جج انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں

12

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں کرائم کو روکنے کےلئے تین چیزیں اہم ہوتی ہیں جو کرائم کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ نمبر ایک مذہب ، نمبر دو سماج ، نمبر تین قانون ۔ یہ تینوں میں سے اگر کوئی ایک کام کر رہا ہے تو وہاں کرائم کی تعداد کم ہوتی ہے ۔ مذہب خواہ کسی کا کوئی بھی ہو اگر وہ اپنے مذہب پر عمل پیرا ہے تو ایسا شخص کرائم سے دور رہتا ہے ۔ کیونکہ ہر مذہب کرائم کرنے سے اسے منع کرتا ہے ۔ اسی طرح سماج بھی اسے کرائم سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کرتاہے ۔ کرائم اس لئے نہیں کرتے کہ جس سوساءٹی جس سماج میں رہتے ہیں وہ اسے برا سمجھتے ہیں ۔ لہٰذا سماج کی نفرت کے ڈر سے بھی لوگ کرائم سے دور رہتے ہیں ۔ نمبر تین قانون ہے جو انسان کو کرائم سے روکتا ہے ۔ ہر کوئی کرائم اس لئے نہیں کرتا کہ وہ کئی قانون کی زد میں نہ آ جا ئے اور اسے سزا نہ ہو جائے اور جیل نہ چلا جائے ۔ لہٰذا قانون کی سزائیں بھی انسان کو کرائم سے دور رکھتی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر;230; کے دور میں ایک شخص روٹی چراتے ہوئے پکڑا گیا ۔ اسے آپ کے پاس لایا گیا ۔ آپ نے اس چور کے حالات جانے کہ اس کو چوری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ پتہ چلا کہ وہ چور بےروز گار تھا ، غریب تھا ، لوگوں نے اور حکمرانوں نے اس کی مدد نہ کی تھی ۔ آپ نے اسے فوری چھوڑ نے کا حکم صادر کیا ۔ ساتھ میں اس چور کو قومی خزانے سے اس کا وظیفہ دینے کا حکم بھی صادر کیا ۔ آج ایسا انصاف کسی اسلامی ملک میں ہوتے ہوئے نہیں سنا ۔ مگر ایسے ملک میں چوری کا واقعہ پیش آیا جہاں اسلام نافذ نہیں ہے ۔ مگر اسلام کے بتائے گئے اصولوں پر جج نے انصاف دیا ۔ یہ واقعہ امریکہ کی سٹیٹ ٹیکساس کی ایک عدالت کا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک پندرہ سالہ میکیکن نژاد شہری ایک اسٹور سے بریڈ اور چیز چوری کرتے ہوئے اسٹور کے گارڈ نے اسے پکڑا اور پولیس کے حوالے کیا ۔ گارڈ نے پولیس کو بتایا کہ اس کی مذمت پر چور کو پکڑتے ہوئے اسٹور کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ۔ مقدمہ عدالت میں چلا ۔ جج نے اس چور کو فرد جرم سنائی ۔ پھر جج نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے اس اسٹور سے بریڈ اور چیز چوری کی تھی ۔ لڑکے نے ہاں میں جواب دیا کہا جج صاحب میں نے ایک بریڈ اور پنیر کا ایک پیکٹ چوری کرنے کی کوشش کی تھی ۔ میں اس کا اعتراف کرتا ہوں ۔ جج نے پوچھا تم نے یہ چوری کیوں کی ۔ اسے تم خرید لیتے ۔ لڑکے نے کہا میرے پاس خریدنے کو پیسے نہیں تھے ۔ جج نے کہا گھر والوں سے لے لیتے ۔ جواب دیا گھر پر میری بیمار والدہ ہے ۔ اس کے پاس بھی پیسے نہیں تھے اور میں بےروز گار بھی تھا ۔ جج نے کہا کام کیوں نہیں کرتے کہا میں ایک کارواش پر کام کرتا تھا ایک دن کی چھٹی کی توباس نے مجھے نوکری سے فارغ کر دیا ۔ جج نے کہا تم اتنی رقم کسی سے مانگ لیتے ۔ کہا میں صبح سے مانگ رہا تھا مگرکسی نے میری مدد نہیں کی ۔ جج کی جرح جب ختم ہوئی تو جج نے فیصلہ سنانا شروع کیا ۔ کہا چوری اور پھر خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے اور ا س جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں ۔ عدالت میں موجود ہرشخص ، مجھ سمیت اس چوری کا مجرم ہے ۔ یہاں پر موجود ہر فرد اور خود پر دس ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں ۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا ۔ یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے دس ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے ۔ پھر جج نے کہا اس کے علاوہ اسٹور انتظامیہ پر ایک ہزار ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے اس کو پولیس کے حوالے کیا ۔ اگر انتظامیہ نے چوبیس گھنٹے میں جرمانہ ادا نہ کیا تو اسٹور کو سیل کر دیا جائے گا ۔ جج کے آخری ریمارکس یہ تھے کہ اسٹور انتظامیہ اور حاظرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے ، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے ۔ کہا جاتا ہے جج صاحب کے اس فیصلے سے ہر آنکھ اشکبار تھی ۔ اس لڑکے کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں اور یہ بار بار جج کو گارڈ گارڈ کہہ کر پکار رہا تھا ۔ یہ سچ ہے کفر والے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے ۔ وہاں ججز اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے دکھائے دیتے ہیں ۔ کسی بھی سوساءٹی میں جج، اساتذہ اور مذہبی پریچر کا رول بہت اہم سمجھا جاتا ہے ۔ جہاں یہ تینوں اپنا رول ادا نہیں کرتے وہاں کرائم سر اٹھاتے دکھائی دیتا ہے ۔ استاد کا کام ماں باپ جیسا ہے تعلیم کے ساتھ تربیت دینا ہے ۔ اچھے برے کی پہچان کرانا ہے ۔ اسی طرح پریچر کا کام لوگوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق بھلائی کی طرف لانا ہے ۔ مذہب کی اچھی باتیں بتانا ہیں ۔ اسی طرح جج کا کام ہے کہ کسی بھی مجرم کو کسی بھی داد رسی لینے والے کو انصاف کے ساتھ عدل بھی فراہم کرنا ہے ۔ لوگ جج سے نہیں قانون سے ڈریں ۔ لوگوں کو انصاف ہوتا ہوا دکھائی دینا جج کی ذمہ داری ہے لیکن دنیا میں اکثر جج دوران سماعت چیخ چیخ کر ملزم سے پوچھتے ہیں یا اس کے وکیل کو بے توقیر کرتے ہیں ذلیل کرتے ہیں ۔ ایسے نادان جج سمجھتے ہیں کہ ہم عدالت میں آنے والوں کو بے عزت بے توقیر کر کے عدالت سے ڈراتے ہیں ۔ مگر کہا جاتا ہے کہ ججز کے ایسے رویوں سے منفی سوچ کے ساتھ معاشرے میں بےگاڑ پیدا ہو تاہے ۔ اگر ہر کوئی اپنی حدود میں رہے قانون اور رولز کے مطابق کام کرے تو کسی کو بے توقیر کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو ۔ ہمارے ہاں ماضی میں چند ایک ججز نے عدالت میں بیٹھ کر سائل اور وکلا کو بے توقیر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تھاتو اس کا انجام یہ ہوا کہ یہی جج بعد خود بھی دوران کورٹ بے توقیر ہو تے رہے ۔ کسی کو بے توقیر کرنا خدا کو بھی پسند نہیں ۔ کہا جاتا ہے سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے جج کو سائل ،وکلاکو بے توقیر کیا کرتے تھے ۔ پھر ہم نے انہیں خود بھی بے توقیر ہوتے ہوئے دیکھا ۔ لہٰذا ہ میں ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے ۔ اگر کوئی وکیل تیاری کر کے نہیں آتا تو اس کا کیس جو فائل بتا رہی ہے ۔ اس کے مطابق جج کو چاہیے کہ وہ فیصلہ کر دیا کریں ۔ جج کو اس کیس کا فیصلہ وکیل کے رویے سے نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی جج کو کسی وکیل کی تذلیل کرنی چائیے ۔ سب سے اہم یہ ہے کہ کیسوں کے فیصلے قانون کے مطابق ہوں اور جلد ہوں ۔ جیسے سپریم کورٹ بار کے پلاٹوں کا کیس ہے یہ چار سالوں سے چل رہا ہے ۔ اب ایک ماہ سے وکلا اپنے کیس کے فیصلہ کا بے چینی سے انتظار کر ر ہے ہیں ۔ کیس کو پیار سے سننا اور کیس کا جلد فیصلہ کرنا بھی نیکی کا کام ہے ۔ اسے کرتے رہنا چائیے ۔