Home » کالم » خلیجی ریاستوں میں جنگ ،سب کے لئے تباہ کن ہو گی
adaria

خلیجی ریاستوں میں جنگ ،سب کے لئے تباہ کن ہو گی

ایران سعودی عرب کشیدگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی جو خلیجی خطے میں کسی نئی جنگ کا پیش خیمہ بننے کے قریب ہے ۔ اس نئی جنگ کو خارج از امکان اس لیے بھی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اب امریکہ بھی اس میں مکمل طور پرکود پڑا ہے ۔ امریکہ جو ایران سے پہلے ہی خار کھائے بیٹھا ہے اس نے تہران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کےساتھ بقول اسکے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر خلیجی ممالک میں اپنی مزید فوج بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے،جبکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی نے اپنے ملک پر حملے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کسی بھی حملے کا نتیجہ حملہ آورملک کی تباہی کی صورت میں نکلے گا، جو کوئی چاہتا ہے اس کی سرزمین میدانِ جنگ بنے وہ آگے بڑھے، سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کہاہے کہ آرامکو کی تنصیبات پرایرانی ہتھیاروں سے حملے کیے گئے تھے،اس لیے ہم اسی کو ان حملوں کا ذمے دار گردانتے ہیں ،لیکن دوسری طرف صدرٹرمپ نے ایران پر حملے کو مسترد بھی کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا جو ہماری مضبوطی کی علامت ہے ۔ امریکی صدر نے اس موقع پر ان ناقدین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران حملے اور ایک نئی جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے سب سے ;200;سان چیز یہ تھی کہ میں ایران میں 15 مختلف چیزوں کو تباہ کر دیتا لیکن میرے خیال میں مضبوطی کی علامت یہ ہوتی ہے ہم تحمل مزاجی کا مظاہرہ کریں ۔ بظاہر امریکی صدر کا یہ بیان حوصلہ افزا معلوم ہوتا ہے،قبل ازیں ماہ جون میں جب ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی حملے کی منظوری دی تھی تب بھی انہوں نے ;200;خری لمحات میں اپنے اس حکم کو منسوخ کردیا تھا ۔ اس امید افزا عندیہ کے باوجود یہ نہیں کہا سکتا کہ یہ تصادم نہیں ہوگا، کیونکہ اس جنگ کے لیے امریکہ میدان ہموار اور ماحول کو دو ;200;تشہ بھی کر رہا ہے ۔ امریکہ ایران پر پابندیاں سخت کر رہا ہے اور خلیج میں فوجی قوت بھی بڑھا رہا ہے تو اس پس منظر میں صورتحال کو کسی طور تسلی بخش نہیں کہا سکتا ۔ امریکی محکمہ خزانہ نے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں جواز بناتے ہوئے ایران کے سینٹرل بینک ، نیشنل ڈیولپمنٹ فنڈ اور ایرنی کمپنی اعتماد تجارت پارس پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ادارے ایرانی حکومت کی دہشت گردی اور دہشت گرد قرار دی گئی پاسداران انقلاب کے ذریعے خطے میں جارحیت پھیلانے اور ایرانی حکومت کی بڑی پراکسی فورس قدس اور حزب اللہ کی مدد کرتے تھے ۔ ایران کو گزشتہ برس اس وقت سے امریکی دھمکیوں کا سامنا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران سے اچانک جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تجارتی اور معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں جبکہ معاہدے کے دیگر عالمی فریقین برطانیہ، جرمنی، فرانس، روس اور چین نے ایران سے معاہدہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا ۔ امریکہ کا دعوی ٰہے کہ اس کے پاس واضح ثبوت موجود ہیں کہ تیل کی تنصیبات پر حملے ایران سے کیے گئے ۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ جون میں امریکی جاسوس ڈرون کے بعد اب تیل کی تنصیبات پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایرانی جارحیت میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے ۔ ان الزامات میں اس وقت تیزی ;200;ئی جب 14 ستمبر کو سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ;200;رامکو کے دو پلانٹس پر ڈرون حملے ہوئے ۔ ان حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی تھی جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ ان کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے ۔ ان حملوں کی پاکستان سمیت سب نے مذمت کی تھی لیکن امریکی سیکریٹری ;200;ف اسٹیٹ نے براہ راست الزام تراشی کرتے ہو دعوی ٰکیا کہ آرامکو کے دو پلانٹس پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے ۔ ایران نے سعودی عرب میں ڈرون حملے میں ملوث قرار دینے کے امریکی الزام کو سختی سے مسترد کردیا تھا ۔ وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ پومپیو زیادہ سے زیادہ دباوَ میں ناکامی کے بعد اب زیادہ سے زیادہ دھوکا دینے کی جانب چل نکلے ہیں ۔ ترکی بہ ترکی جوابی الزامات کی چنگاری سے شعلوں کا بھڑکنا افسوسناک ہو گا ۔ دونوں طرف مسلمان ممالک ہیں جو ایک عالمی سازش کے تحت ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو چکے ہیں ۔ بدقسمتی سے اس استعماری سازش کو ایرانی اور سعودی قیادت سمجھنے کی کوشش نہیں کر پا رہیں ۔ اگر خدانخواستہ جنگ ہوتی ہے تو یہ خوفناک شکل اختیار کر جائے گی ۔ اس میں فتح کسی کی نہیں ہو گی بلکہ سب ہاریں گے ۔ ایران کھلے لفظوں کہہ چکا ہے کہ سعودی عرب یا امریکہ کی جانب سے ایران پر کسی بھی قسم کی فضائی کارروائی کو کھلی جنگ تصور کیا جائے گا ۔ اس ماحول میں بیرونی طاقتوں کو اپنا کھیل رچانے میں سہولت میسر ہو رہی ہے ، وہ جو چاہیں اب کر سکتے ہیں ۔ امریکہ سعودی عرب کے کندھے پر بندوق رکھ کر ایران کا نشانہ لینے کا متمنی ہے ۔ ٹرمپ چاہتا ہے کہ ایران پر براہ راست حملہ کی بجائے سعودی عرب کو ;200;گے کیا جائے، کیونکہ انکی اگلے ٹرم کی صدارت پر نظر ہے ،وہ کسی نئی جنگ کا بوجھ اپنے کندھے پر رکھے اپنی عوام کے سامنے نہیں جانا چاہتا مگر ایران سے دو دو ہاتھ کرنے کا موقع گنوانے کے بھی موڈ میں نہیں ہے ۔ خلیج میں فوج بھیجنا اسکے چھپے مقاصد کو عیاں کرتا ہے ۔ فوج بھیجنے کے فیصلے کی یہ وضاحت دی گئی ہے کہ اس کا مقصد دفاع کرنا ہو گا اور بنیادی توجہ فضائی اور میزائل ڈیفنس پر ہو گی ۔ مارک ایسپر کی وضاحت کے مطابق صدر ٹرمپ نے تعیناتی کی منظوری دے دی ہے اور امریکی فوج فضائی دفاع میں ان کی مدد کریں گے ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحے کی فروخت کا عمل بھی تیز کر دیا جائےگا تاکہ یہ دونوں ممالک اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں ۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ نئے دستوں کی تعداد کیا ہوگی، تاہم امریکی افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفرڈ کے مطابق خطے میں افواج کی تعیناتی معتدل سطح کی ہوگی ۔ امریکی اِرادے اور اقدامات خطرے کی گھنٹی ہیں ۔ سعودی عرب اور ایران کو جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا ہو گا ۔ ایران ڈرون حملوں میں ملوث ہونے کو مسترد کر چکا ہے جبکہ روس اور چین نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی تجویز دی ہے جس پر عمل کر کے خطے کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچایا جا سکتا ہے ۔ خلیجی خطہ باہمی نفاق اور بیرونی سازشوں کی وجہ سے برس ہا برس سے جنگ و جدل کا شکار چلا ;200; رہا ہے ۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی طاقتیں طرفین کو اپنا اسلحہ بارود خریدنے پر مجبور کرتی ہیں جیسا کہ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحے کی فروخت کا عمل بھی تیز کر دے گا تاکہ یہ دونوں ممالک اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں ۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کو اس کا ادارک کرنا چاہیے کہ ;200;خر یہ سلسلہ کب تک چلے گا ۔

وزیراعظم کا دور امریکہ و یواین او،پاکستانی بیانیہ کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کاشاندار موقع

وزیراعظم عمران خان دورہ سعودی عرب کے بعد کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے یو این جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے سلسلے میں امریکہ پہنچ گئے ہیں ، ;200;ج ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہو گی، جبکہ ;200;ج 23 ستمبر کو ہی وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب ایردوان کے درمیان ملاقات ہوگی ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کی نیویارک میں کشمیری رہنماؤں ، ورلڈ بینک کے صدر، بل گیٹس ، ملائیشیا و بلجیم کے ہم منصبوں سے بھی ملاقات کرینگے جبکہ وزیراعظم چینی حکام سے بھی ملاقات کرینگے ۔ وزیراعظم 27ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کرینگے ۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان یو این جنرل اسمبلی سے پہلی بار خطاب کرینگے ۔ گزشتہ برس2018ء عمران خان نے ماہ اگست میں بطور وزیر اعظم حلف اٹھا لیا تھا مگر جنرل اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے ۔ ان کا یہ خطاب اور دورہ امریکہ ہر حوالے سے اہم ہے کیونکہ اس بار مجموعی طور پر مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ تمام سفارتی سرگرمیوں کا مرکز ہوگا ۔ چونکہ کشمیر ایشو بہت زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے اور پاک امریکہ تعلقات بھی قدرے ساز گار ہیں تو وزیراعظم عمران خان مکمل تیاری کےساتھ امریکہ میں ہیں اوریواین سے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کرنا ان کی اولین ترجیح ہو گی ۔ وزیراعظم خود کئی بار عزم کر چکے ہیں کہ وہ اس موقع پر کشمیر یوں کےلئے بھر طریقے سے آواز اٹھائیں گے ۔ امریکہ کا عالمی سیاست اور اقتصادیات پر گہرا اثرو رسوخ ہونے کی وجہ سے وزیراعظم کو کوشش کرنی ہو گی کہ وہ پاکستان کے بیانیہ کو بھرپور طریقے اقوام عالم کے سامنے رکھیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative