Site icon Daily Pakistan

خودانحصاری یا وقتی سہارا؟ فیصلہ کن لمحہ

پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر راستہ سوال بن چکا ہے اور ہر سوال کے ساتھ قوم کی سانسیں بندھی ہوئی ہیں۔ معیشت کمزور ہے۔ ریاستی ڈھانچہ دباؤ میں ہے۔ عوام اضطراب کا شکار ہیں۔ عالمی دنیا شکوک کی نظر سے دیکھ رہی ہے ۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ پاکستان کے پاس آخر راستہ کیا ہے؟کیا یہ ملک محض وقتی سہارا لے کر آگے بڑھتا رہے گا یا خود انحصاری اور قومی وقار کی سمت کوئی ٹھوس فیصلہ کرے گا؟ یہ سوال محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور فکری بھی ہے کیونکہ معیشت قوموں کے مزاج اور ریاستوں کی سمت کا تعین کرتی ہے۔پاکستان کی معاشی حالت کسی ایک دن میں اس نہج پر نہیں پہنچی۔ یہ برسوں کی غلط ترجیحات، کمزور حکمرانی، غیر پیداواری اخراجات، قرضوں پر انحصار اور پالیسیوں کے تسلسل کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ ہر آنے والی حکومت نے وقتی سہولت کو ترجیح دی اور طویل المدت اصلاحات کو نظرانداز کیا۔ نتیجتاً ملک ایک ایسے دائرے میں پھنستا چلا گیا جہاں قرض لیکر پرانے قرض اتارنا معمول بن گیا اور معیشت کا پہیہ قرض کے سہارے گھومنے لگا۔ یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ قرضوں نے پاکستان کی خودمختاری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور قومی فیصلے اکثر عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط کے تابع دکھائی دیتے ہیں۔ریاستی آمدن اور اخراجات کے درمیان خلیج اس قدر وسیع ہو چکی ہے کہ بجٹ بنانا ایک مشق بن گیا ہے جس میں عوام پر مزید بوجھ ڈال کر خسارے کو وقتی طور پر کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ٹیکس کا نظام کمزور ہے۔ ٹیکس نیٹ محدود ہے اور وہ طبقہ جو برسوں سے قومی وسائل سے فائدہ اٹھاتا آ رہا ہے وہ ٹیکس دینے کو تیار نہیں۔ اس کے برعکس تنخواہ دار اور متوسط طبقہ ہر بجٹ میں قربانی کا بکرا بنتا ہے۔ اس عدم توازن نے نہ صرف معاشی ناہمواری کو بڑھایا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی دیوار کو بھی کمزور کر دیا۔پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیںہے۔ کمی ہے تو درست منصوبہ بندی اور مخلص قیادت کی ہے۔ زرعی زمین زرخیز ہے۔ نوجوان آبادی کثیر ہے۔ معدنی وسائل موجود ہیں ۔جغرافیائی محل وقوع دنیا کی بڑی منڈیوں کو ملانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود برآمدات محدود ہیں اور درآمدات پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بجائے اسے روایتی طریقوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ صنعت کو توانائی بحران، پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال اور سرکاری رکاوٹوں نے کمزور کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ روزگار کے مواقع کم ہوئے اور غربت میں اضافہ ہوا۔توانائی کا شعبہ پاکستان کی معیشت کا ایک اور زخم ہے جو وقت کے ساتھ ناسور بن چکا ہے۔ گردشی قرضہ، ناقص منصوبہ بندی اور مہنگی بجلی نے صنعت کو مفلوج کر دیا ہے۔ جب پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو مقامی مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر پاتیں۔اس صورتحال میں برآمدات بڑھانے کے دعوے محض کاغذی ثابت ہوتے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں شفافیت، مقامی وسائل کے استعمال اور قابل تجدید ذرائع کی طرف سنجیدہ پیش رفت کے بغیر معاشی استحکام ایک خواب ہی رہے گا ۔ سیاسی عدم استحکام نے معاشی بحران کو مزید گہرا کیا ہے۔ آئے دن کی سیاسی کشمکش، ادارہ جاتی تناؤ اور سڑکوں کی سیاست نے سرمایہ کار کا اعتماد متزلزل کیا۔ کوئی بھی سرمایہ کار ایسے ماحول میں سرمایہ لگانے سے ہچکچاتا ہے جہاں پالیسی بدل سکتی ہو اور حکومت کا تسلسل غیر یقینی ہو۔ معیشت کو استحکام صرف اسی وقت ملتا ہے جب سیاست میں برداشت، مکالمہ اور آئینی حدود کا احترام ہو۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست کو اکثر انتقام اور تصادم کا میدان بنا دیا گیا ہے جس کا خمیازہ پوری قوم بھگتتی ہے ۔ پاکستان کے پاس راستہ موجود ہے مگر وہ راستہ مشکل فیصلوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ سب سے پہلے ریاست کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ بغیر اصلاحات کے قرض لینا خودکشی کے مترادف ہے ۔ ٹیکس اصلاحات ناگزیر ہیں اور انہیں محض نعرے کی بجائے عملی شکل دینا ہو گی۔ طاقتور طبقوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ریاستی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ جب تک وسائل رکھنے والا طبقہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریگا تب تک عام آدمی پر بوجھ ڈالنا ناانصافی ہی نہیں بلکہ معاشی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا۔دوسرا اہم راستہ پیداواری معیشت کی طرف واپسی ہے۔ پاکستان کو درآمدی معیشت سے نکل کر برآمدی معیشت بننا ہو گا۔ اس کیلئے صنعت، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ نوجوانوں کو محض سرکاری نوکری کے خواب دکھانے کے بجائے ہنر، تحقیق اور جدت کی طرف راغب کرنا ہو گا۔ تعلیمی نظام کو مارکیٹ کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کیے بغیر ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔جب تک تعلیم محض ڈگری کا ذریعہ رہے گی اور مہارت کا نہیں تب تک بیروزگاری اور مایوسی بڑھتی رہے گی۔ریاستی اخراجات میں کفایت شعاری ایک اور کڑوا مگر ضروری گھونٹ ہے۔ شاہانہ طرز حکمرانی، غیر ضروری مراعات اور خسارے میں چلنے والے ادارے قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔ ان اداروں کی اصلاح یا نجکاری کے بغیر معیشت کا پہیہ نہیں چل سکتا۔ یہ فیصلے سیاسی طور پر غیر مقبول ضرور ہیں مگر قومی مفاد میں ناگزیر ہیں۔ جو قیادت وقتی مقبولیت کے خوف سے اصلاحات سے بھاگتی ہے وہ درحقیقت قوم کو اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے ۔ خارجہ محاذ پر پاکستان کو متوازن اور حقیقت پسندانہ پالیسی اپنانا ہو گی۔ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے معاشی مفاد کو ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔ سفارتکاری کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت ، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کا ذریعہ بنانا ہو گا ۔ خطے میں امن اور استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی کم کر کے معاشی تعاون کی راہیں ہموار کرنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔سب سے اہم پہلو عوام کا اعتماد ہے۔ جب تک عوام کو یہ یقین نہیں ہو گا کہ قربانیاں سب دے رہے ہیں مگر فائدہ چند نہیں سمیٹ رہے تب تک کوئی بھی معاشی پروگرام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی وہ ستون ہیں جن پر مضبوط معیشت کھڑی ہوتی ہے ۔ اگر احتساب صرف کمزور کیلئے ہو اور طاقتور قانون سے بالاتر رہے تو نظام پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور معیشت بھی اس کا شکار ہو جاتی ہے۔پاکستان کے پاس راستہ ہے مگر وہ راستہ خود انحصاری، اصلاحات اور قومی اتفاق رائے سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس میں سیاسی قربانیاں ہیں۔ وقتی مشکلات بھی ہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اسی راستے سے سنبھلتی ہیں جو سچ اور جرأت کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ہم نے ایک بار پھر وقتی سہولت، قرضوں اور ٹال مٹول کو راستہ بنایا تو آنیوالی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرینگی۔ آج فیصلہ کرنے کا وقت ہے کہ پاکستان محض بحرانوں کی کہانی رہے گا یا ایک ذمہ دار، خودمختار اور باوقار ریاست کے طور پر ابھرے گا۔ یہ فیصلہ ایوانوں میں بیٹھے چند افراد کا نہیں بلکہ پوری قوم کے شعور، برداشت اور عزم کا امتحان ہے۔

Exit mobile version