- الإعلانات -

زمینی حقائق کو ملحوظ خاطررکھناہوگا

ہمت بھی ہے ، دلاوری بھی ہے ، جذبہ بھی ہے اور خلوص بھی ۔۔۔کیا وجہ ہے کہ اس سب کے باوجود کامیابی نے ابھی تک عمران خان کے قدم نہیں چومے؟
ایک پریس کانفرس میں جانا ہوا۔کابینہ کی اہم شخصیات وہاں موجود تھیں۔ خوبیاں بیان ہونے لگیں تو ہر دوسرے کے تعارف میں ہارورڈ اور آکسفورڈ آنے لگے۔یہ ہاورڈ کا پڑھا ہے ، یہ دیکھئے یہ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ہے ، ان سے ملئے یہ کیمرج سے فارغ التحصیل ہیں۔ تعارف ہوتے رہے اور میں سوچتا رہا کہ اعلیٰ غیر ملکی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل تو بہت ہیں عمران خان کے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے جو اس معاشرے کے مسائل سے آگاہ ہوتے ، جو عام لوگوں کے درد کو جانتے ہوتے اور جو زمینی حقائق کی تھوڑی بہت خبر رکھتے ہوتے تو شاید معاملات عمران خان کی گرفت میں آ چکے ہوتے۔ ابھی جذبہ بھی بہت ہے اور کتابی علم بھی کم نہیں ، کاغذوں پر قابلیت کا انبار ہے لیکن کمی ایک ہی ہے کہ زمینی حقیقتوں کا علم نہیں۔ آکسفورڈ اور ہاورڈ کی ڈگریاں بھی عزت و افتخار کا باعث ہوتی ہیں لیکن زمینی حقیقتوں کا علم نہ ہو تو یہ ڈگریاں بھی کاغذ کے پلندے کے سوا کچھ نہیں ہوتیں۔ زندگی کے مسائل تھیوری سے ہی حل نہیں ہوتے پریکٹیکل نالج بھی ضروری ہوتا ہے۔میرے خیال میں بس ایک یہی کمی ہے جو عمران خان کی کامیابی کی راہ میں حائل ہے۔ سوشل میڈیا پر ماحول بنانا اور بات ہے اور زمین کے سینے پر گڑی حقیقتوں کو سمجھنا اور بات ہے۔
کچھ دن قبل میری اور عارف نظامی صاحب کی قیادت میں سی پی این ای کا ایک وفدوفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز صاحب سے اور وزیر اعظم کے مشیر جنرل (ر)عاصم باجوہ صاحب سے ملا جس میں ارشاد احمد عارف صاحب اور ایاز خان صاحب بھی شریک تھے۔شبلی فراز بڑے باپ کے بیٹے اور خاندانی آدمی ہیں ، جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ سے میں کرنل سے لیکر جنرل تک بخوبی واقف ہوں وہ نہایت دیانتدار اور محب وطن سولجر ہیں،وہاں میں نے ان کے سامنے کچھ ایسی معروضات رکھیں جن کا تعلق شعبہ صحافت سے تھا اور جہاں یہی زمینی حقیقتیں نظر انداز کی جا رہی تھیں۔ میں چاہتا ہوں کہ عام قاری بھی اس مسئلے کو سمجھ لے اس لیے میں یہاں ان کو اختصار کے ساتھ تفصیل سے بیان کرتا ہوں۔
سب سے پہلا معاملہ اخبارات کا تھا۔ میں نے چند معاملات ان کے سامنے رکھے۔ مثلا ًیہ کہ آپ اگر اشتہارات کا تعین سرکولیشن کی بنیاد پر کرتے ہیں تو حقائق یہ ہیں کہ:
1،میرے سمیت تمام اخبارات کی اصل اشاعت وہ نہیں ہو گی جو سرکاری سرکاری طورپر ڈیکلیئرڈ ہو گی۔ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟ مشینیں چیک کرنا اچھی بات ہے لیکن اشاعت کی حقیقت اور اشاعت کے دعوے میں فرق تلاش کرنے کا تعلق زمینی حقیقتوں سے ہے۔اس کا کیا کریں گے۔
2۔ دوسری زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج کل سرکولیشن اس بات کا معیار یا ثبوت رہا ہی نہیں کہ اخبار کتنا مقبول ہے یا کتنا پڑھا جا رہا ہے۔ہم ڈیجیٹل دور میں رہ رہے ہیں جہاں اخبار لوگ اپنے موبائل پر آن لائن پڑھ لیتے ہیں۔کئی شہروں میں اخبار نہیں جاتا مگر اخبار کا قاری موجود ہوتا ہے۔
3۔ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق اخبار کی سرکولیشن کا جائزہ لینے کے لیے زمینی حقیقتوں کی روشنی میںکیا حکومت نے کوئی پالیسی بنا رکھی ہے یا اس دور میں بھی سرکولیشن کا تعین محض اخبارات کی اشاعت اور ترسیل جیسے قدیم اور نیم متروک ذریعے سے ہونا ہے؟ حکومتی وسائل کے باوجود بیوروکریسی کوئی قابل عمل فارمولا کیوں نہیںبناتی ۔
ارشاد عارف صاحب نے بھی اس موقع پر میری تائید کی کہ ہمیں تو سنا ہی نہیں جاتا اور سردار خان نیازی جو کہہ رہے ہیں ہم اس سے متفق ہیں۔
اسی طرح کے مسائل الیکٹرانک میڈیا میں بھی ہیں۔تو میں نے اس سلسلے میں بھی چند زمینی حقائق ان کے سامنے رکھے،مثلاً:
1۔ جب آپ کہتے ہیں کہ یہ چار پانچ چینل چینل بڑے ہیں تو باقی چھوٹے چینل ہیں تو یہ ایک گالی ہے جو آپ دیتے ہیں۔آپ یہ سمجھا دیں کہ آپ کی رائے میں بڑا چینل کون ہوتا ہے؟ وہ چینل بڑا ہے جو پاکستان کے آئین اور پیمرا کے ضابطوں کے مطابق چل رہا ہے جس کااپنا ضابطہ اخلاق ہے اوراس پر عمل پیرا ہے ،اسلام اور پاکستانیت سے جڑا ہے یا وہ چینل بڑا ہے جو ان چیزوں سے بے نیاز ہے اور مصنوعی چکا چوند اور جھوٹے تاثر پر قائم ہے؟
2۔ ریٹنگ کے نظام پر ہی بھروسہ کرنا ہے تو کیا ریٹنگ کا نظام شفاف اور اس قابل ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جائے۔ کیا یہ مناسب رویہ ہے کہ نیا ٹیل کو دیکھ کر فیصلہ کر لیا جائے کون سا چینل زیادہ دیکھا جاتا ہے؟ نیا ٹل اچھا ادارہ ہے اور اس کی اچھی ساکھ ہے لیکن وہ تو پورے ملک میں نہیں دیکھا جاتا۔ اس کا دائرہ کار جڑواں شہروں تک محدود ہے۔ کیا حکومت کے نزدیک پاکستان کا مطلب صرف اسلام آباد اور راولپنڈی ہیں۔جہاںاس کے علاوہ چالیس کیبلز اور بھی ہیں نیا ٹیل صرف اپنی ریٹنگ بیان کرتاہے ،کیا حکومت کے پاس ملک بھر سے ریٹنگ لینے کا کوئی اور معیاری سرکاری میکنزم موجود ہے؟
3۔ پی ٹی سی ایل سمارٹ کیبل بھی بہت اچھی ہو گی لیکن وہ بھی صرف ایک کیبل ہے۔ اس کے علاوہ جو چھ ہزار کیبلز اور چار ہزارلوپس ہیں دس ہزار کیبلز کی ریٹنگ کہاں سے لیں گے،کیامیڈیا لاجک دے گا،جس کے پاس اس کے کلیم پردہ نو سو میٹر ہیں جبکہ اس کے سو میٹر کام کررہے ہیں، کیا کبھی ان کی جامع قسم کی ریڈنگ لی گئی اور کیا ایک جامع ریڈنگ لینے کا کوئی نظام حکومت کے پاس موجود ہے؟
4۔ میڈیا لاجک بھی اچھا ادارہ ہو گا لیکن کیا میڈیا لاجک پورے پاکستان میں میٹر لگا چکا ہے کہ اس کی ریڈننگ کو ہم پاکستان بھر کی ریڈنگ کہہ سکیں۔ 100 میٹر لگا کر کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب ہمارے پاس ملک بھر سے قابل بھروسہ ریڈنگ آ چکی ہے اور اس کی بنیاد پر ہم ریٹنگ کا تعین کر سکتے ہیں؟
میری معروضات کا تعلق میڈیا سے تھا کیونکہ یہ محفل ہی میڈیا سے متعلق تھی۔ تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر شعبے میں مسائل کی جڑ یہی ہے کہ زمینی حقیقتوں کو مد نظر نہیں رکھا جا رہا۔جب زمینی حقیقتوں کا ہی علم نہیں ہو گا تو پھر پالیسی کے یہ مسائل اسی طرح رہیں گے اور بڑھتے چلے جائیں گے۔ان مسائل کو حل کرنا ہے تو زمینی حقیقتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا، چھوٹے بڑے کے چکر سے حقیقتاً نکلنا ہوگا اور میڈیا ہائوسز کو لاء آف لینڈ کے مطابق دیکھناہوگا۔