خطے کے مسائل کا حل مذاکرات میں مضمر ہے

5

پاکستان نے ہمیشہ سے مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کیلئے مذاکرات پر زور دیا ہے اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے مساوات کے اصول پر کاربند رہا ہے ۔ کسی بھی مسئلے کا حل جنگ و جدل نہیں ہوتا، جب تک فریقین مذاکرات کی میز پر نہ بیٹھیں اس وقت تک مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں ۔ بین الاقوامی سطح پر بھی دیکھا جائے جن مسائل کے حوالے سے جنگیں لڑی جارہی ہیں وہ جوں کی توں ہی قائم و دائم ہیں ۔ نہ وہ حل کیے جارہے ہیں اور نہ ہی لڑائی جھگڑے سے حل ہوسکتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ دیکھ لیا جائے 70دہائیوں سے چل رہا ہے بھارت نے وہاں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں ، انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، انسانی خون سے سڑکیں رنگین ہیں ، ماحول خوفزدہ ہیں ، اشیائے خوردونوش ختم ہوچکی ہیں ، طبی سہولیات ناپید ہیں ، وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکی ہے، دنیا تماشا دیکھ رہی ہے، بھارت کی دہشت گرد فوج نے وہاں پر قیامت برپا کررکھی ہے مگر پھر بھی کشمیریوں کو کسی صورت دبایا نہیں جاسکتا ۔ پاکستان نے ہمیشہ سے مذاکرات کیلئے بھارت کو دعوت دی چونکہ اس میں پاکستان ، بھارت اور کشمیری فریقین ہیں ان تینوں کی شمولیت کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ۔ جب تک کہ چوتھا فریق اس میں ثالثی کا کردار ادا نہ کرے لیکن بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کے میدان سے فرار حاصل کیا جبکہ پاکستان مذاکرات کا داعی رہا ہے ۔ سارک چارٹر ڈے کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے پیغام میں پھر مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کا کہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں ترقی کے برابر مواقع پر یقین رکھتا ہے،سارک چارٹر ڈے خطے کی قیادت سے غربت، جہالت اور بیماریوں کے خاتمے کے عزم کی یاد دلاتا ہے، باہمی احترام اور ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے سارک ممالک ترقی حاصل کر سکتے ہیں ۔ سارک ممالک کے دوراندیش رہنماؤں نے جنوبی ایشیا کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ملکر کام کرنے کی غرض سے سارک چارٹر مرتب کیا ۔ یہ دن ہماری توجہ اس بڑی ذمہ داری کی طرف مبذول کراتا ہے جو اس خطے میں غربت، جہالت، بیماری اور انڈر ڈویلپمنٹ کے خاتمے کے ضمن میں ہمارے کندھوں پر ہے ۔ امید ہے کہ آگے بڑھنے کے اس عمل میں حائل رکاوٹ کو دور کیا جائے گا تاکہ سارک ممالک علاقائی ترقی اور اپنی پوری استعداد کو بروَے کار لانے کے لیے آگے بڑھ سکیں ۔ پاکستان انفرادی ، قومی اور خطے کی ترقی کے علاقائی تعاون کی طاقت پر یقین رکھتا ہے ۔ پاکستان اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ برابری اور باہمی عزت کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے موثر اور نتیجہ خیر علاقائی تعاون کے حصول کو ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔ پاکستان سارک عمل کو کامیاب بنانے کےلئے پرعزم ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم نے پولیو کے خاتمے کے لئے ملک بھر میں 16 دسمبر سے ملک گیر مہم کو یقینی بنانے کے لیے تمام وزرائے اعلی کو اپنے صوبوں میں انسداد پولیو ویکسی نیشن مہم کی قیادت کرنے کی ہدایت کردی ۔ تمام وزرائے اعلیٰ کو ارسال کیے گئے خط میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے اگست میں قومی ٹاسک فورس برائے صحت کے اجلاس کے دوران تمام وزرائے اعلیٰ کو اپنے متعلقہ صوبوں میں پولیو کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے اس حوالے سے کوششوں کی تیاریوں کا جائزہ لینے اور مہمات کے افتتاح کرکے قائدانہ کردار ادا کرنے کی ہدایت کی تھی ۔ اجتماعی کوششوں سے 1990 کے ;200;غاز سے پولیو کیسز کی سالانہ تعداد 20 ہزار سے کم ہو کر گزشتہ برس صرف 12 تک پہنچ گئی تھی لیکن وائرس کے خاتمے کا خواب ابھی تک پورا نہیں ہوا ۔ بدقسمتی سے 2019 میں مجموعی طور پر 91 کیسز کے ساتھ پولیو کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھا گیا، جس میں رواں برس خیبرپختونخوا ہ سے 66، سندھ سے 13، بلوچستان سے 7 اور پنجاب سے 5 کیسز رپورٹ ہوئے ۔ ملک کے مختلف جغرافیائی زونز سے جمع کیے گئے سیویج کے نمونوں میں بڑے پیمانے پر پولیو وائرس پایا گیا اور حکومت اس کے خاتمے میں حائل تمام چیلنجز کو حل کرنے کے لیے عزم پر قائم ہے ۔ ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ اور انڈی پنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ کی جانب سے انسداد پولیو پروگرام سے متعلق تحقیق کے جائزے اور تجاویز کی بنیاد پر 2020 کے لئے نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان مرتب کرلیا گیا ۔ پہلی ملک گیر انسداد پولیو مہم 16 دسمبر سے شروع ہوگی لہٰذاوزرائے اعلیٰ کو صوبائی ٹاسک فورس برائے صحت کا اجلاس طلب کرنے اور ذاتی طور پر مہمات کی تیاریوں اور افتتاح کا جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے ۔ پولیو کے خاتمے کیلئے پاکستان انتہائی تگ و دو کررہا ہے اس کے حوالے سے بچوں کو قطرے پلانے کیلئے ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی بندوبست کیا جاتا ہے تاکہ ہماری آنے والی نسل اس موذی مرض سے بچ سکے اور ہمارا ملک پولیو فری ہوسکے ۔

انسانی حقوق کا عالمی دن اور

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال لمحہ فکریہ

امریکی ایوان نمائندگان میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق بل پیش کیا گیا ہے جس میں بھارت سے مقبوضہ وادی میں مواصلات کی بندش اور نظربندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بندش ختم کی جائے اور گرفتاریوں کا سلسلہ بند اور شہریوں کی مذہبی ;200;زادی کا احترام کی جائے، بھارت انسانی حقوق کے عالمی مبصرین اور صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی فراہم کرے ۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی پرمیلا جے پال اور ری پبلکن پارٹی کے اسٹیو واٹکنز کی جانب سے امریکی ایوان نمائندگان کانگریس میں بل پیش کیا ۔ گزشتہ 30 سال میں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ بل کے متن میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کی بندش، نظربندیوں کے خاتمے اور شہریوں کی مذہبی ;200;زادی کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ بھارت انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی بھی فراہم کرے ۔ مقبوضہ کشمیر میں (آج) منگل کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر یوم سیاہ منایا جا رہاہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ علاقے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحا ل کی طرف مبذول کرائی جاسکے ۔ ےوم سیاہ منانے کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمےن سید علی گیلانی نے کی ۔ دنیا کو یہ بات یاد دلانے کےلئے کہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانا اس کی ذمہ داری ہے ۔ دریں اثناء وادی کشمیر اورجموں خطے کے مختلف علاقوں میں پیر کو مسلسل127ویں روز بھی فوجی محاصرہ اوردیگر پابندیاں بدستورجاری رہیں جس کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج رہے ۔ انٹرنیٹ ، پری پیڈ موبائل اور ایس ایم ایس سروسز کی مسلسل معطلی کی وجہ سے طلباء، تاجروں ، ڈاکٹروں اور مریضوں سمیت معاشرے کے ہرطبقے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بہتر سالوں سے بھارت کشمیریوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوے ہے اور اقوام متحدہ کا کردار صرف کاغذ اور زبانی بیانات کی حد تک ہی محدود ہے ۔ بھارت کا یہ کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ مکار بھارت نے کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھا ہے اور اپنے ہی وعدوں سے منحرف ہوتا آیا ہے ۔ پاکستان کے عوام کے دل کشمیری عوام کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ ان کی حقوق کی پامالی پر کبھی فراموش نہیں رہیں گے اور ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کےلئے ;200;واز بلند کرتے رہیں گے ۔