جیمز ، کھلونا اور شترمرغ!

17

گزشتہ سے پیوستہ

متعلقہ خبریں

یہ نیا فون آئی فون اور اینڈرائیڈ ڈیوائسز سے بالکل مختلف

سلطان راہی کو مداحوں سے بچھڑے 22 برس بیت گئے

چونکہ یہ تصور بھی ہمارا ہے اور کسی کے پاس دنیا میں اس وقت نہیں ہے تو ہم پچاس فیصد ان تمام پراڈکٹس کے سیل آوَٹ کے ;82;atioکے مطابق بھی لیں گے ۔ صنعت کار نے امیدوں کے چراغ جلانا شروع کئے ، وہ مستقبل میں معروف صنعت کار بننے کے خواب دیکھ رہا تھا ۔ صنعت کار نے سیکرٹری کو بلایا اور معاہدہ تیار کرکے ایگریمنٹ کو قانونی شکل دے دی ۔ اس وقت یہ جو ;84;oy ;65;damآخری نشانی رہ گئی ہے اس کارخانے دار یا صنعت کار کے امیدوں کا آخری چراغ بن گیا ۔ اس کے بعد کھلونوں کی دنیا میں مصروفیت کے بعد اور دولت کے انبار جب لگنا شروع ہوئے اس شہر کے دس صنعت کاروں میں بعض، کینہ پروری اور حسد کی جنگ چڑ گئی ۔ ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے مافیا وجود میں آگیا اور یوں کشت وخون کا بازار گرم ہوا ۔ عام لوگوں کی پریشانی میں بھی اضافہ بڑھ رہا تھا ہر کوئی گھر میں محبوس ہوا جارہا تھا ۔ علاقے تقسیم ہوگئے ۔ کیا مجال کوئی ایک شہر سے دوسرے شہر جائے اور وہ زندہ سلامت گھر واپس لوٹیں ۔ اس خوف وحراس نے زندگی کو مفلوج کرنا شروع کردیا ۔ بیماریاں اور نفسیاتی بیماریاں جس میں موت کا خوف سب سے اول نمبر پہ تھا ۔ بچے عورتیں اور مرد کملا رہے تھے اور بیکاری کا آسیب بھی گھر گھر کو چمٹ گیا ۔ گھروں میں پڑے کھلونے زنگ آلود ہو رہے تھے ، گھر گھر میں ;70;rustrationکی وجہ سے شور شرابے اور کہیں کہیں خاموشی سنائی دے رہی تھی ۔ افلاس ، غربت اور بیماریاں دیو بن کر ہر جیتی جاگتی اور عمارتوں کو جیسے دھیرے دھیرے نگل رہا تھا ۔ رونق اس شہر کی روٹھ گئی وہ شہر جو ترقی کے دوڑ میں سب سے آگے تھا دس سال کے عرصہ میں اپنا وجود قائم نہ رکھ سکا ۔ ہم دیکھیں تو پاکستان میں بعینہ کراچی کا یہی عالم رہا ہے ۔ وہ تین نوجوان جو اس تصور کے خالق تھے اور اس تصور سے ہی اس شہر کی رونقیں روٹھ گئیں ، دولت سمیٹ کر سوءٹرزلینڈ آباد ہو گئے ۔ کیونکہ یہ نوجوان بھی دولت کی خواہش لیکر آئے اور عقلمندی کا ایسا چکر چلا گئے ۔ بیوپاری بن کر ساری آبادی کو دار پر لٹکا گئے ۔ ابھی یہ تمام جانور اس ;84;oyکے قریب آئے جب اس کی چابی روک گئی عقب سے ’’شترمرغ‘‘ آگے آیا ;84;oyکو آگے پیچھے دیکھنا شروع کیا ، اس کے رنگ اور اس کے چہرے کے دائیں گال پر ڈیپریس کی نشانی دیکھی ، وہ سوچ میں پڑ گیا اس کی آنکھوں میں آنسو آئے ایک آنسو سیدھے toyپر آ ٹپکا ۔ سارے جانور حیران ہوئے کہ یہ رو کیوں رہا ہے;238; کتے نے بھونک کر شترمرغ سے پوچھا اوہ میاں ! کیا آپ اسے جانتے ہے ۔ ہاں ! اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا یہ میرے دوست جیمز کا کھلونا ہے ۔ جب یہ کھلونا نہ تھا تو میں اور جیمز گھر کے پلاٹ میں کھیلا کرتے تھے ۔ اس کے والد ڈیوڈ نے یہ کھلونا بازار سے لے کے آیا ۔ اس دن سے میں جیمز کے ساتھ کھیلنے کےلئے ترستا رہ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے شہر میں جیسے بچوں کی لاٹھری نکل آئی ۔ وباء ایسی پھیلی کہ گھر گھر ہماری وقعت گرتی گئی ۔ جیسے کوئی محبت کرتے کرتے روٹھ جائے اور جس سے محبت کی جائے ا س کا بدلہ بے وفائی سے دے ۔ دیکھو! اس کے چہر ے پر جو داغ ہے یہ میں نے لگایا ہے اور نفرت سے لگایا ہے ۔ کل رات وہ سب مجھے یاد آرہا تھا ۔ میں ایک کونے میں پڑا رو رہا تھا اور گھر کی ویرانی مجھے کاٹ دوڑ رہی تھی ۔ دھیرے دھیرے دوسری منزل پر آیا اور سامنے کمرے کے کھلے ہوئے دروازے جیمز کا کھلونا الٹا پلٹہ پڑا ہوا تھا ۔ میں دل گرفتہ ہوا اسے تکتے تکتے ، جیمز کی وہ بات یاد آئی جب میں کھیلنے کی خواہش لیکر اس کے پاس آیا ۔ مگر میرے دوست نے رعونت، تکبر اور نفرت سے مجھے کمرے سے باہر کردیا کیونکہ اس کے ہاتھوں میں وہ کھلونا تھا اور وہ اس کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ آج یہی کھلونا جیسے آپ سٹرک پر مردہ دیکھ رہے ہے اسے میں نے قتل کر دیا ۔ اس کو لات دے ماری اور یہ اپنی اوقات پہ آگیا ۔ اور چیخ کر کہا کہ خبیث تو میرے اور جیمز کے بیچ نہ آتا تو میں کیوں آج ویران نہ ہوتا ۔ تمام جانوروں نے ایک زبان ہو کر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے oh oh oh oh oh oh کرنے لگے ۔ پیچھے سے ہاتھی گھستا ہوا آگے آیا اس نے شترمرغ کی کہانی سنی تو چنگھاڑ سے ان چھوٹے جانوروں کو تتر بتر کر دیا ، اپنا وزنی اور دیوقامت پاؤں اٹھا کر پلک جھپکتے toyکے پرخچے اڑا دیئے ۔ ان مردہ چیزوں نے ہم سے ہمارے دوست چھین لیے ہیں ۔ کوئی ضرورت نہیں کہ یہ ہماری نگاہوں کے سامنے چلتے پھرتے نظر آئے ۔ دوستوں چلو اپنے خوبصورت جہاں ، جنگل چلے ۔ انسان جہاں بھی نظر آئیے ان پر تھوکتے جائے ۔ اگر یہی اختیار جو اللہ نے انسانوں کو اس دنیا کو سنوانے کا دیا تھا ، ہ میں دیتا تو ساری دنیا کو جنگل میں بدل دیتے ۔ وہ جنگل جب پہلا آدم اور ان کی محدود آبادی سوکھی تھے ۔ ہمارے آباوَاجداد بھی خوش تھے کیونکہ اس وقت ہاتھ کے بنے یہ کھلونے ابھی تخلیق نہیں ہوئے تھے ۔ جب انسان اپنی خواہشوں اور عقل کو جذبات کے تابع کردے ، نہ تو انسان رہ پاتا ہے اور نہ ہم جیسے حیوان;238;کاش ہم میں اتنی عقل ہوتی جتنی انسان میں ہے ، استعمال کرتے تو کائنات کا با آسانی تسخیر کرلیتے ۔ جس انسان کےلئے اللہ نے اس کائنات کا عظیم مخلوق بنایا ۔ وہ اس جیسے معمولی کیڑے نما کھلونے سے ہار گیا ۔ ۔ ۔ (ختم شد)