2

جنگلی حیات کا تحفظ اولین ترجیح

ہمار وطن عزیز پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے چار موسموں سے نوازا ہے ۔ یوں تو سال میں دو مرتبہ خزاں اور بہار کے شروع میں شجر کاری کا موسم آتا ہے جس میں بڑے اہتمام سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا جا تا ہے ۔ لاکھوں پودے لگانے کے وعدے کئے جاتے ہیں ۔ سینکڑوں پودے بھی لگائے جاتے ہیں لیکن ان پودوں کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کے سبب وہ تناور درخت بننے قبل پہلے سال ہی ختم ہوجاتے ہیں ۔ اسی وجہ سے پاکستان میں کل رقبے کا صرف4 فیصد حصہ پر جنگلات ہیں جو انتہائی کم اور قابل تشویش ہے ۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25 فیصد حصہ پر جنگلات کا ہونا بیحد ضروری ہے کیونکہ ایک تو درخت صدقہ جاریہ ہیں ۔ دوسرا درخت نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ درخت سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاوَ اور زمین کے کٹاوَ کو روکنے کا اہم ذریعہ ہیں ۔ مزیدار شیریں پھل ان سے ہی حاصل کیے جاتے ہیں ۔ درختوں کی لکڑی فرنیچر ،مکانوں کے شہتیراور دیگر مقاصد کیلئے استعمال میں لائی جاتی ہے درختوں ہی کی بدولت بارش کا موجب بننے والے بادل وجود میں آتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے شجر کاری مہم کا آغاز کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پنجاب کو سر سبز و شاداب بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی ۔ وزیر اعلی پنجاب کے اس ویژن کو آگے بڑھانے کے لئے محکمہ زراعت مکمل اور بھر پور حصہ لے رہا ہے ۔ اس موسم بہار میں راولپنڈی میں صاف ،سر سبز و شاداب اور تجاوزات سے پاک پنجاب کی آگاہی مہم کے حوالے سے واک اور تقریب کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر قابو پانے کے لیے درخت لگانا انتہائی ضروری ہے ۔ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے ۔ ہم سب کو شجر کاری مہم میں انفرادی طور پر حصہ لینا چاہیئے ۔ پنجاب کی مختلف تفریح گاہوں اور جنگلات میں 25 ہزار پودے لگائے جا چکے ہیں ۔ شجر کاری مہم میں ہرمحکمہ کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے ۔ اس مہم میں ہر فرد حصہ لے اور اپنے حصے کا ایک ایک پودا ضرور لگائے ۔ وزیر اعظم پاکستان کے وژن کے مطابق پا کستان بھر میں پانچ سال کے دوران 10ارب پودے لگائیں جائیں گے ۔ اپریل تک جاری رہنے والی شجرکاری مہم کے دوران پنجاب میں 1کروڑ20لاکھ پودے لگائے گئے ۔ عوام کو صحت مند انہ ماحول کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ شجر کاری مہم کو کامیاب بنانے کیلئے عوام کا تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ حکومتی اداروں کیساتھ ساتھ سول سوساءٹی کو بھی مشترکہ طور پر اس نیشنل کاذکیلئے کام کرنا ہوگا ۔ ماحولیاتی آلودگی روکنے کا کام انسانیت کی خدمت ہے ۔ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے درخت لگانا نہایت ضروری ہے ۔ ہر علاقے میں زمین اور موسم کی مناسبت سے درخت لگائے جائیں ۔ صاف ستھرا و سر سبز پنجاب کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مہم میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ عوام کی شرکت کو بھی یقینی بنایا جائے تا کہ اجتماعی کوششوں سے جلد مطلوبہ نتاءج کو حاصل کیا جا سکے ۔ اس منصوبے کی کامیابی آنیوالی نسلوں کیلئے اچھے ماحول کی ضمانت ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ۔ روایتی پودوں کو ترجیح دی جائے لیکن آرائشی پودے بھی لگانے کے بعد ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تا کہ وہ پروان چڑھ سکیں ۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی سست روی کی وجہ سے سالانہ ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے شکار کے لیے بننے والے ہزاروں لائسنسوں کے باوجود غیرقانونی شکار کا سلسلہ صوبہ بھر میں جاری ہے ۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے زیر اہتمام فیزنٹ، تلور، تیتر، مرغابی، چنکارہ ہرن کے شکار کے لائسنس جاری ہوتے ہیں جس میں ملکی سمیت غیر ملکی شکاری بھی بڑی تعداد میں حصہ لیتے ہیں ۔ محکمہ جنگلی حیات پنجاب کی تیار کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر قانونی شکار بھی جنگلی حیات کیلئے بڑا چیلنج ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے محکمہ جنگلی حیات پنجاب نے سزاؤں اور جرمانوں میں نمایاں اضافہ کرنے کیلئے قانون تیارکیا ہے ۔ مجوزہ قانون میں ‘‘پنجا ب و ائلڈ لاءف ایکٹ 2007 ’’ کے سیکشن 21 میں ترمیم کرتے ہوئے قید بامشقت کی سزا کی زیادہ سے زیادہ مدت 2 سال سے بڑھا کر 5 سال اور کم سے کم سزا کی مدت 3 سال مقرر کرنے اور جرمانہ کی کم سے کم رقم 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ کی حد 1 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ غیر قانونی شکار میں استعمال ہونے والے اسلحہ کا لائسنس 10 سال کیلئے معطل کیا جائے گا ۔ صبح سویرے درختوں پر چہچہانے والی چڑیاں بھی ماحول اور کسان دوست پرندوں میں شمار ہوتی ہیں ، جو فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑے کھا کر نیچرل کلینر کے طور پر کام کرتی ہیں ، مگر گزشتہ کچھ عرصے سے ان کاشکار کرکے ان کو مختلف مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ پنجاب بھر میں پرندوں اور جانوروں کے شکار کے خلاف کریک ڈاوَن اور سزاؤں میں اضافہ کی تجویز دی گئی ہے جس سے شہریوں میں آگاہی آئے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں