adaria 4

خریدوفروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط لازم قرار

ٹیکس ادا کرنا ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور اس بات کو حکومت متعدد بار ازبر کراچکی ہے، اب کاروباری طبقے کی جانب سے جو تحفظات سامنے آرہے ہیں اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے شہر قائد کے مختلف تاجر وفود سے ملاقاتیں کیں ، ان کے تحفظات سنے پھر اور بھی دیگر ملاقاتیں ہوئیں اس کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح بتا دیا کہ اب پرانی طرز سے کاروبار نہیں چلے گا ۔ ہم بھی وزیراعظم کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہم کس صدی میں رہ رہے ہیں اور کاروبار پرانے انداز سے کیوں ;238;، نئے انداز اپنانے ہوں گے ، نئے زمانے میں آنا ہوگا، ترقی کرنا ہوگی، معیشت مضبوط کرنا ہوگی، ملکی استحکام پیدا کرنا ہوگا ، بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ پیدا کرنا ہوگی اس کیلئے ہ میں نئے مروجہ قواعد و ضوابط کو بھی اپنانا ہوگا ۔ اسی لئے وزیراعظم نے کہاکہ اب ہ میں کاروباری دنیا میں جدید خطوط پر استوار طریقے اپنانے ہوں گے ۔ انہوں نے 50ہزارسے بڑی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے انکار کردیا،کراچی میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہاہے کہ حکومت کاروبار کیلئے آسانیاں پیداکرنا چاہتی ہے معیشت پرانے طریقے سے نہیں چلائی جاسکتی تمام لوگوں کو ٹیکس دینا ہوگا،معیشت کی بحالی اور استحکام کےلئے تمام فریقین ہماراساتھ دیں ،مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں گے، تاجر صنعت کار شناختی کارڈ دینے سے کیوں گریز کررہے ہیں ٹیکس سب کو دینا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ عمران خا ن نے کہا کہ کرپٹ افراد کو این آر او دینا ملک سے غداری کے مترادف ہے ،پرویز مشرف کی طرح اگر میں نے نوازشریف اور آصف زرداری کو این آر او دے دیا تو قوم مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی پہلے دن سے یہ لوگ مجھے بلیک میل کررہے ہیں ، سابق حکمراں ملک سے غداری کرتے رہے ہیں یہ مجھ سے تین لفظ این آر او سنناچاہتے ہیں جو میں نہیں دوں گا اس لئے انہیں حکومت گرانے کی جلدی ہے ،کرپشن اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو سزادینا ضروری ہے ،کرپٹ عناصر کو کٹہرے میں نہیں لائیں گے تو کرپشن ختم نہیں ہوگی اور جس سطح کی ملک میں کرپشن ہے اس سے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا،بزنس کمیونٹی سے مل کر ملک کو اوپر لے کر جائیں گے ،ایک سال میں جتنا ٹیکس اکٹھا ہوا، اس کا آدھا قرضوں کے سود پر ادا کیا، ملک میں 10سے 12ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہورہی ہے، ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی غیر ضروری درآمدات کم کر رہے ہیں ،برآمدات 30فیصد بڑھ گئی ہیں ماضی کی حکومتوں نے مارکیٹ کو اپنے ذاتی فائدے کیلئے استعمال کیا لیکن اب معیشت اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا ۔ حکومتی اقدامات پر عوام عمل کرلیتی ہے تو یقینی طورپر اچھے دن آئیں گے، جب کاروبار اور صنعت مضبوط ہوگی تو خوشحالی کا دور دورہ ہوگا، روزگار کے مواقع میسر ہوں گے اور انہی پیرائے پر حکومت اس وقت گامزن ہے ۔ ساتھ ہی حکومت نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے ایڈوائزری جاری کی ہے جس کے تحت بیرون ملک دس ہزار ڈالر سے زائد کرنسی لے جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ نیز3ہزار روپے سے زائد پاکستانی کرنسی بھی ساتھ نہیں لے جائی جاسکے گی ۔ ایڈوائزری کے مطابق زر مبادلہ لے جانے کی حد اور ممنوعہ اشیاء کی دیگر معلومات بھی شامل ہیں جس میں بھاری مقدار میں سونا، چاندی، ہیرے جوہرات، پلاٹینیم، نودارات، آثار قدیمہ سے متعلق اشیاء بھی ممنوع قرار دیدی گئی ہیں چونکہ ماضی میں یہ بات دیکھی گئی ہے کہ یہاں سے کروڑوں ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیے گئے اور ملکی خزانے کو خالی کیا گیا ۔ حکومت کا یہ والا اقدام انتہائی قابل تحسین ہے ۔ کیونکہ جتنا نقصان بیرون ملک پیسہ جانے سے ہوا اس سے زیادہ کسی بھی اقدام سے نہیں ہوا ۔ منی لانڈرنگ ایک ایسا ناسور ہے جو ملکی معیشت کو تباہی و برباد کی جانب لے جارہا ہے اس کو روکنا انتہائی ضروری ہے ۔

ٹرینوں کے آئے دن حادثات

ریلوے ٹرینوں کے حادثات روز مرہ کے معمول بن چکے ہیں ، بیرونی دنیا میں تو اس طرح ہوتا ہے کہ اگر کسی وزیر کی وزارت میں کوئی ایسا ناقابل برداشت وقوعہ یا سانحہ پیش آجائے تو وہ وزارت سے ہی مستعفی ہو جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں وزیر صر ف اتنا کہنے پر توقف کرتا ہے کہ تحقیقات ہوں گی اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔ لیکن حادثات اسی طرح جاری رہتے ہیں ۔ کوءٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ولہار ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی ۔ حادثے کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے، تصادم کے نتیجے میں اکبر ایکسپریس کی متعدد بوگیاں الٹ گئیں جبکہ حادثے میں اکبر ایکسپریس کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے،ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ قیمتی جانوں کے تحفظ کے لئے تمام انسانی وسائل بروئے کارلا رہی ہے، ڈی پی او رحیم یار خان عمر سلامت کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ٹرینوں کے درمیان افسوسناک حادثہ سگنل بروقت تبدیل نہ کرنے کے باعث پیش ;200;یا، مسافر ٹرین کے لوپ لائن پر ;200;نے کی وجہ بظاہر نظر نہیں ;200;رہی، ضلعی پولیس محکمہ ریلوے کے ساتھ مل کر حادثہ کے محرکات جاننے کے لئے تفتیش کر رہی ہے، اس کے علاوہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے، جلد حادثے کے محرکات بارے حقائق سے ;200;گاہ کیا جائے گا ۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ٹرین حادثے اور قیمتی جانوں کی ہلاکتوں پراظہار افسوس کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حادثہ بظاہر انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے ۔ وزیر ریلوے نے حادثے کے متعلق اعلی ترین سطحی تحقیقات کا حکم دے دیاہے ۔

بلاول بھٹو نے خود کہا سنجرانی اچھے انسان ہیں

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ صادق سنجرانی کا فیصلہ کیوں کیا یہ بہت بڑا سوال ہے،بلاول بھٹو نے خود بھی کہاتھاصادق سنجرانی بہت اچھے انسان ہیں ، اگرہاتھ کھڑا کرنا ہوتو پھر تو کوئی بھی پارٹی کے خلاف نہیں جائے گا، ہارس ٹریڈنگ بالکل ہوسکتی ہے،لوگ صادق سنجرانی کو پسند کرتے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ ان کے خلاف تحریک کامیاب ہو،اپوزیشن حکومت پر پریشر لانے کی کوشش کررہی ہے، وزیراعظم عمران خان خود ایمنسٹی میں دلچسپی لے رہے ہیں ، ایمنسٹی کے ثمرات ہ میں ایک سال بعد میں ملنا شروع ہونگے،ٹورازم بہت بڑی انڈسٹری ہے ،ہمارا اپنا ملک ہے ہ میں ٹیکس دینے میں کیا حرج ہے،ہر آدمی کو ٹیکس دینا چاہیے ، شناختی کارڈ دینے میں کیا حرج ہے،کراچی میں تو ویسے ہی حکومت کو زیادہ توجہ دینی چاہیے، کراچی کا برا حال گندگی کے ڈھیر ہیں ،18ترمیم نے سندھ کا بیڑا غرق کردیا ہے،کوئی تاجر کرپٹ نہیں ہوتا اسے محکمے کرپٹ بناتے ہیں ،ٹیکس ریٹس اتنے ہونے چاہیں جو لوگ برداشت کر سکیں ، کچھ نہ کچھ تاجروں کی بات ماننی ہوگی،ٹیکس اور بے نامی جائید اد میں عمران خان کوئی یوٹرن نہیں لیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں