جامعہ گجرات کے شعبہ سوشیالوجی کے زیر اہتمام”عالمی یوم خواتین“ کے حوالہ سے طلبہ واک کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا۔

66

گجرات(عامربیگ مرزا سے)جامعہ گجرات کے شعبہ سوشیالوجی کے زیر اہتمام”عالمی یوم خواتین“ کے حوالہ سے طلبہ واک کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد فہیم ملک اور ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر فوزیہ مقصود کی قیادت میں مختلف شعبہ جات کے طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے واک میں پرجوش شرکت کرتے ہوئے تحفظ حقوق نسواں کے لےے عملی جدوجہد کا عزم کیا۔ طلبہ نے اپنے اساتذہ، صدور شعبہ جات اور چیئر پرسنوں کی ہمراہی میں خواتین کی عظمت و سربلندی اور معاشرتی و سماجی سطح پر ان کی اہمیت و حرمت کے حوالہ سے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے واک میں شرکت کی۔ واک کے شرکاءنے اکڈیمک بلاکس کا دورہ مکمل کرتے ہوئے عالمی یوم خواتین کے حوالہ سے الفارابی بلاک کے سامنے ایک تقریب میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد فہیم ملک نے کہا کہ اسلام مرد وعورت دونوں کو یکساں حقوق عطا کرتے ہوئے سماجی مساوات کا علمبردار ہے۔ مہذب معاشروں میں عورت سراپائے تکریم و عزت ہے۔ یورپ میں حقوق نسواں کی تحریک کا آغاز سوسال پیشتر ہوا مگر اسلام نے آغاز دین کے ساتھ ہی خواتین کی عزت و تکریم کی تحریک کو سربلند کر دیا تھا۔ بانی¿ اسلام حضرت محمد نے اپنے قول و فعل کے ذریعے خواتین کے احترام اور حقوق نسواں کے تحفظ کو عملاً ثابت کر دکھایا۔ خواتین کو ان کے جائز مقام و مرتبہ سے سرفراز کرنا ہر سچے مسلمان کا اوّلین فریضہ ہے۔ عورت بحیثیت انسان اور بحیثیت سماجی رشتوں کے ہمارے لےے قابل تکریم ہے۔ خواتین کو ان کے جائز وراثتی حقوق مہیا کرتے ہوئے معاشرتی، سماجی اور معاشی مساوات کے تصور کو شرمندہ ¿ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ مقصود نے کہا کہ نوجوان طلبہ میں حقوق نسواں سے روشناسی وآگاہی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ تعلیم، صحت، سیاست اور معیشت کے حوالہ سے خواتین کی مکمل شراکت پاکستانی معاشرہ کی کامیابی کا باعث ہو گی۔ پاکستان میں معاشرتی و سماجی فلاح و بہبود کے کئی امکانات ہنوز تشنہ لبی کا شکار ہیں۔ فلاح معاشرہ کے لےے خواتین کی خدمات کو تسلیم کرنا ہی سماجی عظمت ہے۔ خواتین کسی بھی معاشرہ کی بہترین معمار ہیں۔ مثبت اقدار کی حرمت و پاسداری کا سبق ہی اصلاً حقوق نسواں کے تحفظ کا ضامن ہے۔ صدر شعبہ سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات ڈاکٹر محمد مشتاق نے کہا کہ ترقی پذیر معاشروں میں خواتین کے مسائل کی جڑ لاعلمی اور جہالت ہے۔ دین اسلام میں خواتین کے حقوق کا تعین بہترین انداز میں کیا جا چکا ہے۔ رسول اکرم نے خواتین کی تکریم و عزت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے تمام مسلم امہ کے لےے تحفظ حقوق نسواں کا لائحہ عمل طے کر دیا تھا۔ اسلامی تعلیمات پر صحیح معنوں میں عمل پیرائی اصلاً حقوق نسواں کا ادراک ہے۔