Home » صحت » جوڑوں کے امراض کو خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں؟

جوڑوں کے امراض کو خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں؟

کیا آپ جوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں ؟ اگر ہاں تو آپ تنہا نہیں درحقیقت عمر کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں اکثر افراد اس تکلیف کا شکار ہوجاتے ہیں۔

درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جس کے باعث جوڑوں کا درد لوگوں کو اپنا شکار بنالیتا ہے تاہم اس میں کمی لانا یا بچنا اتنا بھی مشکل کام نہیں۔

درحقیقت کچھ غذائیں، ورزشیں اور گھریلو اشیاءآپ کے جوڑوں کے درد میں قدرتی طریقے سے نمایاں کمی لاسکتے ہیں جس کی طبی سائنس نے بھی تائید کی ہے۔

ادرک

ایک تحقیق کے مطابق ورم کش خصوصیات کی وجہ سے ادرک جوڑوں کے امراض کے لیے کسی درد کش دوا جیسا اثر کرتی ہے۔ تحقیق میں ادرک کے ایکسٹریکٹ سے جوڑوں کا ورم کم ہوتا ہے، اس مقصدکے لیے ادرک کو پیس کر سفوف کی شکل میں استعمال کریں یا اس کے باریک ٹکڑے کرکے اسے چائے کے لیے ابالے جانے والے پانی میں 15 منٹ تک ڈبو کر رکھیں، اس کا مستقل استعمال جوڑوں کے درد میں کمی لانے کے لیے بہترین ثابت ہوگا۔

مچھلی کے تیل کے کیپسول

ایک برطانوی تحقیق کے مطابق مچھلی کے تیل سے بنے کیپسول بھی جوروں میں ہونے والی تکلیف کا باعث بننے والے عمل کو سست کردیتا ہے جس سے شدت میں کمی آتی ہے۔ مچھلی کے عام تیل سے بنے کیسپول کا استعمال بھی اس حوالے سے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جو درد کا باعث بننے والے اینزائمز کی مقدار کو کم کردیتے ہیں۔

ہلدی

متعدد طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلدی کا استعمال جوڑوں کے مریضوں کی تکلیف اور سوجن میں کمی لاتا ہے۔ ایک تحقیق میں گھٹنوں کے جوڑوں کے درد کے شکار مریضوں کو روزانہ 2 گرام یا ایک چائے کا چمچ ہلدی استعمال کرائی گئی جس کے نتیجے میں ان کی تکلیف میں کمی آئی اور جسمانی سرگرمیوں میں اتنا اضافہ ہوا جو اس مرض کے لیے ادویات کے استعمال پر ہوتا ہے۔ ہلدی کا آدھا چائے کا چمچ چاول یا سبزیوں پر روزانہ چھڑک دیں یا ایسے ہی پانی کے ساتھ نگل لیں۔

لونگ

لونگ میں سوجن پر قابو پانے والے کیمیکل یوجینول موجود ہوتا ہے جو کہ اس جسمانی عمل پر اثرانداز ہوتا ہے جو جوڑوں کے درد کو بڑھاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق لونگ کا استعمال ایسے پروٹین کو جسم میں خارج ہونے سے روکتا ہے جو سوجن کو بڑھاتا ہے۔ اس کے علاوہ لونگوں میں اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو ہڈیوں کو کمزور ہونے کا عمل سست کردیتے ہیں۔ اس کا آدھے سے ایک چائے کا چمچ روزانہ استعمال جوڑوں کے درد میں کمی کے لیے بہترین ہوتا ہے۔

ورزش

جسمانی سرگرمیاں ایسے افراد کے لیے بہت ضروری ہیں جو جوڑوں کے درد کا شکار ہوں، اب یہ اپنے گھر میں چہل قدمی ہو یا ایسا ہی کوئی ہلکا پھلکا کام، عام طور پر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ ورزش سے جوڑوں کا درد بدتر ہوجاتا ہے تاہم اس میں حقیقت نہیں، چہل قدمی، سوئمنگ یا سائیکل چلانے جیسی سرگرمیاں نقصان دہ ثابت نہیں ہوتیں۔

سیب کا سرکہ

سیب کا سرکہ کیلشیئم، میگنیشم، پوٹاشیم اور فاسفورس سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جوڑوں کے درد میں کمی لانے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں، یہ جسم میں جمع ہونے والے زہریلے مواد کو ہٹانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک کپ گرم پانی میں ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ اور ایک چائے کا چمچ شہد ملائیں اور اسے روزانہ صبح پینا عادت بنالیں۔

دار چینی

یہ مصالحہ بھی درد میں کمی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ سوجن کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، اسے استعمال کرنے کے لیے آدھا چائے کا چمچ دار چینی کا پاﺅڈر اور ایک چائے کا چمچ چینی گرم پانی میں ملائیں اور نہار منہ پی لیں اور اس معمول کو کئی روز تک دہرائیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative