- الإعلانات -

سیاست میں کاروبا ر کو شجر ممنوعہ قرار دیا جائے

پاکستان کے سیاسی معاشی اور عوامی حالات گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں بھنور کا چکر ایسا ہے کہ جس سے حالات نکلتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے، ہ میں اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی نیک نیتی پرکوئی شک نہیں ، وہ ملک اور قوم کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں ، لیکن شاید ان کی ٹیم کی جانب سے معاونت نظر نہیں آرہی جو کہ ایک المیہ ہے متعدد مرتبہ اس حوالے سے ہم نے نشاندہی کی کہ کپتان اپنے اردگرد کے لوگوں پر نظر دوڑائیں ، آج حکومت کو اڑھائی سال ہونے کو ہیں کیا کپتان نے یہ چیک کیا کہ اس کی ٹیم کے لوگ جب عنان اقتدار میں آتے تو اس وقت ان کے اثاثے کیا تھے اور آج کیا ہیں ، اگر صرف یہ ہی چیک کرالیں تو بہت سارے معاملات حل ہو جائیں گے ، اہم ترین بات یہ ہے کہ وزیراعظم کے اردگرد جو بھی ٹیم موجود ہے ان کا تعلق زیادہ تر کاروباری طبقے سے ہے ، جب ایک سیاستدان کاروبار کرے گا تو پھر وہ عوامی مفادات کا کیسے خیال رکھے گا اسے اپنے فائدے کا خیال ہوگا ، اپنے مفادات کو تحفظ دے گا ، حضرت ابوبکر صدیق;230; جب خلیفہ بنے تو اس وقت وہ کپڑے کا کاروبار کرتے تھے ، حضرت عمر ;230; نے کہا کہ اگر آپ کپڑے کا کاروبار کریں گے تو سارے لوگ آپ;230; سے کپڑاخریدیں گے، کیونکہ آپ;230; خلیفہ وقت ہیں تو دیگر لوگوں کا کاروبار کیونکر چلے گا، یہ بات قطعی طور پر واضع کرتی ہے کہ عنان اقتدار میں رہتے ہوئے کاروبار نہیں کرنا چاہیے،جناب عارف نظامی صاحب نے میرے پروگرام میں بتایا کہ جب چوہدری شجاعت حسین وزیراعظم بنے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ وزیراعظم تو بن گئے ہیں اب آپ کاروبار چھوڑ دیں ، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں ہمارا بہت نقصان ہوا ہے ، تو ہم کاروبار کیوں چھوڑیں ، چوہدری شجاعت میرے قریبی دوست ہیں میں بھی یہی کہتا ہوں کہ چوہدری برادران کو کاروبار سے دستبردار ہو جانا چاہیے ، سعید مہدی صاحب نے بھی اسی حوالے سے میرے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گورنر جیلانی بھی موجود تھے تو اس وقت نواز شریف کی تعیناتی کے حوالے سے فیصلہ ہو رہا تھا تو میں نے کہا تھا کہ ان کو کاروبار چھوڑ دینا چاہیے ، کیونکہ سیاست اور کاروبار دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں ، جب سیاستدان کاروبار کریگا تو پھر کرپشن کو روکنا نہ ممکن ہوگا، ممبر قومی اسمبلی پاکستان تحریک انصاف میجر (ر)طاہر صادق نے بھی میرے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے ایسا حوشربا انکشاف کیا کہ جسے سن کر میں انگشت بدانداں رہ گیا، بات تو انہوں نے سچ کہی مگر بڑی تلخ تھی حکومت کو اس جانب توجہ دینا ہوگی، انہوں نے کہا کہ 1947ء سے لے کر اب تک اتنی کرپشن نہیں ہوئی جتنی آج ہو رہی ہے ،یہ بلکل حقیقت پسندانہ بات ہے کہ حکومت نے کرپشن کے خاتمے کا نعرہ تو بلند کیا لیکن اس کو ختم نہ کیا جاسکا، اس میں آئے دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ، یہ وہ زمینی حقائق ہیں جن کو جاننا حکومت کے لیے انتہائی ضروری ہے ، آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے کرپشن کا ناسور ختم نہیں ہو پا رہا ، اس کے حوالے سے ہم بار بار ایک بات حکومت کو باور کراتے آئے ہیں اور اب بھی کرارہے ہیں کہ جب تک سیاست اور کاروبار جدا نہیں ہونگے اس وقت کسی صورت بھی کرپشن کا خاتمہ ناممکن ہے ، لہذا کپتان کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے حتمی قدم اٹھائیں ہ میں عمران خان کی نیت ، ان کے کام اور فیصلوں سے کوئی اختلاف نہیں وہ ملک اور قوم کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن شاید ان کی کچن کیبنٹ ایسا نہیں چاہتی ، لہذا کپتان کو کڑوا گھونٹ بھرتے ہوئے سب کو ایک صف میں کھڑا کر کے فیصلہ کرنا ہوگا، تاکہ اس ملک میں گزشتہ 7دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود جو کرپشن موجود ہے اس کو ختم کریں ، سیاست میں کاروبار کو شجر ممنوعہ قرار دے کر تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروف سے درج کرا لیں اس اقدام پر تاریخ انہیں ہمیشہ مثبت انداز میں یاد رکھے گی ۔ گو کہ اس کے لیے کپتان کو کچھ ناراضگیاں بھی مول لینا پڑیں گی،تو یہ سودا بھی اتنا مہنگا نہیں ہے قوموں کو سنوارنے کے لیے قربانیاں دینا پڑتی ہیں ، ہ میں یقین ہے کہ یہ کام صرف وزیراعظم ہی کرسکتے ہیں کیونکہ ان کی نیت صاف اورمحنتی ہیں لہذا اس منزل کو حاصل کرنے کے لیے ان میں خداداد صلاحیت بھی موجود ہے صرف اپنی ٹیم پر نظرثانی کرنا پڑیگی، اثاثے چیک کرنا پڑیں گے ،سیاست اور کاروبار میں فاصلہ قائم کرنا پڑیگا ، پھر آپ دیکھیں گے کہ جب مفادات کے نظریے کی نفی ہوگی تو کرپشن جیسے ناسور سے بھی اس ملک کی جان چھوٹ جائیگی ، اس کرپشن اور سیاستدانوں کے کاروبار کرنے کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہیں ، یہ وہ بنیادی نکات اور زمینی حقائق ہیں جن کو تسلیم کیے بغیر نہ تو ملک ترقی کرسکتا ہے، نہ جمہوریت پنپ سکتی ہے اور نہ ہی برائی کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔