- الإعلانات -

حکومت حالات کو سنجیدگی سے لے

ملک کے سیاسی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ حکومت ان زمینی حقائق کو نہ صرف تسلیم کرے بلکہ ان پر عمل کرے جس کا اسے سامنا ہے ، حالات کا تقاضا یہ سوال کنا ہے کہ حکومت ڈلیوری کی جانب توجہ دے ، اور اس وقت جو بھی سیاسی ، سماجی و دیگر معاملات چل رہے ہیں ان کو سنجیدگی سے لینا ہوگا ، اگر تو عنان اقتدار پر بیٹھے ہوئے سیاسی لوگ یہ سمجھیں کہ وہ محض گفتار کے غازی رہیں گے تو پھر حالات کا سدھرنا بعید از خیال ہے ، کردار کا غازی بننا ہوگا، جو بھی عوام سے وعدے وعید کیے گئے تھے ان کو پایا تکمیل تک پہنچانا ہوگا، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ سیاسی حالات دگرگوں ہیں ، جمہوریت بھنور میں پھنسی ہوئی ہے ، کورونا کی لہر اپنی پوری شدت سے حملہ آور ہے ، جبکہ ایس او پیز پر عملدرآمد ندارد ہے ، نہ تو اپوزیشن اس پر عمل پیرا ہے اور حکومت کی جانب سے بھی خاطر خواہ عمل نظر نہیں آرہا ،اس مرتبہ تو عوام نے بھی لا پرواہی کی حد کر رکھی ہے، گو کہ روزانہ اموات ہو رہی ہیں ، کورونا وائرس قیمتی زندگیاں نگل رہا ہے، مگر اس کے باوجود خوف نہیں ،سیاسی میلے اسی طرح لگ رہے ہیں عوام اکٹھا کیا جارہا ہے نہ ماسک نہ سینیٹائزر نہ فاصلہ یہ تمام کچھ کس نے کرنا ہے ، شاید سیاستدانوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ جان ہے تو جہان ہے ،عوام ہے تو جمہوریت ہے، وطن ہے تو ہم سب ہیں پھر یہ کیسی سیاست ، یہاں جمہور کو کیوں قربان کیا جارہا ہے ،کم از کم اپوزیشن ہی اس بات کو جان لے کہ یہ وبا کتنی جان لیوا ہے ، ہم سب کو ایک دوسرے کے زندگیوں سے پیار ہونا چاہیے ، اقتدار تو آنی جانی شے ہے ، یہ سب کچھ زندگی کے ہونے سے ہی مشروط ہے ، حکومت نے یوں تو کہہ دیا کہ وہ جلسے نہیں کریگی، اس پر کسی حد تک عمل ہوتا ہوا بھی نظر آرہا ہے، مگر اگر یہ کہا جائے کہ مکمل طور پر پابندیوں پر عمل کیا جارہا ہے تو غلط بات ہوگی ، صرف یہاں ایک کرونا وائرس کا ہی مسئلہ نہیں اس وقت حکومت کو چو مکھی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے ، جس میں معیشت ،مہنگائی، کرپشن ، کرونا وائر س اور دیگر جو وعدے کیے ہیں وہ شامل ہیں ، کسی بھی مسئلے کا حل کبھی بھی سڑکوں پر نہیں ہوتا ، وزیراعظم نے تو یوں کہہ دیا کہ پارلیمنٹ مسائل کے حل کی بہترین جگہ ہے ، مگر اس وقت اپوزیشن سڑکوں پر ہے، پی ڈی ایم کی صورت میں جلسے ہو رہے ہیں ایسے میں چونکہ حکومت نے ہی ہمےشہ مذاکرات کے راستہ نکالناہو تے ہےں ، لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ کوئی نہ کوئی راستہ نکالے ، مزاکرات کے لیے دروزاے کھولے ، جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے تو وزیراعظم اس حوالے سے بلکل واضح ہیں کہ ہر چیز پر بات ہو سکتی ہے لیکن کرپشن پر نہیں ہم بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کیونکہ یہ کرپشن وطن عزیز کے لیے ناسور کی حیثیت اختیار کر چکی ہے آخر اس کو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کو تو روکنا ہی ہوگا، اس حوالے سے آج کی قربانی ہمارے کل کو محفوظ بنادے گی، پھر مہنگائی کی جانب بھی توجہ انتہائی ضروری ہے اس کو کنٹرول کرنے کے لیے باقاعدہ لاءحہ عمل طے کرنا ہوگا، کیا گراں فروش ریاست سے طاقتور ہیں کہ ان کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا ، کیا ملاوٹ کرنے والے اتنے منہ زور ہو چکے ہیں کہ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی جاسکتی یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جن کو ہر صورت میں کنٹرول کرنا ہوگا، حکومت اگر صرف مہنگائی کو ہی قابو کر لیتی ہے تو اپوزیشن کے غبارے سے آدھی ہوا نکل جائے گی، یہ بات تو تھی ان بنیادی مسائل پر جن کا حل انتہائی ضروری ہے ، اب ہم سانحہ مچھ کی جانب دیکھیں تو آخر یہ سانحہ کیوں رونما ہوا اس کی ایک ہی بنیادی وجہ ہے کیونکہ جب ایسے سانحات وقوع پذیر ہوتے ہیں تو اس وقت بہت زیادہ شور شرابہ مچتا ہے ، ہنگامے ہوتے ہیں ، دھرنے ہوتے ہیں ، حکمرانوں کے دورے ہوتے ہیں ، اپوزیشن کا واویلا ہوتا ہے لیکن جیسے ہی حالات ذرا سکون میں آتے ہیں تو جو بھی حکومت ہو وہ ان کو بھول جاتی ہے جو لاءحہ عمل طے کرنا تھا اس کو نہیں کیا جاتا ، اب اس سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت فی الفور ایسے جرائم میں ملوث ملزمان کو ٹائم فریم کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لا کر قرار واقع سزا دے اور انہیں عبرت کا نشان بنادے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس قسم کی دہشتگردی کرنے کا سوچ بھی نہ سکے ، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم من حیث القوم متحد ہوں ، ایک پیج پر ہوں پھر دشمن کو شکست دے سکتے ہیں