حلقہ احباب سردار خان نیازی خاص خبریں کالم

حلقہ احباب جنرل باجوہ کا یوم شہدا ءپر تاریخی خطاب

Halq-e-Ahbab sardar khan niazi

افواج پاکستان اپنی 75سالہ تاریخ میں شاندار روایت کی امین رہی ہے، ان 75سالوں میں پاک فوج نے ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کیلئے تاریخی کارہائے نمایاں سر ا نجام دیئے، اس 75سالہ تاریخ میں اپنے سے کئی گنا بڑے روایتی حریف کے ساتھ 48،65،71اور کارگل سمیت چار جنگیں بھی لڑیں۔
ہر سال جی ایچ کیو میں 65کے شہیدوں کی یاد میں یوم شہداءمنایا جاتا ہے، جس کے دوران اپنے شہداءکی جرات و بہادری کو عسکری قیادت کی جانب سے خراج عقیدت پیش کیا جاتا۔
گزشتہ روز یوم شہدا ءکے حوالے سے تقریب میں پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے تاریخی خطاب کیا، جس کے دوران انہوں نے گزشتہ 75سالوں کے دوران پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ کا بھر پور مگر سادہ موثر اور دلنشین انداز میں جائزہ لیا۔
جنرل باجوہ کا یہ خطاب ایک جانب جہاںماضی کا مکمل احاطہ تھا تو دوسری جانب مستقبل میں آنے والی سیاسی و عسکری قیادت کیلئے ایک گائیڈ لائن اور مشعل راہ کی بھی حیثیت رکھتا ہے ، کیونکہ انہوں نے باریک بینی سے اور لگی لپٹی رکھے بغیر دیانتداری سے مفصل تجزیہ کیا۔
اپنے اس خطاب کے دوران جنرل باجوہ نے جو باتیں کیں یہی باتیں میں گزشتہ چند ماہ سے مسلسل اپنے روز ٹی وی کے پروگرام ” سچی بات اور پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز میں لکھے گئے اپنے کالموں میںکرتا چلا آرہا ہوں۔
میرے جنرل باجوہ سمیت تقریباً تمام آرمی چیفس کے ساتھ ذاتی تعلقات اور مراسم رہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ میرا خاندانی پس منظر عسکری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک گالفر کا بھی رہا ہے ، فوج کے بہت سارے جرنیل اسی گالف کے کھیل کی وجہ سے میرے حلقہ احباب میں شامل ہیں، اور میں راولپنڈی میں رہائش پذیر ہوں، اس لئے میں دیگر اخبار نویسوں کی نسبت افواج پاکستان کی سائیکی کو زیادہ بہتر طور پر سمجھتا ہوں۔
جنرل باجوہ نے اپنے گزشتہ روز کے تاریخی خطاب کے دوران پہلی بار اس بات سے پردہ اٹھایا ہے کہ مشرقی پاکستان ہونے والی ناکامی سیاسی تھی ، جس کا خمیازہ افواج پاکستان کو بھگتنا پڑا اور وہاں لڑنے والے فوجیوں کی تعداد 92ہزار نہیں تھی بلکہ 34ہزار تھی، جنہوں نے ڈھائی لاکھ بھارتی فوجیوں سے نہایت بہادری اور سر فروشی کے ساتھ جنگ لڑی ، میں نے اپنے کالموں میں سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا ہے اور اس میں میں یہی بتاتا چلا آیا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں سیاسی ناکامی کا ملبہ افواج پاکستان پر ڈالا گیا۔
جنرل باجوہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئندہ فوج کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی اور میں یقین دلاتا ہوں کہ اس پر سختی سے کاربند رہا جائے گا، یہ بات کہنا در اصل اس بات کا مظہر ہے کہ یہ پورے ادارے کا متفقہ فیصلہ ہے ، مگرمیرا یہاں موقف ہے کہ فوج نہ تو سیاسی معاملات میں مداخلت میں دلچسپی رکھتی ہے اور نہ ہی کبھی اس کی خواہشمند رہی ہے البتہ ہر بار سیاستدانوں نے آپس کی چپقلش اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے فوج کو سیاسی میدان میں گھیسٹا ، جنرل باجوہ کا مستقبل میں فوج کی سیاسی عدم مداخلت کا واضح اعلان آنے والی سیاسی و عسکری قیادت کیلئے ایک گائیڈ لائن ثابت ہو گا، اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔
جنرل باجوہ نے ملک میں گزشتہ چند ماہ سے جاری سیاسی محاذ آرائی کا بھی نہایت خوبصورت انداز میں نقشہ گھینچا ، ان کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں جمہوریت کی روح کو سمجھتے ہوئے عدم برداشت کی فضا کو ختم کرتے ہوئے پاکستان میں سچاجمہوری کلچر اپنانا ہو گا، جنرل باجوہ کا یہ کہنا ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کیلئے ایک مفید مشورے کی حیثیت رکھتا ہے ۔
اگر آپ میرے گزشتہ چند ماہ کے دوران روز ٹی وی پر کیے جانے والے شوز اور پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز میں لکھے گئے کالموں کو پڑھیں یا پھر ادارتی نوٹس کو پڑھیں تو میں نے بار ہا مرتبہ ملک کی سیاسی قیادت سے دست بدستہ گزارش کی اور یہ گزارش بار بار کرتا رہا کہ خدا را ملک کی فکر کریں، افواج پاکستان کو کسی آزمائش میں نہ ڈالیں ، ان پر الزام تراشی اور بہتان تراشی کا سلسلہ بند کریں، اور ملکی معیشت کو مستحکم اور مضبوط بنانے کیلئے آپس میں چارٹر آف اکانومی کریں ، اور مل بیٹھ کر ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے یک نکاتی ایجنڈے پر اتفاق رائے کریں اور اپنا سیاسی چورن بیچنے کے سلسلے کو بند کریں، انہی معاشی بحرانوں کا تذکرہ جنرل باجوہ نے اپنے خطاب میں کر کے میرے موقف کی تائید کر دی ، اس سے قبل صدر مملکت نے بھی میرے تجویز کردہ چارٹر آف اکانومی کی تائید کی۔
اپنے مفصل اور تاریخی خطاب میںجنرل باجوہ نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر لگائے جانے والے ” سلیکٹڈ “ اور ” امپورٹڈ “ کے الزامات کا بھی تذکرہ کیا، ان دو باتوں کا ذکر کے انہوں نے ثابت کر دیا کہ ان کی ہمدردیاں کسی مخصوص سیاسی جماعت کے بجائے صرف اور صرف ریاست پاکستان اور اپنے ادارے سے ہیں اور یہ کہ فوج واقعتاً سیاست سے میلوں دور جا چکی ہے ۔
جنرل باجوہ نے اپنے خطاب کے دوران ایک سیاسی جماعت کے جھوٹے بیانیہ کا بھی ذکر کیا، میں نے بھی اس جماعت کے سربراہ کو مشورہ دیا تھا کہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر سیاست کریں، اور اس وقت سیاست کو ترک کے اپنے آپ کو متاثرین سیلاب اور مخلوق خدا کیلئے وقف کر دیں۔
جنرل باجوہ کا 6سالہ دور قیادت ہر لحاظ سے تاریخی رہے گا، اپنے دور میں انہوں نے اندرونی محاذ پر دہشتگردی کیخلاف مسلسل جنگ کر کے دہشتگردوں کو نیست و نابود کر دیا ا ور ملکی دفاع کو مستحکم کیا، انہوں نے بحیثت سپہ سالار عوامی جمہوریہ چین ، سعودیہ عرب ، متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی ایک نئی تاریخ رقم کی، سابقہ حکومت نے اپنے برطرفی کے حوالے سے امریکہ پر الزام عائد کر کے پاک امریکہ تعلقات کو آزمائش میں ڈالنے کی کوشش کی مگر جنرل باجوہ نے ایک ماہر فوجی اور ماہر سفارتکار کے طور پر ان تعلقات میں دراڑ نہیں پڑنے دی، انہوں نے مسلسل محنت کر کے پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلوایا ، عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو بہتر بنایا اور کھیلوں کے میدان آباد کیے، ان کے دور میں دنیا بھر سے آنے والی غیر ملکی ٹیموں نے پاکستانی میدانوں میں آکر کھیلنا شروع کیا اور جنرل باجوہ کی شبانہ روز محنت سے ہمارے گراﺅنڈز ایک بار پھر آباد ہو گئے اور ان کی رونق لوٹ آئی، ان کے دور میں فوج نے اپنے خلاف کی جانے والی تنقید کونہایت صبر و تحمل اور خندہ پیشانی سے برداشت کیا، ان کے دور میں یہ بھی پہلی بار ہوا کہ اداروں پر کی جانے والی بے بنیاد الزام تراشیوں کا نہایت صبر و تحمل کے ساتھ دو فوجی جرنیلوں نے ٹی وی سکرین پر آکر جواب دیا، اور اس ایشو کو طاقت سے دبانے کے بجائے ملکی وقار اور امن و امان کے پیش نظر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ، یقیناً جنرل باجوہ پاکستان کے دفاع کی بھاگ دوڑ ذمہ دار ، تجربہ کار اور جہاندیدہ ہاتھوں میں سونپ کر ، ایک مضبو ط جمہوری نظام کی بنیاد رکھ کر رخصت ہو رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے