- الإعلانات -

سی ڈی اے کی کامیاب نیلامی،سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور مہنگائی

سی ڈی اے کے تحت ہونیوالی پلاٹوں کی نیلامی انتہائی خوش آئند رہی اور اس میں لگ بھگ 55ارب روپے اکٹھے کیے گئے ،یہ کامیابی وزیراعظم پاکستان عمران کے مرہون منت ہے ،ساتھ ساتھ سی ڈی اے چیئرمین کی بھی تعریف نہ کی جائے تو زیادتی ہوگی آپ یہ سوچیں کہ کپتان کی بہترین پالیسی کی وجہ سے ایک گز زمین 18لاکھ روپے میں فروخت ہوئی یہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا بھی مظہر ہے نیز لاہور کے راوی ریور منصوبے میں بھی اسی طرح سرمایہ کار حد سے بڑھ کر دلچسپی لے رہے ہیں ۔ بیرون ملک سے بھی سرمایہ پاکستان آنا شروع ہو گیا ہے جس سے ملکی معیشت اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے روشن امکانات پیدا ہوتے جارہے ہیں گو کہ ایک جانب حکومتی پالیسی کی وجہ سے اربوں روپے اکٹھے کیے گئے تو دوسری جانب بجلی کا بم ،زندگی بچانے والی ادویات اور یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء خوردو نوش جس میں گھی ،آئل ،دودھ وغیرہ شامل ہیں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ، اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیاہے، اگر ہم بغور جائزہ لیں تو 18لاکھ فی گز کے حساب سے پلاٹ خریدنے والی اس ملک کی بیس فیصد ایلیٹ کلاس ہے ،جو خریداری کرتے وقت کبھی بھی بھاءو تاءو نہیں کرتی بلکہ اگر بقایا بچ بھی جائے تو وہ دوکاندار کوہی دے آتے ہیں ۔ اب بجلی ،ادویات اور اشیاء خوردونوش جو مہنگی کی گئی ہیں اس سے ملک بھر کے 80فیصد لوگ متاثر ہونگے ۔ یہ مہنگائی کا طوفان غریب عوام کے لیے دو وقت کے لقمے کے حصول کو بھی نا ممکن بنا دے گا ، وزیراعظم پاکستان کو ان زمینی حقائق کے بارے میں جاننا ہو گا، گلی محلے کے مسائل کو معلوم کرنا ہو گا، ہاءورڈ اور آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ لوگوں کو عوام کے پاس بھیجنا ہوگا تاکہ انہیں علم ہو سکے کہ مارکیٹ میں دال کس بھاءو بکتی ہے ، جب تک عوامی مسائل حل نہیں ہونگے تو ایک مخصوص حصار میں بیٹھ کر فیصلے مثبت نتاءج کے حامل نہیں ہوسکتے دراصل تھیوری اور پریکٹیکل میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ، جب تک عمل نہ ہو اس وقت تک تھیوری سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا، وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد جو ہمارے دوست ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں ٹیلی ویژن پر سب سے زیادہ مجھے دیکھا اور سنا جاتا ہے یہ بلکل درست کہہ رہے ہیں ،لیکن شاید انہیں اس کا علم نہیں ہے کہ ملک بھر میں 6600کیبلز چل رہی ہیں کسی ایک کیبل کو دیکھ کر ریٹنگ کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کیبلز کے ساتھ ساتھ 6کروڑ عوام کے پاس ٹی وی ہیں اور جو لوگ مضافات میں رہتے ہیں وہ مذکورہ بالا کیبلز کی تعداد جن کا ہم نے ذکر کیا ہے ان کے ذریعے ٹی وی دیکھتے ہیں ۔ یہ بات درست ہے کہ سیاسی لوگوں کو سنا جاتا ہے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ اس کی ریٹنگ سب سے زیادہ ہے تو اسے زمینی حقائق سے آگاہ ہونا ہوگا ۔ ہمارے ملک میں سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ جب کوئی باہر سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آ جاتا ہے تو سمجھتا ہے کہ وہ ہی عقل کل ہے ، لیکن حالات اس کے قطعی طور پر بر عکس ہیں ، زمینی حقائق کچھ اور مطالبہ کررہے ہوتے ہیں ،ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر جو فیصلے کیے جاتے ہیں وہ خواص کے لیے تو ہوسکتے ہیں لیکن عوام کے لیے نہیں ،جب تک ملک کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے حکومت بنیادی سہولیات فراہم نہیں کرے گی، اس وقت تک مسائل اسی طرح گھمبیر رہیں گے ،وزیراعظم پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ عوام الناس سے کسی نہ کسی طور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کریں ، ان کو سنیں ان کے مسائل حل کرنے کے لیے احکامات صادر کریں ۔ اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ وزیراعظم عمران خان محنتی اور نیک نیت شخصیت کے حامل ہیں اور اس کی وجہ سے ان کے راستے میں جو بھی رکاوٹیں آتی ہیں وہ انہیں عبور کر لیتے ہیں ۔ آج ملک میں جو حالات بہتر ہو رہے ہیں وہ صرف عمران خان کے ہی مرہون منت ہیں ، انہیں اپنی ٹیم پر بھی توجہ دینا ہوگی، جب اسلام آباد میں ایک گز زمین 18لاکھ کی فروخت ہو سکتی ہے تو پھر دیکھ لیں کہ اس ملک میں کتنا پیسہ ہے گوکہ کالا دھن بھی باہر آ رہا ہے مگر بات یہ ہے کہ اسے اس ملک میں ہی لگایا جارہا ہے ۔ جہاں معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں وہاں حکومت مہنگائی کے طوفان کو بھی کنٹرول کر لے تو پھر حالات اور مزید بہتر ہوسکتے ہیں ۔ ایک جانب اربوں روپے کی زمین فروخت ہونے کی خوش آئند خبر مگر ساتھ ہی مہنگائی کی خبر آئی ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے ، عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ سیاسی سطح پر کیا فیصلے ہو رہے ہیں ، کون آ رہا ہے کون جارہا ہے ،کیا قانون سازی ہو رہی ہے ، کس جماعت کے سربراہ نے کیا بیان دیا، کس سے کس کی ملاقات ہو رہی ہے ،غریب عوام کو تو اپنے مسائل سے غرض ہے کہ اسے آٹا ، دال، چینی کس بھاءو مل رہی ہے ،پٹرول کی قیمت کیا ہے ، بجلی کا بل کتنا آئے گا ، مکان کا کرایہ کہاں سے دے گا ،بچوں کے سکول کی فیسوں کی ادائیگی کہاں سے کرے گا، اس کو تو غم روزگار ہی کھائے جارہا ہے لہذا ہم حکومت سے یہ درخواست کریں گے کہ وہ عوامی بنیادی مسائل اور جلدی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے یہ ہی حکومت کی منزل مقصود ہونی چاہیے