Home » کالم » حکومت کے مثبت اقدامات،ڈالر کی پرواز تھم گئی،سعودی عرب سے تیل کی فراہمی
adaria

حکومت کے مثبت اقدامات،ڈالر کی پرواز تھم گئی،سعودی عرب سے تیل کی فراہمی

آخر کار حکومت کی کاوشیں رنگ لے آئیں ، سٹاک مارکیٹ میں بھی بہتری آئی اور ڈالر بھی کچھ سستا ہوگیا ، گو کہ اوپن مارکیٹ میں یوں تو 154 روپے تک گیا تاہم اب اس کا نیچے آنا اور کرنسی کی مارکیٹ میں ٹھہراءو پیدا ہونا حکومت کے مرہون منت ہے، انٹر مارکیٹ میں ڈالر صرف 5پیسے بڑھا ، اوپن میں 50 پیسے کم ہوا جبکہ اسٹاک مارکیٹ کی 34 ہزار کی حد بحال ہوئی ۔ 1195پوائنٹس کا اضافہ اور شیئرز کی مالیت 200 ارب بڑھ گئی ، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ریاست طاقت ور ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے ذراءع کو صحیح معنوں میں مثبت انداز میں استعمال کرے تو پھر اس کے نتاءج بھی بہترین آتے ہیں جس طرح کے سٹاک مارکیٹ اور ڈالر کی صورت میں نظر آیا ۔ سونے کی فی تولہ قیمت میں بھی 800 روپے کمی ریکارڈ کی گئی ہے، مالیاتی اداروں اور انسٹیٹیوشن کی بڑے پیمانے پر خریداری سے مارکیٹ میں تیزی کی بڑی لہر آئی ۔ کاروباری حجم گزشتہ روز کی نسبت 32;46;54فیصد زائد جبکہ 84;46;16فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ فاریکس ایسوسی ایشن رپورٹ کے مطابق ڈالر کی قیمت خرید میں 15 پیسے اور قیمت فروخت میں 5پیسے اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر قیمت خرید 151;46;75 روپے سے بڑھ کر 151;46;90پیسے اور فروخت152;46;25پیسے سے بڑھ کر152;46;30روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ۔ امریکی ڈالر کی قیمت خرید میں روپیہ مستحکم نظر آیا، قیمت فروخت میں 50پیسے کمی ریکارڈ کی گئی ۔ نیز ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کسٹمز کے خودکار نظام وی بوک کو نیشنل بینک کے خزانہ اور کیپیٹل مارکیٹ گروپ کے ساتھ الیکٹرانک ذریعے سے منسلک کیا جائے گا جس سے بڑی کرنسیوں کا ایکسچینج ریٹ روزانہ کی بنیاد پر خودکار نظام وی بوک اپ لوڈ ہو جائے گا اور براہ راست فوری طورپر نوٹیفکیشن بھی جاری ہو جائے گا ۔ ان اقدامات سے ڈالر کو کنٹرول کرنے میں بھی خاطر خوا مدد ملے گی ۔ نیز حکومت کو چاہیے کہ وہ درآمدات پر پابندی عائد کرکے اندرون ملک پیداواری صلاحیتوں پر توجہ دے جس کی وجہ سے پوری عوام اپنی لوکل اشیاء کی خریدوفروخت روپے میں کرے اس سے روپیہ مزید مستحکم ہوگا اور ڈالر کے پر بھی کٹ جائیں گے ۔ مگر یہ اقدام کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس حساب سے ملک میں صنعتیں بحال کرتی ہے اور نئی صعنتیں لگاتی ہے، تعمیرات کے پروگرام کو بھی فروغ دیا جائے، پرائیویٹ سیکٹر سے مل کر روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے ۔ بیرون ملک سے منگوائی جانے والی چیزوں پر پابندی عائد کردی جائے، سب سے بڑا مسئلہ ہمارے ملک کا یہ بھی ہے کہ ہم 70فیصد سے بھی زائد درآمدات پر انحصار کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو ہر قسم کی نعمت سے نوازا ہے اس کے باوجود ہم سبزیاں تک بیرون ملک سے منگواتے ہیں اسی لئے تجارتی خسارہ بھی عروج پر جاتا ہے ۔ جب تک ہم خودانحصاری کی جانب گامزن نہیں ہوں گے اس وقت تک معیشت ترقی نہیں کرسکتی ۔ اگر ڈالر کو کنٹرول کرنا ہے تو پھر معیشت کو مضبوط کرنا ہوگا ۔ حال ہی میں ہمارے دوست ملک ترکی کے حالات دیکھ لئے جائیں جس پر 100سالہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں 2023 میں ختم ہونے جارہی ہیں اس دوران ترکی نے جو ترقی کی وہ پوری دنیا کیلئے ایک مثال ہے ۔ آج ہم یہاں ذوالفقار علی بھٹو کو ان الفاظ میں ضرور خراج عقیدت پیش کریں گے کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے ۔ آج بھی کپتان سے حالات یہی تقاضا کرتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے بیرون ملک سے آنے والی چیزوں کو بین کرکے ملکی سطح پر تیار ہونے والی اشیاء کو استعمال کرنے کی مہم کا آغاز کیا جائے ۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہماری مارکیٹیں چین کے مال سے بھری پڑی ہیں ، آخر ہمارے ہاں کس چیز کی کمی ہے آخر کب تک دیار غیر پر انحصار کرتے رہیں گے ۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا مشکل حالات میں ساتھ دیا، ایک مرتبہ پھر وہ ہمارے معاشی حالات کو سہارا دینے کیلئے میدان میں آگیا ہے اور سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو سالانہ 3ارب20کروڑ ڈالر کا تیل تین سال کیلئے موخر ادائیگیاں پر فراہم کرے گا ۔ یکم جولائی سے ماہانہ بنیادوں پر 27 کروڑ50لاکھ ڈالر تقریباً 42 ارب روپے کا تیل فراہم کیا جائے گا، تین سال میں مجموعی طورپر9ارب 60 کروڑ کا تیل موخر ادائیگیوں پر دیا جائے گا ۔ ان موخر ادائیگیوں کی وجہ سے ہماری معیشت پیروں پر بھی کھڑی ہوگی، ڈالر بھی حساب کتاب میں رہے گا ، اب دیکھنا یہ ہے کہ جب سعودی عرب پاکستان کو وافر مقدار میں پٹرول فراہم کرتا ہے تو آیا حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرتی ہے یا نہیں ۔ ہمارے خیال میں حکومت تھوڑی بہت کمی کرکے پٹرولیم کی قیمتوں میں ٹھہراءو لے آئے گی ، بہرحال عوام کو ثمرات چاہیے اورحکومت کا فرض ہے کہ وہ بہم پہنچائے ۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اہم اعلامیہ

قومی سلامتی کمیٹی نے اقتصادی مسائل کے پائیدار اور دیرپا حل کی کوششوں کیلئے تمام اقدامات کی حمایت کر دی ہے ۔ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں خطے میں حالیہ پیش رفتوں خاص طور پر جیو سٹریٹجک ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ فورم نے علاقائی امن اور استحکام کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا ۔ اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور ،وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، بحریہ کے چیف ایڈمرل ظفر محمود اللہ عباسی، ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان، اٹارنی جنرل انور منصور خان، وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور متعلقہ وفاقی سیکرٹریوں نے بھی شرکت کی ۔ فورم نے گلگت بلتستان میں اصلاحات الگ سے تبادلہ خیال کیا ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے ہٹ کر وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی الگ ملاقات بھی ہوئی ۔ ملاقات کے دوران سلامتی کے معاملات بشمول معاشی امور زیر غور آئے ۔

پاکستانی وزیر خارجہ کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات ہوئی جس میں سشما سوراج نے کہاکہ آپ کچھ کڑوی باتیں کرتے ہیں اس وجہ سے میں مٹھائی لائی ہوں تاکہ زبان کی شیرینی ہو جائے جس پر وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم کڑوی باتیں نہیں کرتے آپ کی کچھ حرکتیں ہی ایسی ہوتی ہیں ہم تو آج بھی تمام حل طلب مسائل حل کرنے کیلئے مذاکرات کیلئے راضی ہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے سشما سوراج کو انتہائی مدبر جواب دیا یقینی طورپر جب بھی حالات خراب ہوئے تو وہ ہمیشہ بھارت کی ہی جانب سے ہوئے ، پاکستان تو ہر وقت مذاکرات کیلئے تیار رہتا ہے تاکہ خطے میں امن و امان قائم ہوسکے لیکن بھارت نے اس حوالے سے کبھی بھی مثبت انداز میں جواب نہیں دیا اس کو جب بھی موقع ملا تو اس نے حالات کو خراب کرنے کی جانب ہی قدم بڑھایا اور خطے کے امن و امان کو تہس نہس کیا تاہم دونوں وزرائے خارجہ کی سائیڈ لائن ملاقات کے بعد کچھ امید بر آرہی ہے کہ شاید برف پگھل ہی جائے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative