Home » کالم » توانائی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کی ضرورت
edaria

توانائی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کی ضرورت

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی توانائی کے شعبہ میں اس قدر بھاری سرمایہ کاری نہیں ہوئی حکومت صرف توانائی کی قلت کو پورا کرنے پر ہی توجہ نہیں دے رہی بلکہ مستقبل میں بجلی کی طلب کو پورا کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے ۔ بجلی کی پیداوار میں اضافے سے اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع کی فراہمی ، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی فروغ حاصل ہوگا ۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں تمام جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے خود نگرانی کریں گے اور موقع پرجاکر ان منصوبوں کا معائینہ بھی کریں گے ۔ مارچ 2018 تک مجموعی طورپر 11 ہزار 131 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تمام جاری منصوبوں کے مطابق ٹرانسمیشن لائن کے منصوبے آن ٹریک ہیں ان منصوبوں پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا ہے جب توانائی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ گئے تو ملک میں ترقی اور روزگار کے دروازے کھلیں گے لیکن اس وقت توانائی بحران کا یہ عالم ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ صارفین کا مقدر بن چکا ہے جس سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے دن رات کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ عوام الناس کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی جو نوید سناتی چلی آرہی ہے وہ اپنی جگہ درست ہوگی لیکن اس وقت صورتحال گھمبیر رخ اختیار کیے ہوئے ہے ریاست کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ لوگوں کو مسائل و مصائب کے گرداب سے نکالے ان کا معیار زندگی کو بلند کرے اور ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے ۔ عوام کے جان و مال کی حفاظت بھی ریاستی ذمہ داری ہے لیکن حکومتی دعوﺅں کے باوجود ملک میں اقتصادی بدحالی کارونا روایا جارہا ہے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں ۔ غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور مہنگائی ہے کہ مسلسل بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ معاشی ترقی کا خواب اس وقت پورا ہوسکتا ہے جب ملک سے بدعنوانی ختم ہوگی اور کرپشن کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے گا اب تو حال یہ ہے کہ ہر طرف کرپشن کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں اور سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں جب اس طرح کی صورتحال ہوتو ملک میں سیاسی استحکام کس طرح پیدا ہوسکتا ہے ۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان واضح خلیج مسائل کے ادراک میں رکاوٹ ہے ۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور ان کے تحفظات کو دور کرے لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ برداشت کے جمہوری کلچر کو نہیں اپنایا جارہا جس سے سیاسی کھینچا تانی بڑھ رہی ہے اور ہماری طرز حکمرانی کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ اس میں سیاسی سدھ بدھ اور بصیرت کے علاوہ برداشت کے جمہوری کلچر کا فقدان ہے جس سے محاذ آرائی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے سیاسی عدم استحکام کا مسئلہ حل کرے اس کے بغیر ملک میں ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جہاں تک جاری منصوبوں کا تعلق ہے ان کو بروقت پایہ تکمیل پہنچانا اور ان منصوبوں میں شفافیت برقرار کھنا حکومتی ذمہ داری ہے۔ بلا شبہ جب توانائی کے جاری منصوبے مکمل ہونگے تو بجلی کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور ترقی بھی ہوگی ضرورت اس امر کی ہے کہ ان منصوبوں کے ثمرات کیلئے ان کی نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملک توانائی کے بحران سے نکل سکے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
الطاف حسین کے خلاف ریفرنس
 پاکستا ن نے الطاف حسین کے خلاف باقاعدہ ریفرنس برطانوی حکومت کو بھیج دیا ۔ قائد ایم کیو ایم کی تقریر اور عوام الناس کوتشدد کیلئے اکسانے اور بدامنی پھیلانے کے شواہد بھی برطانیہ کو مہیا کردئیے گئے ہیں ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین نہ صرف برطانوی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا ان کے خلاف برطانوی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی میں بھی مذمتی قرار داد جمع کروائی گئی ہے 22 اگست کو الطاف حسین کی زہر آلود تقریر نے جو آگ لگائی اس کے شعلے آج بھی محسوس ہورہے ہیں متحدہ کے قائد کی ہرزہ سرائی اور یاوہ گوئی نے ایم کیو ایم کے عزائم کو آشکار کردیا اور اس کی حب الوطنی پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ۔ الطاف حسین کی تقریر کا ردعمل اتنا شدید ٹھہرا کہ ایم کیو ایم کے غیر قانونی دفاتر سیل اور مسمار کردئیے گئے اور سیاسی افق پر جو طوفان اٹھا اس کے نتیجہ میں حکومت نے برطانوی حکومت کو الطاف حسین کے خلاف کارروائی کا ریفرنس بھیجا ہے اس ریفرنس کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا اب برطانوی حکومت اس ریفرنس کا جائزہ لے کر ہی کارروائی کرے گی ادھر پاکستان کی سیاسی رہنماﺅں کا شدید ردعمل ہے اور حکومت کو بھی متحدہ کے قائد کے خلاف کارروائی کرنے میں کسی مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے ۔ الطاف حسین نے پاکستان مخالف نعرہ لگا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ جذبہ حب الوطنی سے بے نیاز ہے ایسے غداروں کیخلاف سخت ترین کارروائی ضروری ہے تاکہ آئندہ کوئی شخص پاکستان مخالف ہرزہ سرائی کی جرا ¿ت نہ کرسکے۔
حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں تناﺅ
کسی بھی جمہوریت میں اپوزیشن کے کردارسے انکارنہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اپوزیشن ہی برسراقتدار حکمرانوں کو ان کی خامیوں پر بذریعہ تنقید راہ راست پر لانے کا کردار ادا کرتی ہے اور ان کی خامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں مثبت طریقے سے عوامی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی کے لئے راست اقدامات کی طرف لاتی ہے۔ ہمارا ملک دنیا میں اقتصادی اور معاشی طورپر نمایاں مقام رکھنے والے دوست چین کے ساتھ ملکی ترقی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں امن و امان اور یکجہتی کا مظاہرہ کر کے دنیا کو یہ تاثر دیا جائے کہ ہمارے ملک کے عوام ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے سیاستدان خواہ وہ حکمران طبقے سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہیں وہ ایک دوسرے کی ذاتیات پر تنقید کر رہے ہیں ¾ دھرنے ¾ مارچوں اور مظاہروں کے ذریعے عوام کو سڑکوں پر لاکر دنیا کو منفی پیغام دے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے ساتھ ساتھ ہمارا ملک دنیا بھر میں اپنی ساکھ کی بقا کے لئے کامیاب جنگ لڑ رہا ہے۔خدارا ایسے نازک حالات میں اپنی ذاتی انا کی تسکین کی خاطر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے ملک کی ترقی اور سلامتی اور امن و امان کے لئے مل کر کام کریں اور دنیا کو یہ تاثر دیں کہ ہم ایک قوم ہیں اور ملک کی سلامتی کے لئے اپنے ذاتی مفادات کو بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرینگے۔

About Admin

Google Analytics Alternative