھربوں روپے کمارہی ہے مگر یہ بتانا کوئی گوارا نہیں بتاتا کہ یہ اربوں ڈالر اور کھربوں روپیہ کون کھا رہا ہے اور یہ ڈالر کس کے پیٹ میں جا رہا ہے ۔ ملک میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے چھ ارب ڈالر کی منظوری منت سماجت اور سخت ترین شرائط پر دے دی ہے اور ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط بھی جاری کرنے کی نوید ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت کومبارک ہو، ہر طرف سے دوست ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین نے بھی اربوں ڈالر کا قرضہ دیا اور اس کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہوا اور قطرکے شیخ نے بھی تین ارب ڈالردینے کا معاہدہ کیا لگتا ایسے ہے جیسے ڈالروں کی برسات ہو رہی ہے ۔ اربوں ڈالر کو روپوں میں گننا شروع کریں تو عمر حضر چائیے ۔ حکومت کا سر روپوں سے اور دھڑ ڈالروں میں دھنسا ہوا ہے لیکن کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ وزیراعظم‘ وزراء‘ گورنرز‘ وزرائے اعلیٰ اور ارکان اسمبلی یہی کہتے رہتے ہیں کہ خزانہ خالی ہے ۔ انفرادی طور پر قوم کاہر فرد ملک کیلئے قربانی دیتا ہے اور ملک کی ترقی کیلئے نیک خواہشات کی تمنا رکھتا ہے لیکن کیا کیا جائے نظام کہ ہمیشہ وہ آڑے آجاتا ہے اور عوام کی خواہشات کو دباتا ہے اور ان کی آرزوءوں کا خون کرتا ہے اور ان کی تمناءوں کو مٹاتا ہے فاسد نظام نے ہر فرد کوآلودہ کردیا ہے بددیانتی اس کی خمیر میں شامل ہوگئی ہے بھوک سے قوم کا تعلق جڑ گیا ہے اور بد دیانتی ہمارا تعارف بن گیاہے حالانکہ اس ملک سچائی پھیلانے اور عدل اور انصاف پر مبنی نظام اور اعلیٰ اخلاق کو بلند کرنے کیلئے بنا تھا لیکن یہاں کرپشن نافذ کی گئی ہے چونکہ مسلطہ نظام سرمایہ پرستی، نفس پرستی، سفلیت پرستی اور جاہ پرستی کے جراثیموں سے آلودہ ہے اس لیئے ہمارا معاشرہ حیوانی گروہیت کا منظرپیش کر رہاہے ہماری سیاست، معیشت اور تجارت مفلوج ہیں مادہ پرستی ہر شخص کی خمیر میں شامل ہوگئی ہے دوسروں کو دہوکہ دیناہر شخص کا نصب العین بن گیا ہے اور جھوٹ بولنے کی رواےت عام ہوگئی ہے ہر طرف دہونس اور دہاندلی ہے اور اخلاقی بگاڑ کا عالم ہے اور جھوٹ کو فروغ مل رہاہے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جھوٹ بولا جارہاہے بڑے لوگ جھوٹ بھی بڑے پیمانے پر بولتے ہیں ِاوراور جو چھوٹے حیثیت کے حامل ہیں ان کے جھوٹ کا پیمانہ بھی ذرا چھوٹا ہوتا ہے ۔ یہ امر لائق غور ہے کہ مذہبی کارڈ استعمال کرنے والے عناصر سرمایہ دارانہ نظام کو مذہب کا محافظ سمجھتے ہیں اور مقدس روایات اور مذہبی اقدار کو اپنے مذموم عزائم کیلئے استعمال کرتے ہیں اور فاسد نظام کا ایک ناکارہ پرزہ بن کر وہ جادووہ جو سر چڑھ کر بولے کے مصداق بنے ہوئے ہیں اور بڑی چابکدستی کے ساتھ عوام کو دھوکہ دینے پینترے بدلتے ہیں اور مکر اور فریب کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کی وجہ سے اور اس قبیل کے دیگر سیاست دانوں کی وجہ سے ملک فرقہ واریت اور ہیروئن کلچر کے لپیٹ میں ہے دینی فلسفے کا پھلاءو رک گیا ہے اور خود غرض سیاست دانوں کی گمراہانہ ذہنیت نے پوری قوم کو جہنم کے گڑھے میں ڈالدیا ہے ۔ پاکستانی عوام سچے ہیں ، وہ محب وطن بھی ہیں ان ہمدردی بھی ہے اور وہ قربانی اور ایثار کے جزبہ سے سرشار ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہم پر مسلطہ نظام جھوٹا ہے جس نے ہم سب کو جھوٹا بنادیا ہے دیکھا جائے تو پورا معاشرہ شیطان کے جال میں پھنس چکا ہے کھا جاتا ہے کہ ہم نے بڑی ترقی کر لی ہے لیکن دیکھا جائے تو ترقی جھوٹ کی ہوئی ہے فاسد نظام کی وجہ سے فحاشی کو فروغ دیا جارہاہے تاکہ قوم کا ہر فرد فحاشی میں مبتلا ہوکر مغلوبیت کا شکار ہوجائے، ہر طرف گروہ بندی اور فرقہ واریت عام ہے چور بازاری ہے اور دو نمبر اشیائے صرف کی تیاری اور خرید وفروخت ہورہی ہے اور پرسان حال کوئی نہیں ہے غلط نظام نے حقیقی دین پر پردے ڈالدئے ہیں اور صرف رسم سامنے نظر آرہاہے آج ہ میں دین کی روح سے واقفیت نہیں ہے جو شخص اعلانیہ دو نمبر کی اشیاء فروخت کرتا ہو اور بے ایمانی اور دہوکہ اس کا شیوہ ہو ا اس کی نیکی کی کیا حیثیت ہوگی;238; ۔ میڈیا سب کو بے نقاب کر رہا ہے یہ عوام کے خیرخواہ ہر وقت لٹھ لیکر ایک دوسرے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور تنقید کے گولے ایک دوسرے پر پھینکے بغیران کو چین نہیں آتاہے مگر مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے ۔ ‘‘ صرف تنقید کی گولہ باری ان کا مشغلہ ہے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا اورایک دوسرے کو تضحیک کا نشانہ بنانا ان کا شیوہ ہے در اصل جھوٹ بولنے سے وہ اپنی ساکھ بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں فی الحقیقت اگر عوام کیلئے کچھ کرتے اور ڈالروں کی برسات میں عوام کو احتجاج‘ مظاہرے‘ ہڑتال‘ بیان اور دھرنوں کی ضرورت نہ پڑتی ۔ عوام بے چارے ٹیکس دیتے ہیں اورحالت ان کی دن بہ دن کمزور ہوتی جارہی ہے ، آخر ان ڈالروں اور کھربوں روپوں سے کون سا فلاحی‘ عوامی اور ترقیاتی کام کیا جا رہا ہے;238; یہ ساری دولت ان کاموں پر خرچ ہوتی بھی تو دکھائی کیوں نہیں دیتی;238;اور یہ خوشحالی کس بلا کا نام ہے اگر یہ موجود ہے تو اس کے کے آثار نظر کیوں نہیں آتے;238; اور لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ تنقید کے یہ گولے کب تک;238; ۔ ۔ ۔ ۔ کیامسائل کا کوئی حل بھی ہے

About Admin

Google Analytics Alternative