Home » کالم » خطے میں قیام امن۔۔۔جرمن اوربرطانیہ بھی پاکستان کے کردارکے معترف
adaria

خطے میں قیام امن۔۔۔جرمن اوربرطانیہ بھی پاکستان کے کردارکے معترف

adaria

وزیراعظم پاکستان نے ایک مرتبہ پھرمسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پراس وقت اجاگرکیا جب ان سے جرمن کے وزیرخارجہ نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اور کہا کہ عالمی برادری کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے جرمنی کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ بہت اہمیت دی ہے۔ جرمنی ہمارا اہم شراکت دار ہے جرمنی تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی ہمیں ٹیکنیکل تعاون فراہم کرے۔ پاکستان اور جرمنی کے تعلقات مشترکہ جمہوری اقدار میں جڑے ہیں عمران خان نے امیگریشن بحران سے نمٹنے پر جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی تعریف کی اور کہاکہ بھارت اور افغانستان کی علاقائی صورتحال میں جرمنی کا کردار قابل تعریف رہا۔ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے مابین سرمایہ کاری پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم نے توانائی اور آٹو موبائل سیکٹر میں جرمن سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا۔ اس سے قبل جرمنی کے وزیر خارجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔ جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے وزیر خارجہ شاہ محمود کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے جرمنی کے ہم منصب ہائیکو ماس کو پاکستان کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اٹھائے گئے انسداد دہشت گردی کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ساتھ ہی بتایا کہ اس پلان پر من و عن عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عالمی اور خطے کا چیلنج ہے اور پاکستان نے اس معاملے میں بہت زیادہ اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو اگر وہاں تشدد ہو تو پھر اس کا رد عمل تو آئے گا اور اس وقت اس رد عمل کو سنبھالنا مشکل ہو گالہٰذا پاکستان کا موقف ہے کہ آگے بڑھنے کیلئے مذاکرات ہی واحد ذریعہ ہے۔ جرمن وزیرخارجہ ہائیکو ماس نے جاری افغان عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے بھارت پائلٹ ابھی نندن کی فوری رہائی کو بھی سراہا۔ جرمن وزیر خا جہ نے اسلام آباد اور نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی سیکرٹری دفاع سٹیفن لیو گروف نے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آرکے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دو طرفہ امور سمیت خطے کی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانوی سیکرٹری دفاع نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔گوکہ بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر کو تسلیم بھی کررہی ہے تاہم اس کو حل کرانے میں لیت ولعل سے کیوں کا م لیاجارہاہے اس کی منطق بعیدازقیاس ہے مگر خطے میں قیام امن وامان کے لئے اس مسئلے کاحل انتہائی کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ پاکستان میں آنے والے جرمنی کے وزیرخارجہ اور برطانیہ کے سیکرٹری دفاع کی جوسیاسی وعسکری قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں اس میں بھی انہوں نے واضح طورپرتسلیم کیاکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات امن کے داعی ہیں ۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے بھی اپنے جرمن ہم منصب سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیاجس پر جرمنی نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات پرزوردیا۔گوکہ پاکستان ہرلمحے مذاکرات کے لئے تیارہے اوراس کی خواہش ہے کہ مسئلہ کشمیر کواقوام متحدہ کی قراردادوں اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجائے لیکن اس حوالے سے بھارت کسی صورت بھی رضامند ہوتانظرنہیں آتا اس کی محض صرف ایک ہی وجہ ہے کہ اُن کاوزیراعظم نریندرمودی خطے کوانارکی میں دھکیلاچاہتاہے۔

پاکستان کادفاع ناقابل تسخیرہوگیا
پاکستان کادفاع ناقابل تسخیر ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اب دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرسکتا۔پاک فضائیہ کی جانب سے جے ایف17 تھنڈر طیارے سے طویل فاصلے کے میزائل کا کامیاب تجربہ کیاگیا۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والا سمارٹ ویپن جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول لڑاکا طیارے سے فائر کیا گیا۔ کامیاب میزائل تجربہ ملکی دفاع میں اہم سنگ میل ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر کو دن اور رات میں طویل فاصلے کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہو گئی۔ ائر چیف مارشل مجاہد انور خان نے کامیاب تجربے پر سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی ہے۔ ایئر چیف مارشل نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے، دشمن نے جارحیت مسلط کی تو بھرپور جواب دیں گے۔اب دشمن کو سمجھ لیناچاہیے کہ اس کے ملک کاچپہ چپہ پاکستان کی زدمیں ہے لہٰذا اس نے اگر کوئی بھی ایسی مذموم حرکت کی تو اسے پاک فو ج کی مسلح افواج صفحہ ہستی سے نیست ونابودکردیں گی۔مودی کو چاہیے کہ وہ اب راہ راست پرآجائے انتخابات اپنی جگہ لیکن خطے کو جنگ میں جھونکنے کااسے کوئی اختیارحاصل نہیں۔ دفاعی اعتبار سے پاکستان آئے دن مضبوط سے مضبوط تر ہوتاجارہاہے ۔ چونکہ ہمارے پڑوس میں ایک ایسا شرپسند دشمن ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے دفاع پر توجہ دیناپڑتی ہے ۔پاکستان نے کبھی بھی ایل او سی پر پہل نہیں کی ہمیشہ بھارت کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی جاتی ہے مگراس کے بعد جب ہماری فوج کے بہادرجوان منہ توڑ جواب دیتے ہیں توپھردشمن اپنامنہ بغلوں میں چھپاتاپھرتاہے اس کو بھاگنے کی کہیں جگہ نہیں ملتی،جانی ومالی نقصان بھی اٹھاتا ہے مگراس کے باوجود اپنے کرتوتوں سے بازنہیں رہتا۔
ایس کے نیازی کی سچی باتیں
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ میں سب سے پہلے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بہت محنت اورجذبے سے ڈیم کے مسئلے کو شروع کیا تھا،ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان پانی کی پالیسی جلد دیں گے، جس طرح سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈیم کی فنڈ ریزنگ کا سلسلہ شروع کیا تھاوہ جاری رہنا چاہیے۔ پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز نے ڈیم فنڈ ریزنگ کیلئے باقاعدہ ٹرانسمیشن کی تھی،عمران خان کی پانی مسئلے پرٹویٹ سے بھی ہمیں اس مسئلے پرامید لگی ہے،پانی میں ہمیں خود کفیل ہونا بہت ضروری ہے،بلوچستان کا علاقہ بہت وسیع ہے،آبادی کم ہے،پانی کا لیول بہت نیچے ہے، ہمارا کام مسائل کی نشاندہی کرنا ہے اورکربھی رہے ہیں، کام کرنا حکومت کا کام ہے۔نواز شریف کا علاج ہونا چاہیے، ان کا علاج کرانا بہت ضروری ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative