Home » کالم » جنگ ستمبر…. قوت ایمانی کی آئینہ دار
chinab kenary

جنگ ستمبر…. قوت ایمانی کی آئینہ دار

معزز قارئین آج 6ستمبر ہے میں اس جگہ کھڑا ہوں جہاں ہماری فوج کے جانبازوں نے چونڈہ کے محاذ پر ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی اور دشمن کے چھ سو ٹینک کے حملے کو نہ صرف روکا بلکہ پسپا کردیا ۔ سیالکوٹ کے قصبے چونڈہ میں ہی ستمبر 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے فوجیوں کی یادگاریں تعمیر کی گئی ہیں اور ساتھ ہی قبرستان ہے جس میں شہداءستمبر کی قبریں ہیں ان قبروں پر فاتحہ پڑھتے ہوئے ذہن ستمبر 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے تخیل میں کھوگیا۔ وہ دن میرے بچپن کے دن تھے ۔ رات کی تاریکی میں دشمن نے چوروں کی طرح ارض پاک پر حملہ کرکے جنگ مسلط کی ۔ جنگ تو ہمیشہ جاری رہتی ہے نیکی اور بدی کی جنگ محبت اور نفرت کی جنگ ، عظمت اور پستی کی جنگ ، بھوک اور خوشحالی کی جنگ ، ہر انسان کسی نہ کسی جنگ میں حصہ لیتا ہے اور غازی یا شہید کا درجہ حاصل کرتا ہے ۔ جنگ اس لئے لڑی جاتی ہے کہ باطل قوتوں کو شکست ہو، حق کا بول بالا ہو، گمنام شہید اور گمنام سپاہی ہمیشہ سے قوم کی عظمت اور رفعت کے نقیب رہے ہیں اور ان کی قبریں بہادری ، الوالعزمی اور حب الوطنی کا درس دیتی رہتی ہیں ۔ یہ مجاہد شہادت اور عظمت کی داستانیں چھوڑ کر جاتے ہیں ان جیالوں نے دشمن کے سامنے سینے تان دئیے ۔ جہاں ان کام خون گرا وہ خون جس کی تابندگی کبھی ماند نہیں ہوگی جس خون سے سارا گلشن رنگ حاصل کرتا ہے جس خون سے بہاریں خوشبوئیں حاصل کرتی ہیں ۔ یہ وہی مقام ہے جہاں ہمارے فوجی جوان آہنی دیوار کی صورت میں دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے ۔ ٹینکوں کی یلغار کے آگے جسموں سے بم باندھ کر لیٹ گئے اور دشمن کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک دیا ، ان یادگاروں پر فخر کرتے ہیں اور آنے والی ہر نسل کا فرد ان یادگاروں کو دیکھ کر اپنا سراونچا کرسکے گا جنہوں نے عظمت اور بہادری کی تاریخ کا ایک نیا باب کھولا اور ہر فرد اور ہر نسل کیلئے بہادری ،شجاعت اور مرمٹنے کا فیض اور حوصلہ بخشا، ذہن سوچ کی گہرائیوں میں گم ہے کہ ستمبر 1965ءکا وہ کیا جذبہ تھا ۔ اس جذبہ دفاع کا ہر ایک عنصر متحرک تھا ۔ یہی سبب تھا کہ پورے سماج کے ایسے فقید المثال رویوں سے ایسا منظر پیدا ہوگیا کہ دنیا میں دفاع وطن کے جذبہ کو جذبہ ستمبر کا درجہ ملا ہمارے جانبازوں نے دشمن کے ٹینکوں کی دیواروں اور توپ خانہ کی یلغاروں کو اپنے سینوں پر روکا تھا ۔ ہمارے شاہبازوں نے دشمن کی فضاﺅں میں ہی ان کے کرگس شکار کیے ۔ ہماری بحریہ نے بیک وقت خشکی ، سطح آب اور فضا میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ 6ستمبر 1965ءکی پاک بھارت جنگ سے ہمیں یہ ناقابل فراموش و تجربہ بھی ہوا کہ مادیت کے رنگا رنگ فلسفے جن کی چمک دمک سے ہمارے ذہن مرعوب تھے جنگ شروع ہوتے ہی اس طرح غائب ہو ئے جیسے طلوع سحر سے پہلے افق پر جمع ہنوے والی گھٹائیں غائب ہو جاتی ہیں ۔ دکانداروں نے ملاوٹ اور ڈاکوﺅں نے ڈاکوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی ۔ زخمیوں کو خون دینے کیلئے پوری قوم نے بلڈ بنک بھر دئیے ۔ الغرض بھارت کی مسلح افواج کے حملے کا جواب دینے کیلئے پوری قوم اپنے سرفروش مجاہدوں کی پشت پر سیسہ پلاءیہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہوگئی ۔ قوم کا ہر فرد اپنے اپنے محاذ پر سرفروش مجاہد بن گیا ۔ یہ جنگ ایسی تھی جو جسموں کے ساتھ نہیں، دلوں ، دماغوں اور ایمانوں کے ساتھ لڑی گئی ۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ چشم زون میں پاکستان کو ہڑپ کر جائے گا لیکن جس قوم کے ارادے پختہ ہوں اور یقین کامل خدا پر ہو وہ سنگلاخ چٹانوں سے بھی ٹکرا کر پاش پاش کرسکتی ہیں ۔ وطن عزیز پاکستان جس سے ان دیکھے محبت کی گئی ، ہجرت عظیم کے شہداءنے جسے اپنے لہو سے چراغ جلا کر روشن کیا جسے اپنا بنانے کیلئے عصمتیں قربان ہوئیں اس کے معرض وجود میں آنے سے قبل وطن عزیز کی تاریخ کے ورق ورق پر ایثار کی داستانیں رقم کرکے اسے پاک شہیدوں کی ایک ضخیم کتاب بنا دیا گیا ۔ اس کی تحریک تاریخ میں بدلی تو اسے انسانی لہو رنگین کرگیا ۔ شہداءنے آغاز ہی میں اسے اپنے لہو سے سجایا اور پھر 1965ءمیں اپنے سے پانچ گنا بڑی فوج قوت کا مقابل پر شہید وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت میں نثار ہوگیا ۔ اس کا حاصل بھی قربانیوں کا مرہون منت ہے اور اس کا استحکام بھی اس کے محافظوں کی حمیت کا مظہر ہے۔ 6ستمبر 1965ءکو ایک ایسا جذبہ ابھر کر سامنے آیا جو دنیا بھر کی عسکری قوتوں کیلئے ایک مثال قائم کرگیا ۔ ساری دنیا کو ہم نے یہ دکھلا دیا کہ ہم میں ہمت اور شجاعت بھی ہے اور حق پر جان دینے کی جرا ¿ت بھی ۔6ستمبر کا معرکہ دراصل حق و باطل کا ایک ناقابل فراموش معرکہ ہے حق و باطل کے اس عظیم الشاان معرکہ میں پاکستان کی کامیابی کاراز کیا تھا۔ پاکستانی افواج کا مقصد حیات مال غنیمت اور کشور کشائی نہیں بلکہ وطن عزیز کی سرحدوں کی نگرانی ور حفاظت تھی ۔ افواج پاکستان نے اسلام اور پاکستان کی سربلندی ، ملک و قوم کی بقا و ترقی اور سالمیت و استحکام پر آنچ نہ آنے دی۔
٭٭٭٭٭
6ستمبر 1965ءسے 17 ستمبر تک بھارتی سورماﺅں نے طے کیا کہ کھلی جنگ ، واضح حملوں اورعوامی جذبوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے سازشوں کے ذریعے معرکہ آرائی کی جائے ۔ گویا 6ستمبر کے جذبہ دفاع نے دشمنان پاکستان کو جنگ کی ٹیکنیک تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ۔ اگر تاریخی تناظر میں 1965ءپاک بھارت جنگ کی وجوہات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان نے 1965ءمیں آپریشن جبرالٹر کے نام سے ایک کمانڈو آپریشن کے ذریعے اہل کشمیر کو آزادی سے ہمکنار کرنے کی کوشش کی ۔ آپریشن مکمل تیاری اور ہوم ورک کے بغیر کیا گیا تھا اس لئے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکا اور بھارت نے اس کے ردعمل میں 6ستمبر کو راتوں رات پاکستان پرحملہ کردیا ۔ معرکہ ستمبر کا بنیادی محرک مسئلہ کشمیر ہی تھا ۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں ان کے پیچھے تنازع کی اصل وجہ کشمیر ہی رہا۔ 1971ءکی جنگ میں ہمیں اپنے مشرقی بازو سے بھی محرومی اختیار کرنا پڑی ۔ پاکستان ور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی اور محاذ آرائی سے قطع نظر اہل کشمیر بھی گزشتہ پینتیس برس سے بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف برسرپیکار ہیں اور ایک لاکھ سے زائد حریت پسند کشمیر کی آزادی کیلئے اپنی جانیں نچھاور کرچکے ہیں ۔ یہ بجا ہے کہ جنگ تباہی و ہلاکت ہے۔ کوئی صاحب ہوش جنگ کی حمایت نہیں کرسکتا ۔ ہر شخص اور ہر ملک امن کا خواہاں ہے۔ آج اگر بھارت سے ہمارے تجارتی و سفارتی تعلقات بحال ہوئے ہیں اور بھارت بظاہر مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور پر کبھی کبھی منافقانہ آمادگی بھی ظاہر کرتا ہے لیکن دوسری طرف کشمیریوں کا قتل عام شروع ہے۔ اپنے دفاعی بجٹ میں بھارت ہر سال اربوں کا اضافہ کررہا ہے اور علاقائی بالا دستی سے ہم آج بھی اپنے خارجی خطرات سے چشم پوشی نہیں کرسکتے ۔ مستقبل کے چیلنج ہم سے اتحاد و یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں ۔ 6ستمبر اس عہد کا دن بھی ہے کہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کے کارناموں پر نہ صرف فخر کرتی ہیں بلکہ ان پر کاربند رہنے کا عزم بھی کرتی ہیں ۔ اس وقت تک ہم اپنی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت نہیں کرسکتے جب تک ہم اپنے نصب العین کو اپنے ذاتی مفاد پر ترجیح دینا نہیں سیکھ جاتے ۔ گزشتہ چند دہائیوں سے وطن عزیز پاکستان بری طرح دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ اس دوران ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں ۔ معیشت تباہ اور قیمتی اثاثے برباد ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا احسان ہے کہ پاکستانی افواج اپنے نڈر اور جری سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی قیادت میں دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہی ہے اور ضرب عضب کی مہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کررکھ دی ہے ہم اس حوالے سے پاک فوج کے شہداءاور غازیوں کو 6ستمبر کے دن سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative