- الإعلانات -

وزیراعظم کے نام کھلا خط

تحریر:ایس کے نیازی
حریت رہنماء علی گیلانی کی شخصیت دنیا بھر میں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور تحریک آزاد ی کشمیر میں ان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے وہ ہمیشہ مقبوضہ واد ی کے نہتے اور معصوم کشمیریوں کی آواز بنے ان کی تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے خدمات کا احاطہ کیا جائے تو یہ سطور کم پڑ جائیں گی۔انہوں نے ہمیشہ بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کا پیغام بھی پہنچایا ۔ ان ہی تمام خدمات کے پیش نظر حکومت پاکستان نے انہیں نشان پاکستان کے اعزاز سے نواز ا ، سید علی گیلانی نے پاکستانیوں کے لیے پیغام میں کہا کہ ”اردو محض ایک زبان کا نام نہیں۔بلکہ بر صغیر میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے یہ صدیوں سے دینی علوم کی حفاظت و ترسیل کا ایک ذریعہ اور وسیلہ رہی ہے۔لہذا اردو زبان کو عوامی زندگی سے نکال باہر کرنے کی حالیہ بھارتی کوششیں کشمیری مسلمانوں کے خلاف ایک شدید ثقافتی حملہ کے مترادف ہیں۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اردو زبان کو زندہ رکھ کر اور روز مرہ کی زندگی کے ہر شعبے میں اسکا استعمال یقینی بنائیں اور بھارت کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں”ان کے پیغام سے دو ٹوک انداز میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگرہم نے بھارت کی پالیسی کو ڈی کوڈ کرنا ہے تو ہمیں اردو کلچر کو اپنانا ہو گا ۔بھارت اپنے مزموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہمیں اردو زبان سے دورکرنا چاہتاہے اور اگرہم دور ہو گئے تودشمن اپنی پالیسی میں کامیاب ہو جائے گا ، لہذا اسے ناکامی سے دوچار کرنے کے لیے اردو کو وظیفہ حیات بنانا ہو گا ، یعنی کے جس طرح جسم اور جان کا رشتہ جوڑنے کے لیے سانس ضروری ہوتا ہے اسی طرح ہمیں اردو زبان کو بھی اپنانا ہو گا ، کمال حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ ہم اردو کلچر سے اتنے دور ہوتے جارہے ہیں کہ ہمارے ہی ملک میں غیر ملکی سفیر جیسے کہ چین و دیگر ممالک ہیں وہ اپنی زبان میں بات کرتے ہیں اور ہم لوگ انگلش میں ،یعنی کے وہ اپنے ملک کی ثقافت کو کسی طرح بھی پامال نہیں ہونے دیتے حالانکہ ترجمان بھی موجود ہوتا ہے ۔ہم فرنگی کی زبان کو اپنانے میں”اعزاز” سمجھتے ہیں جو اردو کلچر کے لیے زہر قاتل ہے ۔میں یہاں یہ کہوں گا کہ وزیراعظم عمران خان محنتی اور ایماندار آدمی ہیں اسی وجہ سے اللہ رب العزت نے انہیں عنان اقتدار سے نوازا ہے اس ذمہ دار عہدے پر براجمان ہونے کے ساتھ ساتھ کامیابی سے ہمکنارہونے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی ٹیم میں ایسے لوگ شامل ہوں جو کے زمینی حقائق سے واقف ہوں۔ہاورڈ یا آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنا کوئی بڑی بات نہیں دراصل بات ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ آ پ کو اپنے ارد گرد ، گلی محلے اور شہروںکے مسائل کے حوالے سے آگاہ ہونا انتہائی ضروری ہے ، عمران خان آپ محب وطن ہیں آپ کی کاوشوں اور جرات مندانہ اقدامات سے کوئی اختلاف نہیں ،آپ دراصل پاکستان کی ثقافت کا ایک نمونہ ہیں ، آپ نے کبھی بھی پینٹ، کوٹ ، ٹائی کو ترجیح نہیں دی چاہے آپ اندرون ملک ہوں یا بیرون ملک ، امریکی صدر سے ملاقات ہو یا جنرل اسمبلی سے خطاب ، آپ ہمیشہ اپنے قومی لباس شلوار قمیض میں ملبوس نظر آتے ہیں ۔ اسی وجہ سے عوام میں بھی آپ کو پذیرائی حاصل ہے ، یہاں میں آپ سے ایک درخواست ضرور کرونگا، گو کہ اس حوالے سے قانون بھی موجود ہے ، میں خود اس سلسلے میں سپریم کورٹ گیا اور جسٹس جواد ایس خواجہ کے سامنے پیش ہو کر اردو کے حوالے سے فیصلہ بھی لیا، لیکن کف افسوس ہی کر سکتے ہیں کہ ہم آج تک اردو کو سرکاری زبان نہیں بنا سکے ۔اس پر عمل درآمد نہیں کروا سکے ۔آ پ اس پر عمل کروا دیں تو یقینی طور پر تاریخ میں سنہرے حروفوں سے یاد رکھا جائے گا ، پھر بھارتی پالیسیوں کو ڈی کوڈ اور جیسا کہ آج آ پ نے کہا ہے کہ برطانوی کلچر کو ختم کرنا ہوگا تو ہم ان تمام چیزوں میں تب ہی کامیاب ہو سکیں گے کہ اردو کلچر کو اپنا یا جائے ۔میں تو یہ کہوں گا کہ ہم احساس کم تری کاشکار ہیں ۔آج تک دفتری زبان کاغذوں میں تو اردوہے لیکن جتنے بھی خطوط ، احکامات یا دیگر اجلاسوں کے نکات جاری کیے جاتے ہیں وہ تمام کے تمام انگلش زبان میں تحریر کیے جاتے ہیں ۔جب تک ہم اپنی قومی زبان کو نہیں اپنائیں گے دنیا میں اپنی پہچان نہیں پیدا کرسکتے ۔بعض اوقات حیرانگی ہوتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کا آئین دیا ، اس میں اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا لیکن آئین انگلش میں تحریر کیا گیا ۔آپ دیکھ لیں کہ دنیا میں جتنی بھی بڑی قومیں ہیں وہ ہمیشہ اپنی زبان کو ترجیح دیتی ہیں ۔سعودی عرب ہو متحدہ امارات چین یا عراق سب اپنے کلچر کو فروغ دیتے ہیں لیکن حیف ہے ہم انگلش زبان اور سوٹ بوٹ پہننے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔آخرکونسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آج تک اردو زبان کو اپنا نے میں عملدرآمد نہیں ہو سکا ۔ان کو جاننے اور ختم کرنے کی ضرورت ہے ، کپتان صاحب جیسا کہ آپ قانون سازی کروا رہے ہیں اور آپ جو بھی قانون سازی کرانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس میں آپ کا ممد و معاون ہوتا ہے یہ آپ پر ایک خاص کرم ہے اس رب العزت کی طرف سے ، آپ نے منی لانڈرنگ کے ترمیمی بل کو منظور کرا کے تاریخ رقم کر دی ، اور اب کرپٹ لوگوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا گو کہ اس حوالے سے آپ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا ، لیکن ہم نے یہ دیکھا ہے کہ آپ نے جو بھی ملک اور قوم کے مفاد میں قدم اٹھایا ،فیصلہ کیا اس پر آپ اس وقت تک ثابت قدم رہے جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کیا۔ لیکن افسوس سے ہی کہا جاسکتا ہے کہ جو نتائج آپ اخذ کرنا چاہتے ہیں وہ نہیں مل سکے کیونکہ آپ کی ٹیم کو زمینی حقائق سے آگاہی حاصل ہی نہیں ہے ۔اب ہم یہ کہتے ہیں کہ چاہے منی لانڈرنگ کا مسئلہ ہو ، ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ ہویا پھر سانحہ موٹر وے جیسے مسائل ہوں، اس حوالے سے بھی آپ کی ہدایات کے مطابق قانون سازی کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ہم یہ ضرور کہیں گے کہ وزیراعظم صاحب آپ اردو زبان کو سرکاری طور پر اپنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کے حوالے سے احکامات جاری کریں ۔اور سرکاری دفاتر میں باقاعدہ طور پر نوٹیفیکیشن کے ذریعے پابندی عائد کر دی جائے کہ اگر کوئی بھی سرکاری افسر انگریزی زبان میں احکامات جاری کریگا تو اس کے لیے ایک خاص سزا متعین کر دی جائے ، امکانات ہیں پھر اردو زبان کو اپنا نے میں کامیابی حاصل ہو سکے گی اورہم اپنے دشمن کی پالیسیوں کو بھی ناکامی سے ہمکنار کرسکیں گے ۔اردو اتنی میٹھی اور لشکری زبان ہے جو کہ مختلف سات زبانوں سے مل کر بنی ہے ۔ اس کو بولنے اور اپنانے میں کوئی بھی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے ۔ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے آج میں جناب وزیراعظم آپ کے نام کھلا خط تحریر کر رہا ہوں اور پھر مقبوضہ وادی کے بزرگ رہنماء تحریک آزادی کشمیرکے روح رواں سید علی گیلانی نے اردو زبان سے دوری کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے وہ انتہائی قابل غور ہیں ۔ اگر ان پر توجہ نہ دی گئی تو پھر ہم بھارت کی پالیسیوں کوکیوں کر ڈی کوڈ کرسکیں گے اور نہ ہی دنیا میں اپنی پہچان وعزت بنا سکتے ہیں ۔جس طرح آپ نے قومی لباس کو فروغ دیا ہے اسی طرح قومی زبان کے حوالے سے بھی وزیراعظم صاحب آپ کو انقلابی اقدامات اٹھانے ہونگے ۔ تب ہی اردو کلچر فروغ پا سکے گا۔