Home » کالم » خواہشات کا سیراب !
syed_sherazi

خواہشات کا سیراب !

شاعر پیر مغاں غالب نے کہا تھا

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

کہاں مے خانے کا دروازہ غالب! اور کہاں واعظ

پر اِتنا جانتے ہیں ، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

کے مصداق انسان کی خواہشیں لامحدود ہیں اگر کسی شخص کی ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو اسکی جگہ نئی خواہش آ جاتی ہے اور خواہشات کا یہ لامتناہی سلسلہ چلتا رہتا ہے حتیٰ کہ اکثر انسانوں کو جائز یا ناجائز طریقوں کے ذریعے دولت، اقتدار، طاقت، شہرت سبھی کچھ حاصل ہو جاتا ہے مگر پھر بھی ان کا احساس کمتری دور نہیں ہوتا ہے ۔ لوگ پیسے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور اس بھاگ دوڑ میں حرام اور حلال کی تمیز ختم ہوگئی ہے ۔ ہمارے سیاست دان، بیورو کریٹس اور منظور نظر فرنٹ مین تاجر اور صنعتکار، لینڈ مافیا، سٹاک ایکسچینج بروکرز، حتیٰ کہ ڈرگ ڈیلرز جن کے اباءو اجداد قیام پاکستان کے وقت انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے آج اربوں اور کھربوں کے اثاثے اور جائیدادوں کے مالک بننے کے باوجود انکی بھوک کیوں نہیں مٹتی ۔ خواہشات کے سیراب کے پیچھے دوڑنے والے ھل من مذید کی تمنا میں بے چین اور بے قرار پھر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے سبقت حاصلکر رہے ہیں جب بھی احتساب کی بات کی جاتی ہے تو ہر طرف سے واویلا شروع ہوجاتا ہے ۔ ننانوے فیصد عوام محرومیوں اور بھوک کا شکار ہیں غذاور ، دوا ور تعلیم سے محروم ہیں اور ان محرومیوں اور نسلوں کی بھوک ہے جس نے انہیں عدم تحفظ کا شکار کیا ہوا ہے ۔ اورآج کا نام نہاد طبقہ اشرافیہ جن کے آباءو اجداد کی اکثریت یا تو بے حد مفلس اور غربت کا شکار تھی یا جاگیر دارانہ پس منظر کی وجہ سے انگریزوں کیلئے گھوڑیوں اور شکاری کتوں کے پالنے والے غداران ملت تھے جنہیں ننگِ وطن اور ننگِ دین ہونے پر انگریزوں نے اپنی وفاداریوں اور خدمات کے صلے میں لاکھوں ایکڑ زمینیں عنایت کیں ۔ ہمارے ملک کے امراء اپنا موازنہ امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کی دولت اور انداز حکمرانی بلکہ فرعونیت سے کرتے ہیں تو تب وہ پاکستان کے امیر ترین انسان ہونے پراللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے مزید احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، وہ سوچتے ہیں کہ ہمارے اثاثے تو اتنے نہیں ہیں جتنے کویت، برونائی، سعودی عرب کے شہنشاہوں کے پاس ہیں ان مقابلے میں تو وہاپنے آپ کو فقیر سمجھتے ہیں ، اور یہ بھی ایک المیہ ہ کہ ہمارے ہاں کے امیر عرب شیخوں کے شکاری باز اور کتوں کی زنجیریں پکڑ کر انہیں پاکستان کے صحراءوں میں نایاب نسل کے پرندوں اور جانوروں کا شکار اسی طرح کرواتے ہیں جس طرح قیام پاکستان سے پہلے میر جعفر اور میرصادق غدار کے اولاد انگریزوں حکمرانوں کے گھوڑوں کی نکیل پکڑ کر یا کتوں کی زنجیریں ہاتھ میں پکڑ کر انگریز بہادر کے آگے آگے بھاگا کرتے تھے اور اس خدمت کے عوض انہیں القاب و آداب اور زمینوں کے مربعے اور بڑی بڑی جاگیریں انعام کے طور پر حاصل ہوتی تھیں آج بھی ان کے حقیقی اور روحانی اولاد اسی ڈڈگر پہ ہیں ۔ رحیم یار خان اور ملک کے دیگر صحراءوں سے نایاب پرندوں کا خاتمہ کیا جارہا ہے ہمارے حکمران عرب شیخوں کو خوش کرنے کیلئے نہ صرف سہولتیں فراہم کرتے ہیں بلکہ رنگ وخوشبو، راگ وسرور، رقص اور اودھم ، دلربائی اوردل آرائی کا خوب اہتمام کرتے ہے ۔ جتنی عیاشیاں یہ خود کرتے ہیں اور یا بچوں کو اونٹوں سے باندھ کر مزے لینے والے کو خوش کرنے کیلئے سامان ہوس و کباب کا اہتمام کرتے ہیں اس سرمایہ سے بھوک مٹانے کیلئے کرتے تو افلاس کا خاتمہ کیا جاسکتا تھا ۔ اور اگریہ مال کے پجاری اربوں روپے رقومات ناجائز ذراءع سے پاکستان سے باہر منتقل نہ کرتے تو آج پاکستان کے غریب عوام کو بے تحاشہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ برداشت نہ کرنا پڑتا اور پاکستان کے ننانوے فیصد عوام کی کسمپرسی اتنی ذیادہ نہ ہوتی ۔ عوام کی کمر غربت نے توڑ دی ہے اور ایک فیصد طبقہ کے اثاثے بڑھ رہے ہیں اورمسلسل ان کے اثاثوں میں دن دوگنا اور رات چوگنا اضافہ ہورہا ہے ۔ ملک میں کرپشن عروج پر ہے اور اگر معاشی ضرب عضب اور احتساب کی بات کی جاتی ہے تو سب ایک جان دو قالب ہوجاتے ہیں ِ، آج سیاست کاروبار بن چکی ہے، بدعنوانی کا ناسْور ہمارے سماج، معیشت اور سرکاری اداروں کی رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے ۔ احتکار و اکتناز کا دور دورہ ہے اور دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہے امیر اور غریب کے درمیان فاصلے بڑھتے جارہے ہیں ۔ کرپشن مزید کرپشن کو جنم دیتا ہے ۔ دیکھا دیکھے غریب اور متوسط طبقے کے افراد بھی رشوت اور بے ایمانی پر مجبور ہو جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کیوں نہ ہم بھی اپنی ضروریات کرپشن سے پورے کریں کیوں کہ اشیائے صرف مہنگے ہونے کی وجہ سے اپنا اور اپنے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں لہٰذا وہ بھی رشوت کا بازار گرم کرتے ہیں اور عوام کو اپنے جائز کاموں کیلئے بھی رشوت دینا پڑتی ہے ۔ وگرنہ ان کی فائلیں سرخ فیتے کا شکار ہو جاتی ہیں اور جب تک انہیں روپوں کے پہیے نہ لگائے جائیں وہ جمود کا شکار ہوتی ہیں اس لئے عام آدمی رشوت لیتا بھی ہے اور دیتا بھی ہے ۔ لوگ ہیں کہ خواہشات کے سیراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ آخر انجام گلستاں کیا ہوگا;238;! ۔

About Admin

Google Analytics Alternative