خوف ہراس نہ پھیلائے

27

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ کرونا وائرس ایک بہت بڑی آزمائش ہے ۔ دنیا بھر میں اس کے ہاتھوں اموات اور اس کے تیزی سے پھیلنے کے سبب خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے ۔ عالمی محکمہ صحت کی طرف سے اس مرض کے حوالے سے ہائی الرٹ جاری ہو چکا ہے ۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس کے کیس رپورٹ ہو رہے ہیں ۔ عالمی سطح پر اس پر قابو پانے کے لئے خصوصی حفاظتی اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ دنیا بھر میں اس مرض کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے جس کی بدولت اس کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے ۔ اگر ہمارے ہاں بھی عوام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں تو اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے ۔ فی الحال ہمارا ملک اس وائرس سے محفوظ ہے ۔

متعلقہ خبریں

ملک میں وائرس کے حوالے سے اگرچہ صورتحال تشویشناک نہیں لیکن حفاظتی اقدامات سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے جن میں سب سے پہلی احتیاطی تدبیرکرونا وائرس کے حوالے سے قوم کو خوف و ہراس سے بچا کر رکھنا ہے ۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو بھی اس بات کاپابند کیا جائے کہ بے بنیاد اور بے پر کی افواہوں کو آگے نہ پھیلائیں ۔ وطن عزیز میں چند ایک جو اس وائرس سے متاثر ہیں ان کا بخوبی علاج ہو رہا ہے اور ان میں سے کچھ صحت مند بھی ہو گئے ہیں ۔ حکومتی ترجمان ، ماہرین صحت اور سرکاری عہدیدار بھی میڈیا پر آکر حفاظتی تدابیر اور خدانخواستہ متاثر ہونے کی صورت میں کیا کرنا ہے، اس حوالے سے آگاہی دیں ۔ کرونا وائرس کے حوالے سے معمولی سی بھی خوف کی فضا پیدا نہ ہونے دی جائے ۔ جہاں تک تشخیص ، ویکسین اور علاج کا تعلق ہے تو اس حوالے سے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے ۔ ملک بھر میں خوف و ہراس پیدا کرنے کا سبب بننے والے عوامل، خواہ وہ مارکیٹ میں ’’ماسک‘‘ کی عدم دستیابی سے متعلق ہی کیوں نہ ہوں کا قلع قمع کیا جائے اور انہیں عوام سے دور رکھا جائے ۔ ویسے بھی پاکستان میں موسم گرما ہونا شروع ہو گیا ہے لہذا اس موسم میں فلو کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے ۔ کرونا وائرس بھی فلو کی ہی شکل میں ہوتا ہے لہذا گرم موسم میں کرونا وائر س ختم ہو جاتا ہے ۔ دوسری طرف عوام کو بھی چاہئے کہ وہ کسی ایسی آزمائش کی صورت میں تمام احتیاطی تدابیر بروئے کار لائیں اور کسی منفی پراپیگنڈہ کا باعث نہ بنیں ۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کی طرف سے جھوٹا اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی ہے‘ جسے چھپایا جارہا ہے ۔ ایسی بے بنیاد باتوں سے عوام پریشانی اور افراتفری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ حکومت کی طرف سے کئے گئے انتظامات تسلی بخش ہیں ۔ ابھی سے کسی بھی سنگین صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہسپتالوں میں خصوصی وارڈ قائم کئے جارہے ہیں ۔ اس حوالے سے اگر قومی پالیسی تشکیل کی ضرورت محسوس ہوئی تو حکومت یقیناً اس میں بھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گی ۔ کرونا کے پاکستان میں پھیلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ‘ اس کے باوجود حکومتی‘ عوامی اور انفرادی سطح پر حفاظتی اقدامات کی سخت ضرورت ہے ۔ صدر مملکت نے عوام کو درست مشورہ دیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں ۔ گھبرائیں نہیں ۔

ممتاز عالم دین اور رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس عالمی وبا کی شکل میں سامنے آیا ہے ۔ انہوں نے تاجر برادری سے اپیل کی کہ ایسے حالات میں ضرورت کی اشیا کی قیمتیں نہ بڑھائیں پوری قوم سے اپیل ہے اس وبا سے متعلق افواہیں نہ پھیلائیں جائیں ۔ مفتی منیب الرحمان نے ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب مہلک وبا آئے تو جو جہاں ہے وہیں رہے ۔ اسلام نے بھی ایسی صورت حال میں احتیاطی تدابیر اپنانے کا حکم دیا ہے ۔ شہریوں کو اس موقع پر مختلف اوہام کا شکار نہیں ہونا چاہیے ۔ میڈیا بھی اس حوالے سے افواہوں کے خاتمے میں کردار ادا کرے ۔ حکومت کی طرف سے ایران اور افغانستان بارڈر پر سخت چیکنگ ہو رہی ہے ۔ ائیر پورٹس پر بھی سکریننگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ جن لوگوں پر کورونا میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے انہیں خصوصی نگہداشت کے مراکز میں رکھا جا رہا ہے ۔ اس وقت خوف و ہراس کی بجائے صبر و تحمل اور احتیاط کی ضرورت ہے ۔