Home » کالم » جنوبی ووسطی ایشیا میں امریکا ،خطرات اورخدشات کی زدمیں

جنوبی ووسطی ایشیا میں امریکا ،خطرات اورخدشات کی زدمیں

چین کے ون’’بلٹ ون روڈ‘‘جیسے میگا منصوبہ نے جنوبی ایشیا سمیت بحریہ عرب خلیج فارس اور گلف آف اومان کے اس پورے خطہ میں بہت ہی مستحکم گریڈ گیم کی بنیاد رکھ دی ہے چین کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت اور پاکستان کی نمایاں ہونے والی نئی سیاسی وسفارتی جزئیات نے ماضی کے عالمی ٹھیکیدار امریکا کو کئی جہتوں میں پینترے بدلنے والی کیفیت میں لاکھڑا کیا ہے شرپسند بھارت ٹوٹتی اورمنتشر ہوتی ہوئی عالمی سرکار کی تھپکی میں بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو اپنی کوئی کامیابی سمجھ رہا ہے؟ یہ اْس کی بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ امریکا مودی کی نااہلیت کو سمجھ چکا ہے اندر سے نئی دہلی سے سخت ناراض امریکا یہ جانتا ہے کہ روس سے مہلک آبدوزوں کا سودا کرنے سے پہلے نئی دہلی نے امریکا کو اعتماد میں نہیں لیا لہٰذا جنوبی ایشیا کی چوکیداری کی پگڑی اب بھارت کے سر پر آنے سے رہی، کیونکہ امریکا اتنا بیوقوف نہیں وہ جانتا ہے کہ جنوبی ایشیا کی چوہدراہٹ بھارت کو وہ کیا دے گا اب تو اس خطہ میں امریکا کے لئے کئی انواع کی مشکلات کھڑی ہوچکی ہیں کیونکہ پاکستان اور چین ایک مستحکم قوت بن چکے ہیں جبکہ عقل و خرد سے عاری سیاسی تدبراورسفارتی حکمت عملی سے یکسر محروم امریکی صدر ٹرمپ نے چند ماہ پیشتر فوکس ٹی وی سے انٹرویو کے دوران پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے امریکی امداد کے باوجود امریکہ کیلئے کچھ نہیں کیا ہم نے پاکستان کی امداد بند کردی اب ایسا نہیں چلے گا قارئین یاد رکھیں یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے افغانستان کے حوالے سے سخت تنقید کی ہواس سے قبل جب بھی کسی فورم پر وہ افغانستان میں امریکی فرسٹریشن سے مغلوب ہوکر اسی طرح کے حماقت خیز بیانات دیتے نظرآئے ہیں تو اصل میں اْن کے یہ مبینہ بیانات امریکی مائنڈ سیٹ کی ترجمانی کرتے ہیں ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف بیانات ایک جانب دراصل ان کی مایوسی کی عکاس ہیں تو دوسری طرف ان کے ایسے متعصبانہ خیالات فرسٹریشن کے آئینہ دارہوتے ہیں کیونکہ افغانستان میں سترہ سال سے جاری جنگ میں تمام تر قوت اور جنگی حکمت عملی اختیار کرنے کے باوجود امریکہ کو افغانستان کے خاک نشین طالبان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے لیکن اْس کا یعنی امریکا کا دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کا غرور اور اس کی انا اْسے یہ عبرتناک شکست تسلیم کرنے سے مسلسل روکے ہوئے ہے مگر اس سے امریکا کو کیا فرق پڑتا ہے جیسے ویت نام ویسے ہی افغانستان ہے لیکن دنیا اس حقیقت سے پوری طرح سے آگاہ ہو چکی ہے کہ امریکہ افغانستان میں بدترین اورشرمناک شکست سے دوچار ہو چکا ہے جہاں اپنی جگہ یہ سب حقائق روشن اورعیاں ہیں وہاں ایک اور واضح اشارہ دنیا کے لئے مزید حیران کردینے والی اس بات میں مضمر ہے کہ جولائی سن دوہزاراٹھارہ میں پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں اسلام آباد کے وفاقی اقتدار میں آنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے وزیراعظم عمران خان واحد پاکستانی وزیراعظم ہیں جنہوں نے نودس ماہ گزرنے کے باوجود تاحال امریکا کا دورہ کرنا پسند نہیں کیا نہ ہی اپنی جانب سے کوئی خواہش ظاہر کی یہ دنیا کیلئے سیاسی وسفارتی اعتبار سے ایک بہت ہی اچھنبے کی بات ہے ورنہ ماضی میں پاکستان کے ہر وزیراعظم نے اپنے اقتدارکا حلف اْٹھانے کے فورا بعد یا توعمرہ ادا کرنے کیلئے وہ سعودی عرب گئے وہاں سے واشنگٹن یاترا اْنہوں نے ضرور کی ہے مسٹر ٹرمپ کو ایک یہ بھی بڑی خشمگی کا غصہ چڑھا ہوا ہے باجودیکہ پاکستان نے بہت بڑا مالی خسارے اْٹھالیا،مہنگائی کے طوفان نے پاکستانی معاشرے کو گھیرلیا، قوم بہت بْری طرح سے اپنی جگہ روپے کی گرتی ہوئی قدر پر کسمسا رہی ہے جولائی سن دوہزار اٹھارہ سے نودس ماہ بہت زیادہ عرصہ ہوتا ہے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں کی باگ دوڑ یقیناًپینٹاگان اور وائٹ ہاوس والوں کے ہاتھوں میں ہے پاکستان پر چڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں پر اپنی سخت تلخ وترش انتخابی تقریروں میں عمران خان کھل کر تنقید کرتے رہے ایسے میں یکایک کیسے بلا ترد یکایک عالمی مالیاتی اداروں کے دروازوں پر وہ جاکھڑے ہوتے؟ اس پر کافی سوچ بچار کیا گیا، کئی تجاویز پر غوروخوض کیا گیا، اسی سے ملتے جلتے کئی اور عوامل بھی پیش نظررکھے گئے مگر مان لیں کہ امریکا اور پاکستان کے تادم تحریردوطرفہ تعلقات معمول کی سطح پر نہیں ہیں سردمہری کی کیفیت سے گزرر ہے ہیں کیونکہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان اپنے کہے پر سختی سے جمے ہوئے ہیں کہ پاکستان اپنے خطہ میں اب کسی اور کی جنگ نہیں لڑے گا،یہی بات امریکا کے دل پر ایک گھاو بن کر لگی ہے اوپر سے سی پیک کے میگا منصوبے کی تعمیر کی تیر رفتاری نے امریکی ہوش وحواس اْڑا کررکھ دئیے ہیں فروری کے آخری دنوں میں امریکا کی ایما پراور اسرائیلی عملی مدد کی صورت میں پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی ناپاک اور بہیمانہ مذموم کوششوں کو جس جرات مندانہ اور تنہا اپنی دلیری سے پاکستانی عوام سیاسی حکومت اور فوج نے ناکام بنایا اور پاکستان کا امن پسند رویہ دنیا کے سامنے پیش کیا اْس پر ٹرمپ اور نیتن یاہو سمیت خود مودی وغیرہ بھی ہکابکا رہ گئے ’’پاکستان بھارت فروری جنگی چپقلش‘‘ میں پاکستان نے جس طرح کا جوابی اور فوری ردعمل دیا اس نے اس حقیقت کو آشکارہ کر دیا کہ پاکستان کی جمہوری سول حکومت اور مسلح افواج ہر اہم ترین مسئلہ پر ایک پیچ پر ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان اپنے تمام ترسیاسی سفارتی اور اقتصادی فیصلے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کرے گا پاکستانی ردعمل نے امریکہ پر یہ بھی ظاہر کر دہا ہے کہ پاکستان اب امریکا کے حلقہ اثر سے باہر آچکا ہے اب وہ تمام تر فیصلے امریکی مفادات میں نہیں بلکہ اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گا سویلین حکومت کے بعد آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کی جانب سے آنے والے ہربیانات ظاہر کرتے ہیں کہ فوج اور حکومت میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اب پاکستان امریکہ کے کسی بھی دباو کو قبول نہیں کرے گا بھارت کے علاوہ جنوبی ایشیائی ممالک جن میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بہت ہی مسلمہ بنتی جارہی ہے اسی حوالے سے جنوبی ایشیا میں امریکی اثرورسوخ کی بڑھتی ہوئی دھندلاہٹ نے وائٹ ہاوس اور پینٹاگان کی جھنجھلاہٹ کی تکلیف کو زیادہ تکلیف دہ بنا دیا ہے وائٹ ہاؤس کی سیاسی انتظامیہ اب امریکی عوام کی عدالت میں جواب دینے کی بہترپوزیشن میں نہیں رہی کہ افغانستان میں ٹرمپ کے انتخابی دعووں کے باوجود امریکا پسپا ہوگیا ٹرمپ اپنے اس کھوکھلے دعوے کے بعد امریکی عوام کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہا یاد رہے کہ بھارت مکمل جنوبی ایشیا نہیں ہے اسی طرح سے ایشیا پیسفک ممالک بھی سوچ رہے ہیں یہاں زیادہ تفصیل لکھنے کی گنجائش نہیں عرض مدعا یہ ہے کہ ٹرمپ کی غیر ذمہ دارانہ اور نااہلیت پر بنائی گئی پالیسیوں نے امریکی صدر کو عالمی گداگر بنادیا ہے سلطنت اومان جیسی خلیجی ریاست کے سامنے امریکا بھکاری بن گیا ہے سی پیک کے عظیم الشان راہداری کے منصوبے کا توڑ ڈھونڈنے کیلئے سلطنت اومان کے ساحلوں پرجگہ تلاش ہورہی ہے چین کے خلاف کوئی سازش ہے یا پاکستان کو؛ٹف ٹائم؛ دینے کی سازش؟’’ سلطنت اومان بیس معاہدے‘‘ امریکی سامراجی ذہنیت کے بہت سے پردے چاک کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مطلب یہ کہ کیا امریکا اب سی پیک منصوبہ کی راہ میں اس طرح سے رکاوٹیں کھڑی کرنے پر اترآیا ہے دیکھتے ہیں سلطنت اومان نے دنیا کی یک قطبی سپرپاور کو اپنے ساحلی علاقہ استعمال کرنے کی بالاآخر اجازت دے ہی دی یوں عرب محاورے کے مصداق امریکی اونٹ نے اپنی گردان صحرائے عرب میں لگے ہوئے ایک خیمہ میں گھسیڑ ہی دی ہے اب بیچارے عرب جانے اور امریکی اونٹ جانے! زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا اب دیکھنا ہوگا کہ اومان کی بندرگاہ دقم کا مستقبل کیا ہوگا؟ چونکہ بندرگاہ دقم گلف آف اومان اور خلیج فارس سے محض پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے امریکی نکتہ نظر سے یہ فکرمندی کامقام ہے کہ امریکا کیا افغانستان سے بے عزت ہوکر نکلنے کے بعد خلیج فارس کے پانیوں میں کسی نئی مہم جوئی کی مذموم منصوبہ بندی تو نہیں کررہا ہے؟؟۔
*****

About Admin

Google Analytics Alternative