- الإعلانات -

عمران خان کی کامیابی کا راز۔۔۔۔۔۔۔۔؟

ہر کامیاب آدمی کے پیچھے کوئی عورت ہوتی ہے۔عمران خان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ ان کی اہلیہ کی دعائیں ہر مشکل وقت میں ان کے کام آ جاتی ہیں۔ہر ایسے مرحلے پر ان دعائوں کے صدقے وہ بحران سے نکل آتے ہیں۔ یہ وہی کہانی ہے کہ ” میں ڈوبتا ہوں سمندر اچھال دیتا ہے” ۔ سمندر دعائوں کی طرح حصار بنا کر اچھال دیتا ہے ۔ سمندر ڈوبنے ہی نہیں دیتا۔
ہر چند ماہ بعد لگتا ہے یہ بحران تو حکومت کو لے ڈوبے گا اور ہر بحران سے عمران خان یوں نکل آتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔کہاں حزب اختلاف کے وہ ایام جب لگتا ہی نہیں تھا کبھی اقتدار عمران خان کو ملے گا اور کہاں وہ وقت کہ وہ وزارت عظمی کا حلف اٹھا رہے تھے۔کہاں وہ ڈانواں ڈول معیشت کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کا ڈر تھا اور کہاں یہ وقت کہ معیشت سنبھل رہی ہے، سٹاک مارکیٹ میںریکارڈ تیزی آ رہی ہے اور کنسٹرکشن کے بزنس میں اٹھان ہے۔کہاں وہ وقت کہ ایک ایک ڈالر کے لیے مختلف مالیاتی اداروں کے چکر کاٹے جا رہے تھے اور کہاں یہ وقت کہ پاکستان نے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر لوٹا دیے ہیں۔کہاں وہ عالم کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہوتا دکھائی دے رہا تھا اور کہاں یہ وقت کہ اب بھارت کی تنہائی بڑھتی جا رہی ہے۔ کہاں وہ دن کہ بھارت نے افغانستان کے راستے ہمارا ناطقہ بند کر رکھا تھا اور کہاں یہ وقت کہ افغانستان سے بھارت کا کردار سمٹ رہا ہے۔ کہاں وہ وقت کہ گوادر کو ناکام بنانے کے لیے بھارت نے ایران کے چاہ بہار میں سرمایہ کاری کی اور کہاں یہ وقت کہ ایران اپنے منصوبوں سے بھارت کو الگ کر رہا ہے۔ کہاں وہ وقت کہ دہشت گردی کا الزام پاکستان پر عائد ہوتا تھا اور کہاں یہ وقت کہ اقوام متحدہ دہشت گردی کے معاملے میں بھارت پر انگلی اٹھا رہی ہے ۔ کہاں وہ عالم کہ ہر فورم پر پاکستان وضاحتیں پیش کرتا تھا اور کہاں یہ عالم کہ پاکستان سرخرو ہے اور وضاحتیں دینے کی باری اب بھارت کی ہے۔کہاں وہ وقت کہ ملک داخلی تنائو سے دہک رہا تھا اور کہاں یہ لمحہ جب سب ایک پیج پر ہیں اور ادارے اور حکومت سب مل کر وطن عزیز کے لیے سوچ رہے ہیں۔
یہ وہ بدلتا پاکستان ہے۔ یہ وہ نیا پاکستان ہے جس کا عمران نے خواب دیکھا تھا۔ کشمیر کے مسئلے پر بھی عمران خان کو ایک بہت بڑا چیلنج درپیش تھا ۔بھارت نے آرٹیکل370 کو جس طرح ختم کیا اور مقبوضہ کشمیر کو جس طرح اقوام متحدہ کے طے شدہ اصولوں کو پامال کرتے ہوئے اپنا حصہ بنا لیا وہ بہت بڑا خطرہ تھا۔ عمران خان اور ان کی ٹیم کی کامیاب حکمت عملی نے آج بھارت کو حواس باختہ کر رکھا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف نئے نقشے میں کشمیر پر بھارتی قبضے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر پاکستان نے جونا گڑھ پر بھی اپنا دعویٰ کر دیا ہے۔ جونا گڑھ پاکستان کے قیام کے ایک دن بعد پاکستان میں شامل ہو گیا تھا۔لیکن اگلے ہی ماہ اس پر بھارت نے قبضہ کر لیا ۔عمران خان نے اس پر اپنا دعویٰ کر دیا۔ پورے پاکستان کا نقشہ جاری کر دیا۔ یہ کام آج تک کوئی نہ کر سکا۔ یہ کام قدرت نے عمران خان سے کروا دیا۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔
عمران خان کی پشت پر کوئی بوجھ نہیں۔ انہوں نے کرپشن نہیں کی۔ ایک شفاف آدمی ملک کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے۔میں نے تین چیف جسٹس آف پاکستان اورموجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو عمران کو سچا اور دیانتدار کہتے خود سنا ہے۔ جناب ثاقب نثار نے ،جناب آصف سعید کھوسہ نے میرے سامنے عمران خان کو سچا اور دیانت دار کہا۔ ہماری سیاست میں یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں کہ ایک شخص وزیر اعظم ہو اور اس کی نیک نامی کی بابت اعلی عدلیہ کے چیف جسٹس کی اتنی اچھی رائے ہو۔ یہی نیک نامی عمران خان کی اصل قوت ہے۔ اور اسی نیک نیت اور دیانت دار عمران خان سے قوم یہ امید کرتی ہے کہ وہ اسے مسائل سے نکالے گا۔
میرے خیال میں عمران خان میں صرف ایک کمی ہے اور مردم شناسی کی کمی ہے۔ ان کی ٹیم میں سب اچھے لوگ نہیں ہیں۔ یہ لوگ عمران خان کے لیے مسائل پیدا کریں گے اور خرابی کا باعث ہوں گے۔ جس خاتون کی دعائوں کا عمران کو سہارا ہے یہ کمی بھی وہی خاتون ہی دور کر سکتی ہیں۔ انہیں عمران خان کو اس معاملے میں اچھے مشورے دینے چاہئیںتا کہ عمران کے ارد گردصرف وہی لوگ ہوں جو اس سے اور ملک سے مخلص ہوں۔