کالم

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو!

جناب شاہ بلیغ الدین کی مقبول عام تحریریں جو ”روشنی” اور ”تجلی”کی صورت میں ریڈیو پاکستان سے ایک عرصے تک نشر ہوتی رہی ہیں انہوں نے افضل بن غوث بن عبد الرحمن کی سیرت میں سے قرون اولیٰ کا ایک واقعہ اشرفیاں کے نام سے تحریر کیا ہے جب کوفے میں مختلف قافلے حج کر کے واپس ہوئے تو سب ربیع بن سلمان سمیت ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے کہ اللہ تعالیٰ سب کا حج قبول فرمائے ۔ حضرت ربیع نے کہا بھائی مجھے کیوں مبارکباد دیتے ہوئے کیونکہ میں تو حج کے لئے روانہ ہی نہ ہو سکا۔ قافلے والوں نے بڑی حیرت سے ربیع بن سلیمان کی بات سنی وہ سمجھے وہ مذاق کر رہے ہیں ، ہر ایک نے کہا کہ ہم نے تمہیں عرفات میں دیکھا ، رمی جمار میں دیکھا، مکہ میں دیکھا۔ ایک اور حاجی آگے بڑھا اور بولا، یہ لوسنبھالو اپنی تھیلی ! حضرت ربیع نے کہا کیسی تھیلی ؟ جواب ملا جب ہم آنحضرت ۖ کے روزہ مبارک کی زیارت کر کے باب جبرائیل سے زیارت کر کے باہر نکل رہے تھے تم نے یہ تھیلی میرے پاس رکھوائی تھی اور اس پر ”من عاملنا ” کے الفاظ لکھے ہوئے تھے جس کا مطلب ہے کہ جو ہم سے معاملہ کرتا ہے فائدے میں رہتا ہے دیکھ لو یہ وہی تھیلی ہے۔ حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ ہزار انکار کے باوجود جب میری بات نہ سنی گئی تو میں اس تھیلی کو گھر لے آیا۔ نماز پڑھی، دعائیں کیں، وظیفہ پورا کیا لیکن نیند کوسوں دور تھی۔ کوفے سے حاجیوں کے قافلے گزرتے ہی رہتے تھے، جب ربیع کسی سے حج کا حوال پوچھتے تو وہ آگے سے جواب دیتے کہ رمی سعی اور طواف میں تم خود موجود تھے بھائی، ہم نے خود تمہیں مناسک حج ادا کرتے دیکھا ہے، پھر تم خود ہم سے یہ بات کیوں چھپارہے ہو؟ پھر ربیع خود بھی سوچ میں پڑ گئے۔اصل بات یہ تھی کہ ربیع حج کے ارادے سے نکل پڑے تھے کوفے میں سفر کا سامان خرید رہے تھے کہ انہوں نے ایک دکھیاری عورت کو دیکھا وہ گھوڑے پر ایک مردہ خچر کاٹکڑا لے کر جارہی تھی۔ ربیع نے کہا ضرور کوئی بات ہے ورنہ ایسے مردہ گوشت کون لے کر جاتا ہے؟ چپکے سے اس کے ساتھ ہو لئے ۔ ان کے ذہن میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ بٹھیارن ہو اور لوگوں کو مردہ گوشت پکا کر کھلاتی ہو، حضرت ربیع بن سلیمان جب اس عورت کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ اس عورت کی چار بیٹیاں ہیں، شوہر تین سال سے انتقال کر چکا ہے، کوئی ان کا ولی وارث نہیں ہے، کئی کئی دن فاقے سے گزرتے ہیں، اس وقت ان پر چار دن کا فاقہ تھا، اضطراری حالت میں انہوں نے جان بچانے کیلئے مردہ گھوڑے کا گوشت کاٹ لیا تھا ، ربیع بن سلیمان نے حج کا ارادہ بدل دیا اور ساری پونچی اس کے حوالے کر دی، حج سے محرومی کا انہیں بڑا رنج تھا لیکن بندوں کی مدد انہیں زیادہ ضروری معلوم ہوئی۔ عشا کی نماز کے بعد جب ربیع تھیلی کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ کس طرح لوگوں نے مکہ مدینہ عرفات اور کعبہ میں دیکھا تو سوچتے سوچتے ان کی آنکھ لگ گئی خواب میں ان کی زیارت حضوراکرم ۖ سے ہوئی انہوں نے ارشاد نبوی سنا کہ ربیع! جب تم نے ایک مجبور خاندان کی مدد کی تواللہ تعالیٰ نے تمہیں اس طرح اس کا بدلہ دیا کہ تم خود کوفے میں رہے اور ایک فرشتے نے جس کی شکل بالکل تمہاری طرح تھی تمہاری طرف سے حج نے ادا کیا، پھر زبان سے نکلا کہ من عاملنا ربیع کہ جواللہ سے معاملہ کرتا ہے وہی فائدے میں رہتا ہے۔ ربیع بن سلیمان نے جب اس بشارت کے بعد تھیلی کھولی تو اس میں چھ سواشرفیاں موجود تھیں ۔ اس واقع میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تصویر بڑے خوبصورت انداز میں کی گئی ہے کسی شاعر نے شائد اس لئے کہا تھا۔درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں
نماز اور روزہ کے بعد حج اور قربانی اللہ کی طرف سے ایک اہم فریضہ ہے، قرآن پاک کا ہمارے لئے یہ پیغام ہے کہ اللہ رب العزت کو ہماری قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اصل چیز ہمارا دلی جذبہ اخلاص، نیت اور تقوی ہے لیکن اس فریضہ کو ادا کرتے وقت یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ ہمارے اردگر رہنے والے لوگ کس حال میں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کا ہمسایہ رات کو بھوکا سو جائے تو ہماری عبادات بھی قبولیت کے درجہ سے دور ہو جاتی ہیں اور ہمسایہ کی تعریف بھی اس طرح کی گئی ہے کہ آپ کے دائیں اور بائیں چالیس گھر آپ کی ہمسائیگی میں آتے ہیں۔ گویا اس طرح پورا محلہ ہی آپ کا ہمسایہ بن جاتا ہے اس لئے ہمیں اور صاحب استطاعت لوگوں کو معاشرے میں ایسے لوگوں کو ڈھونڈنا چاہیے کہ کسی غریب کی بھوک کو کیسے مٹانا ہے؟ ایک بیمار کا علاج کیسے ہوگا؟ ایک ننگے پاں اور ننگے سرکو کیسے ڈھانپنا ہے۔ قربانی انسان اور اللہ کے درمیان ایک پاکیزہ محبت اور خلوص کا معاملہ ہے لیکن قربانی کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں بڑے بڑے دلچسپ واقعات سامنے آتے ہیں جو ہم سب کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کچھ لوگ قربانی تو بڑے شوق و ذوق سے کرتے ہیں لیکن جب ان سے کسی غریب اور بے آسرا کی مدد کے لئے کہا جاتا ہے تو نہایت خوبصورتی سے پہلو تہی کر کے کہتے ہیں کہ ضروریات زندگی، روٹی، کپڑا اور رہائش کی سہولتیں مہیا کر نا حکومتوں کا کام ہے جبکہ یہ اتنا برا ایشو ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایک فرد اور معاشرے کی مدد کے بغیر ایک عام اور غریب عوام کو بنیادی سہولتیں مہیا کرنا ایک مشکل امر ہے۔ اکثر جب صاحب استطاعت لوگ 5 یا 10لاکھ کی بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں توچہ مگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ اتنی بڑی قربانی سے کسی غریب کی مدداور علاج کیا جا سکتا تھا لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے۔ قربانی اللہ اورانسان کے درمیان ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق انسان کے تقوے اور خلوص نیت سے ہے لیکن جہاں تک غریب لوگوں کو روٹی، کپڑے اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا تعلق ہے ایسے مالدارلوگ جواپنی بڑی بڑی قربانیاں اللہ کے راستے میں کر رہے ہیں انہیں اپنی استطاعت کو مزید اس طرح بڑھانا چاہیے کہ ان کے قربانی کے جذبے میں مزید خلوص اور برکات شامل ہو جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے