- الإعلانات -

بڑے بھائی کی یاد میں

جب بھائی جدا ہوتا ہے گویا وجود کی فصیل کا ایک برج گر جاتا ہے ۔ میں بھی اپنے وجود کی فصیل کو میانوالی میں دفن کر کے آیا ہوں ۔ بھائی بچھڑ جائے تو بھائی بچھڑتا ہے ، لیکن بڑا بھائی بچھڑ جائے تو یہ گویا باپ کے بچھڑنے جیسا صدمہ ہوتا ہے ۔ بہن ہو یا بھائی ، یہ رشتوں کی ایک حسین مالا ہے لیکن بہن بڑی ہو تو ماں جیسی ممتا کی علامت ہوتی ہے اور بھائی بڑا ہو تو باپ جیسی چھاءوں اس کے ساتھ ہوتی ہے ۔ مالا کے ہر موتی کے بکھر جانے کا دکھ ہوتا ہے لیکن مالا کے بڑے موتی کے بچھڑ جانے دکھ بہت بڑا ہوتا ہے ۔

میرے بڑے بھائی محمد حسن خان نیازی ( مرحوم لکھتے ہوئے دل ڈوب ڈوب جاتا ہے)ہ میں چھوڑ کر خالق حقیقی کے پاس جا پہنچے ۔ میانوالی میں ان کے جنازے میں لوگوں کا جم غفیر تھا ۔ اتنا بڑا جنازہ میانوالی کی تاریخ میں اس سے پہلے میں نے نہیں دیکھا ۔ بھائی جان نے خود کو سوشل ورک اور غریبوں کی خدمت کے لئے وقف کر رکھا تھا ۔ جنازے میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد ان سے لوگوں کی محبت کا پتا دے رہی تھی ۔ اپنے علاقے میں وہ رفاہ عامہ کے کئی پراجیکٹ چلا رہے تھے ۔ ان کا یہاں ذکر اس لیے نہیں کر رہا کہ بھائی نے یہ کام خالص اللہ کی رضا کے لیے کیے تھے ۔ بس یہی دعا ہے کہ اللہ ان کے کاموں کو قبول فرمائے اور انہیں بڑے اجر سے نوازے ۔ آپ دوستوں سے بھی یہی درخواست ہے کہ بھائی جان کی بلندی درجات کی دعا کریں اور ان کے نیک کاموں کی قبولیت کی دعا کریں ۔

بھائی کی رحلت کی خبر میں نے دانستہ خفیہ رکھی ۔ بہت سے دوست احباب جنازے میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے خفا ہوئے ۔ میں ان سے معذرت چاہتا ہوں لیکن تدفین سے پہلے اسلام آباد میں کسی کو یہ خبر نہ دینے کی ایک وجہ تھی ۔ مجھے علم تھا یہ خبر شیئر ہو گئی تو دوست احباب جنازے میں شرکت کرنے کے لیے میانوالی کا سفر کریں گے اور راستہ اور سڑک کا جو حال ہے وہ میں جانتا ہوں یا وہ جانتے ہیں جنہوں نے اس راستے پر سفر کیا ہے یا کرتے رہتے ہیں ۔ ٹوٹی پھوٹی اس سڑک پر سفر کرنا اتنا تکلیف دہ اور طویل صبر کا کام ہے کہ اعصاب چٹخ جاتے ہیں ۔ بس یہی وجہ تھی کہ میں نے اسلام آباد کے دوستوں کو یہ خبر اس وقت دی جب ہم تدفین کر کے واپس پہنچ چکے تھے ۔ بھائی کو آبائی قبرستان عید گاہ بلو خیل میں اللہ کے سپرد کر کے ، باقی اہل خانہ گاءوں موجود رہے اور میں اسلام آباد آ گیا کیونکہ دونوں جگہوں پر سوگواران دعا کے لیے آ رہے تھے اور خاندان کے افراد کی موجودگی ضروری تھی ۔ ہ میں آپ سب کی دعاءوں کی ضرورت ہے بس دعاءوں میں یاد رکھیے ۔ دعائیں بہت بڑا اثاثہ ہوتی ہیں ۔ دعائیں کرنے والے مہیا کریں تو زندگی کی ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے ۔

اسلام آباد میں ہم نے اپنی رہائش گاہ کے ساتھ ہی جامع مسجد دار التجوید رحمانیہ مسجد میں رسم قل رکھی ۔ کرونا کے خطرے کے باوجود بہت سے احباب نے شرکت کی ۔ ایس او پیز کا البتہ بساط بھر خیال رکھا ۔ لیکن غم کی گھڑی میں کوئی کتنا خیال رکھ سکتا ہے ۔ سوگواران آتے اور گلے لگ جاتے ۔ دعا کر کے گھر پہنچے تو مہمانوں کا تانتا بندھ گیا ۔ ،جیسے جیسے دوستوں کو خبر ہو رہی تھی وہ آ رہے تھے ۔ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری ، چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈجاوید اقبال سمیت ریٹائرڈ اورحاضر سروس ججز اور وکلاء صاحبان گھر تشریف لائے اور اظہار تعزیت کی ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت حاضر و ریٹائر ڈ افسران سمیت میرے غم میں شریک ہو ئے ، مولانا فضل الرحمن ،چوہدری نثار علی خان ، وفاقی وزراء شبلی فراز ، شیخ رشید احمد ، غلام سرور ،امین اسلم،علی نواز اعوان ،سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر وفاقی اور صوبائی وزراء بھی تشریف لائے اور انہوں نے میرے مرحوم بھائی حاجی حسن خان نیازی کی روح کو ایصال ثواب پہنچانے کے لیے دعائے مغفرت کی نیزصوبائی وزرا ،ممبران صوبائی اسمبلی اور دیگر صوبوں کے اراکین اسمبلی نے بھی اظہار تعزیت کیا ،صحافتی برادری سے مہتاب خان، خوشنود علی خان سمیت سینئر قلم کاروں نے بھی اس غم کے موقع پر میرا ساتھ دیا ۔ دنیا بھر سمیت ملک بھر کے تحصیل ،ضلعی سطح کے روزنامہ پاکستان اور روز نیوز کے بیورو آفسز میں حاجی حسن خان نیازی (مرحوم )کے لیے قل خوانی اور دعائیہ تقریبات کا وسیع پیمانے پر اہتمام کیا گیا ۔

مولانا فضل الرحمان کی اقتدا میں تین نمازیں پڑھیں ۔ بہت بڑی تعداد میں دوست احباب آئے اور دعائیں دیں ۔ ان سب کا نام لینا کالم میں ممکن نہیں ۔ لیکن یہ سب نام میرے دل پر نقش ہیں ۔ میں ان سب کا ممنون اور مشکور ہوں ۔ دکھ کی گھڑی میں جس جس نے حرف تسلی کا مرہم رکھا اور میرے بھائی کے لیے دعا کی میں اس کا شکر گزار ہوں ۔ زندگی کی حقیقت تو یہی ہے کہ کب بلاوا آ جائے کچھ خبر نہیں ۔ دعاءوں کی چھاءوں میسر رہے تو اللہ سے امید بڑھ جاتی ہے ۔ یہ امید ہی زندگی کی سب سے بڑی متاع ہے ۔ میں آپ سب کا شکر گزار ہوں اور میری آپ سے درخواست ہے اپنی دعاءوں میں میرے بھائی کو ، ہم سب کو یاد رکھیے گا ۔