Site icon Daily Pakistan

خیبر پختون خواہ بازی لے گیا

دو تین دن پہلے وفاقی سیکریٹری ہیلتھ کے ساتھ وفاقی ہیلتھ پالیسی پر گفتگو کرتے کرتے ہمارا دھیان یکدم اپنے خیبر پختون خواہ کی ہیلتھ پالیسی اور علاج معالجہ کی سہولیات کی طرف چلا گیا جسکے بعد ہم نے پختون خواہ کی صورتحال جاننے کے لئے سیکرٹری ہیلتھ پختون خواہ مسٹر شاھداللہ خان سے واٹس اپ پر فوری رابطہ کیا تو انہوں نے بھی لمحہ ضائع کئے بغیر فوری طور پر ریسپانڈ کیا ۔دوران گفتگو جہاں انہوں نے صوبے کی ہیلتھ پالیسی پر تفصیلی روشنی ڈالی وہیں آخر میں ایک بہت بڑی خبر بھی دے دی جسے سن کر ہم نے اتنے بے قرار ہوئے کہ ہم نے وفاقی ہیلتھ پالیسی کی بجائے پہلے یہ خوش کن خبر صوبے کے عوام کے علاہ وفاقی اور بقیہ دیگرصوبوں کے ہیلتھ پالیسی سازوں تک پہنچانے کا ارادہ کر لیا۔شاھد اللہ خان کے مطابق صوبائی وزارت صحت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات و احکامات کی روشنی میں عوام کو طبی سہولیات کی ان کے گھر کی دہلیز کو یقینی بنانے کی غرض سے صوبے میں ہیلتھ کارڈ کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے ملک کے پہلے ہیلتھ سٹی طبی شہر کے قیام کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے جہاں نہ صرف ایمرجنسی و دیگر طبی سہولیات میسر ہونگی بلکہ ہارٹ ،لیور کڈنی بیک بون سمیت دیگر ٹرانسپلانٹیشن کی سہولتیں بھی دستیاب ہونگی ، یہی نہیں بلکہ ہیلتھ سٹی میں مریضوں کے لانے کے جانے کیلئے باقاعدہ ایک ہیلی پیڈ ،فلنگ سٹیشن ہوٹلز بھی موجود ہوں گے ، اس حوالے سے سمری تیار کر کے اگلے ADP میں اس ہیلتھ سٹی کے لئے بجٹ بھی مختص کر دیا گیا ۔کیوں ناظرین و قارئین کرام ہے نا یہ ملکی سطح کی طبی سہولتوں کے حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی تاریخی خبر جو شاید اللہ صاحب نے ہمیں سنائی اور آگے ہم نے سب کو بتا نے میں لمحہ بھی ضائع نہیں کیا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہیلتھ سٹی یعنی ملک کے پہلے طبی شہر کا یہ قابل فخر قابل تحسین منصوبہ مکمل ہو کر کام شروع کر دیتا ہے تو وزیر اعلیٰ پختون خواہ سہیل آفریدی جو صوبے اور صوبے کی عوام کی خدمت کے حوالے سے ہمہ وقت تنقید کا نشانہ بنے چلے آ رہے ہیں صوبے کی مثالی خدمت میں اپنا نام بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ساتھ ہی شاھداللہ صاحب کا نام بھی یاد رکھا جائے گا جن کی نگرانی سربراہی میں یہ منصوبہ مکمل کیا جائے گا ۔اب آتے ہیں پختون خواہ کی ہیلتھ پالیسی کی طرف تو اس سلسلے میں اپنے ذرائع سے جاننے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ صحت کارڈ کے اجرا کے بعد صوبے کی موجودہ صورتحال کافی بہتری کی طرف جا رہی ہے ۔ عوام کا سرکاری ہسپتالوں پر اعتماد قائم ہوا ہے ۔ واقف حال حلقوں کے مطابق نہ صرف صوبائی دارلحکومت پشاور کے بڑے ہسپتالوں بلکہ دور دراز کے ضلعی اور دیہی علاقوں کے بنیادی طبی مراکز تک میں ایمرجنسی کے علاوہ ایڈمٹ مریضوں کو مفت ادویات دستیاب ہیں بلکہ مفت آپریشنز اور فری ٹیسٹس کی سہولیات بھی میسر ہیں ۔ذرائع کے مطابق ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی اگر یقینی بنا دی گئی ہے تو ساتھ ہی چیک اینڈ بیلنس کی غرض سے صوبائی وزارت صحت میں ایک خصوصی پورٹل بھی قائم کیا جا چکا ہے جس کے ذریعے صوبے کے ہر بڑے چھوٹے ہسپتال سمیت تمام ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں موجود ادویات دیگر ضروری سازو سامان کی مقدار ،ضروت کا تعین اور معیار کا خاص خیال رکھا جارہا ہے جس سے ایک تو ادویات کی خرد برد تو دوسرا سرکاری وسائل کے ضیاع کا احتمال ختم کرنے میں بڑی حد تک مدد ملی ہے ۔آئی سی یو ، انتہائی نگہداشت ائی ڈی یو یونٹس میں بھی انقلابی بہتری پیدا کرنے کے لئے وزیر اعلی سہیل آفریدی کے خصوصی احکامات پر عملدرآمد کی غرض سے منصوبہ بندی تیار کرلی گئی ہے۔ اس وقت پورے صوبے میں آئی ڈی یو بیڈز کی تعداد پانچ سو کے لگ بھگ بتائی گئی ہے جن کی تعداد کم سے کم ایک ہزار سے زیادہ کرنے کی سمری تیار کر لی گئی ہے جو اگلے سال کے بجٹ میں شامل کی جا چکی ہے ۔ وومن اینڈ چلڈرن ہسپتالوں کی حالت زار میں بھی خوش کن بہتری پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے ، ماضی میں زچگی کے دوران بچوں کی اموات کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ تھی جس میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے دوسرے صوبوںپ کی بنسبت ، ماں اور بچہ دونوں کو وہ قابل زکر سہولیات حاصل ہیں جن کا ماضی میں تصور بھی محال تھا ۔طبی سہولیات کے علاہ کنسلٹنٹس ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس سٹاف کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس سلسلے میں بھی ماضی کے مقابلے میں خاصی حد تک بہتر صورتحال کا پتہ چلا ہے ، پچھلے چند ماہ میں 432 کنسلٹنٹس ڈاکٹرز کی نئی رکروٹمنٹ کی گئی جبکہ پرائمری ہیلتھ سیکٹر میں دور دراز سمیت تمام مراکز ہسپتالوں میں 1425ایم اوز ، 250 ڈینٹسٹ اور 764 نرسز بھرتی کی جائیں گی ، ان کی سمری بھی تیار کر لی گئی ہے جس سے مجموعی صورتحال کی بہتری کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔پختونخواہ کی ہیلتھ پالیسی کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس میں ہیلتھ کارڈ کے علاہ عام طور پر علاج معالجے کے جو اخراجات اٹھا کرتے تھے ان میں بھی بڑی حد تک کمی کر دی گئی ہے جس سے غریب مریضوں کی جیب پر پڑنے والا بوجھ اب ھلکا ہو چکا ہے ۔قارئین کرام ہم یہاں یہ بتاتے چلیں کہ اپنی اس سٹوری کو جاندار اور قابل یقین بنانے کے لئے ہم نے صوبے میں اپنے ذرائع سے بھی رابطہ کیا نہ کہ صرف سیکرٹری ہیلتھ کی بریفننگ پر ہی اکتفا کیا تا کہ اصل حقائق عوام اور اداروں کے سامنے لائے جا سکیں ۔اب جہاں تک پختون خواہ کی ہیلتھ پالیسی ،اقدامات اور ان پر عوامی اعتماد کے حوالے سے ہماری ذاتی رائے کا تعلق ہے تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی کہ گو کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر مبینہ کرپشن اور عوام کو ڈیلیور نہ کرنے کے الزامات تو تواتر سے لگتے ہی چلے آ رہے ہیں لیکن اگر ان الزامات کی کوئی صوبائی وزارت نفی کر رہی ہے تو یہ صرف صوبائی وزارت صحت ہی ہے جسکی شبانہ روز کی محنت اور بہترین کارکردگی نے صوبائی حکومت کی لاج رکھ لی اور عوام کو ڈیلیور کر کہ دکھا بھی دیا جس سے وزیراعلی ٰسہیل آفریدی کے سیاسی ساکھ پر یقینا”مثبت اثرات مرتب ہونے کے یقینی امکانات روشن ہوگئے ہیں ۔

Exit mobile version