جنگ مسائل کا حل نہیں

15

اگر ہم پاکستان کے جُغرافیہ پر نظر ڈالیں تو پاکستان کے مشرق میں بھارت، مغرب میں افغا نستان ، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین واقع ہے۔پاکستان کا افغانستان کے ساتھ سرحد 2252 کلومیٹر ، چین کے ساتھ 585 کلومیٹر ، بھارت کے ساتھ 2910 کلومیٹر، لائن آف کنٹرول 740 کلومیٹر جبکہ ایران کے ساتھ 909 کلومیڑ سر حد ہے۔ اگر ہم افغانستان میں بسنے والے افغانیوں کی شرح پر نظر ڈالیں تو افغانستان میں پختون 45فی صد، تاجک 25 فی صد ، ہزارہ اور اُزبک 9،9فی صد ، ایمک 4 فی صد ، ترکمن3فی صد اور چھوٹی موٹی اقلیتوں کی تعداد 6 فی صد ہے۔ پاکستان اور افغانستان ،شام کی طرح جُغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن بارڈر پر لڑائی بھی ہوئی۔ جبکہ ایران نے بھی پاکستان کو جنگ کی دھمکی دی ہے۔افغا نستان اور پاکستان وسطی ایشیائی ریا ستوں ،بر صغیر اور مشرق وسطی کے لئے ایک روٹ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اور محل وقوع کی وجہ سے یہ دونوں ممالک عالمی میدان جنگ بنے رہے ۔ اور دنیا کی ساری طاقتیں اس خطے پر اپنی بالا دستی قائم رکھنے کے لئے پاکستان اور افغانستان میں پراکسی وار لڑ رہی ہیں۔ فی لوقت افغانستان میں امریکہ، جو رجیا، جرمنی، تُرکی، اٹلی ، بر طانیہ، اورآسٹریلیا کی تعداد 13ہزار اور امریکی فو جیوں کی تعداد 10ہزار ہے جو افغانستان فو جیوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ بھارت کی را، امریکہ کی سی آئی اے، اور افغانستان کی این ڈی ایس کی کو شش ہے کہ پاکستان کو غیر مُستحکم کیا جائے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ کاؤ کمارنے تو 1968 میں پاکستان کو توڑنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ ہمارے آپس کے اختلافات اور بھارت کی شاطرانہ پالیسیوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان ، پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا ۔ حال ہی میں ٹی ٹی پی کے سابق تر جمان احسان اللہ احسان کے مطابق تحریک طالبان بھارت کے را، اور افغانستان کے این ڈی ایس کے ساتھ پاکستانی فوجیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔مزید بر آں نوجوانوں کو جہاد اور اسلام کے نام پر گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اوراب بھارتی کو شش ہے کہ بقایا پاکستان کو غیر مستحکم کر کے توڑا جائے۔ علاوہ ازیں دنیا کی ترقی یا فتہ ممالک مثلاً امریکہ بر طانیہ ، بھارت چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ترقی اور سی پیک سے خائف ہیں ۔ لہذاء انکی کو شش ہے کہ چین کی اقتصادی ترقی کا راستہ روکا جائے اورسی پیک کو کسی طریقے سے ناکام بنا کر دسطی ایشائی ریاستوں کے وسائل اور علاقے میں زیادہ بزنس تک رسائی حا صل کی جائے۔ بعض سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرکے انکی اٹیمی ہتھیار وں کو حا صل کرنا بھی اسی ایجنڈے میں ہے۔ اگر ہم امریکہ، بر طانیہ، ، فرانس اور جرمنی کی اقتصادی ترقی پر نظر ڈالیں تو ان سب کی اقتصادی ترقی 1.3فی صدہے جبکہ اسکے بر عکس چین کی اقتصادی ترقی 7 فی صد ہے جبکہ امریکہ چین کا 1200 ارب ڈالر مقروض ہے اور چین، امریکہ کو 400ارب ڈالر کی مختلف اشیاء ایکسپورٹ کرتا ہے۔ جس سے امریکہ کو بیلنس آف ٹریڈ میں نُقصان ہے۔ امریکہ یہ دیکھنا نہیں چاہتے کہ چین مزید ترقی کریں کیوں کہ اس سے امریکہ، یو رپی یو نین ، نیٹو کے اقتصادیات مزید تنزلی کا شکار ہوں گے۔ لہٰذاء امریکہ اور بھارت کسی صورت سی پیک کوپایہ تکمیل تک دیکھنا نہیں چاہتے کیونکہ اس سے چین اور پاکستان اور بالخصوص چین دونوں کئی ممالک تک رسائی حا صل کر لے گا۔بھارت، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے افغانستا نی عوام کوقریب لانے کے لئے وہاں تقریباً 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اور افغان بھائیوں کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان ہمارے نام پر ڈالر لے رہے ہیں حالانکہ پاکستان نے 9/11کے بعد دہشت گر دی کی جنگ میں 118 ارب ڈالر کانُقصان اور 80ہزارپاکستانیوں کی قُربانی دے چکے ہیں۔ لاکھوں افغان مہا جرین گذشتہ 35 سال سے پاکستان میں مقیم ہیں جس سے بھی پاکستان کی معیشت کو بے تحا شا نُقصان پہنچا۔مگر بد قسمتی سے بھارتی سورما بھارتی پروپیگنڈے او بھارت کی افغانستان کو زیادہ امدادکی وجہ سے افغان بھائیوں کوپاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ حامد کر زئی کے مطابق پاکستان ، بھارت اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات کا خواہاں نہیں اور بھارت کو وسطی ایشائی ریاستوں تک رسائی کے حق میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے افغانستان کو بے تحا شا امداد دیا ہے ۔ افغانیوں کا ایک اور نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ افغانستان میں جنگ پاکستان، امریکہ، سعودی عرب ، جر منی اور بر طانیہ کی وجہ سے ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سو ویت یونین کے خلاف ان ممالک نے جنگ کی مگر بات یہ ہے کہ سوویت یونین تو خود گرم پانی تک رسائی چاہتا تھا۔ تو پاکستان کو خو داپنی بقا کے لئے یہ جنگ ناگزیر تھی۔افغانستان میں جو غیر پشتون ہیں وہ افغانستان میں پختونوں اور انکی حکومت کو پسند نہیں کرتے۔ اور امریکہ اور بھارت کی کو شش ہے کہ پختون اور افغا نستان کی دوسری قومیں آپس میں لڑا اور تقسیم کرکے افغانستان کو لسانیاور مسلکوں بنیادوں پر تقسیم کیا جائے اور پاکستان کے خلاف استعمال کیاجائے ۔ ریٹا ئرڈ میجر جنرل سعد خٹک کا کہنا ہے کہ افغانستان اور ایران میں بھارت کے کونسلیٹ پاکستانی سر حدوں کے قریب پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ ہمیں اقوام متحدہ ، امریکہ اور یو رپی یونین کو بتانا چاہئے کہ یہ علاقہ اب نیوکلیرفلیش پوائنٹ ہے اگرہو ش کے ناخن نہیں لئے گئے تو اس سے پورے خطے بلکہ دنیا کا امن خراب ہوجائے گا۔ جہاں تک پاک افغان کے خراب تعلقات اور بد اعتمادی کا تعلق ہے تو پاکستانی حکومت نے اب تک کوئی اقدامات نہیں اُٹھائے ۔ جس سے بد اعتمادی میں کمی ہو۔ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں پاک افغان تعلقات کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ افغان بھائیوں کے لئے ریڈیو پاکستان اسلام آبادسے پشتو اور دری زبان میں پروگرام نشر ہوتے تھے جو مواد اس میں نشر کئے جاتے تھے اسکا تعلق افغا نستان سے نہیں ہوتا۔ اس وقت افغانستان میں پاکستان کا کوئی صحافی نہیں جبکہ بھارت کے 200 سے زیادہ صحافی افغانستان میں ہیں۔ لہذاء اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں فی لفور وزیر خارجہ کی تعیناتی کرنی چاہئے ۔ اسکے علاوہ پختون راہنماؤں کے جر گوں کو افغانستان بھیجنا چاہئے ۔ اس میں افغانستان کے حالات سے واقف سکالروں ، صحافیوں اور تاجروں کے لوگوں کو شامل کرنا چاہئے۔ افغانستان کی امداد ڈبل کرنی چاہئے۔ قبائیلی علاقوں کو ترقی دینی چاہئے ۔ اسکو فی لفور خیبر پختون خوا میں شامل کرنا اور ایف سی آر کا خاتمہ چاہئے۔ افغانستان کے طالبعلموں کو یونیورسٹیوں اور کالجوں میں دا خلے دینا چاہئے ۔ تاکہپڑوس ممالک میں اعتماد ، اخوت اور بھائی چارے کو فروع دیاجا سکے۔ کیونکہ عوام کی حمایت اور تائید کے بغیر کسی قم کی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ افغانستان ایک خود دار ملک ہے وہ کسی کی ڈیکٹیشن قبول نہیں کرتا۔ لہٰذاء افغانستان اور ایران کے ساتھ سارے مسائل پیار سے حل کرنے ہونگے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان ٹینشن اُس وقت سے زیادہ ہوگئی ہے جس وقت سے راحیل شریف کو اسلامی فوج کا کمانڈر چیف بنایا گیا ہے۔ہمارے ملک سے افغا نستان جو ڈپلومیٹ جاتے وہ وہاں کی ثقافت اور پختون اور افغانستان کے مزاج کو اچھے طریقے سے نہیں سمجھتے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان، ایران اور افغانستان کو سارے مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے چاہئے اور بھارت سے بھی استد عا ہے کہ وہ شیطا نیاں چھوڑ دیں اور جنگوں اور لڑائیوں کے بجائے اپنے وسائل اپنے عوام کے فلاحو بہبود پر خرچ کریں ۔ کیونکہ لڑائیوں اور سازشوں سے مسائل کبھی حل نہیں ہوئے۔