دفعہ 62 اور 63

20

ابھی جب 2018کی الیکشن کی آمد آمد ہے ۔ پورے ملک میں تمام سیاسی پا رٹیاں جلسیں اور جلوسوں میں منہمک ہے ۔خواہ کوئی اچھی شہرت والی پا رٹی ہو یا بُری شہرت والی ساری کی سیاسی پا رٹیاں ملک میں 2018 کے الیکشن کے لئے سر گرم عمل ہے۔ گذشتہ 40 سال سے جو سیاسی پا رٹیاں اور سیاسی خاندان قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن لڑ رہے ہیں وہی پھر میدان میں ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کو پاکستان کے عوام بار بار آزما چکے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے ہوتے ہوئے کوئی مُثبت تبدیلی نہیں آتی۔ ہمیں جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق سے لا کھ اختلاف صحیح ، مگر قومی، صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے ممبران کے بارے میں آئین اور قانون کی شق 62 اور 63 کی با ت کرتے ہیں ، اُ س میں کسی بھی محب وطن اور ذی شعور انسان کا امیر جماعت اسلامی کے ساتھ اختلاف نہیں ہو سکتا۔ ہم مہنگائی، لا قا نو نیت، بد عنوانی ، کرپشن ، اقربا پر وری ملک اور قوم لو ٹنے والوں کی باتیں کر تے ہیں مگر کیا کسی نے سو چا اسکے ذمہ دار کون ہیں؟۔ یہ ذلالت ، رسوائی اور پستی کیوں؟ ہمیں ڈیکٹیشن کیوں؟ہما رے ساتھ بن الاقوامی طو ر پر شودروں ، گھٹیا درجے کے انسانوں کا سا امتیازی سلوک کیوں؟۔ بد قسمتی سے بُہت سارے عوامل کے ساتھ ساتھ ایک پاکستانی ہو نے کے نا طے ہماری بھی کوئی ذمہ داری بنتی ہے۔ ہمارا بھی کوئی حق بنتا ہے کہ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ کیا ہم اپنا ووٹ ایک دیانت دار، امین ، محب وطن اور غریبوں کے مسائل سے آگاہ اُمیدوار کو دیتے ہیں؟۔ کیا جس کو ہم ووٹ دیتے ہیں اُنکو پتہ ہے کہ اُنکو کس عہدے ، منصب پرفایز کیا جا رہا ہے؟ وطن عزیز میں لاقانونیت، بے روز گاری، مہنگائی ، لاقانونیت کرپشن اور لو ٹ مار کا با زار کس وجہ سے گرم ہے۔ قوموں کی برا دری میں ایک جو ہری طاقت ہوکے ہم ذلیل اور رسوا کیوں؟ اگر حالات اور واقعات کا بغور مطالعہ اور تجزیہ کریں تو ان میں عوام اور اس ملک کے کر پٹ لیڈرز ملوث ہیں۔ غریب عوام ان کر پٹ اور بد کر دار لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو پانچ سال کے لئے ہمارے اوپر سانپ کی طر ح مسلط ہوتے ہیں اور پھر ایسے سمجھتے ہیں کہ جیسے پاکستان 19 کروڑ عوام کا نہیں بلکہ ان کر پٹ سیاست دانوں کے باپ دادا کی جا گیر ہے۔ اگر ہم پسے ہوئے غریب عوام برا دریوں، ذات پات ، قبیلوں اور ذاتی پسند اور نا پسند سے نکل کر ملک ، قوم اور اپنی موجودہ اور آئندہ نسلوں کی بہتری کے لئے سوچیں تو پھر ہم کبھی بھی ان ظالم اور لُٹیروں کو ووٹ دیکر ملک کے قانون ساز اداروں میں نہیں بھیجیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈا کٹر قادری صا حب سے کسی کے ہزاروں اختلافات ہو سکتے ہیں مگر وہ آئین کی جس شق نمبر 62 اور 63 کی بات کرتے ہیں اُنکا نفاذ اُن کیلئے جہدو جہد ملک اور قوم کے عظیم مفاد میں ہے۔ ہم اُ س وقت تک ملک میں کرپشن ، مہنگائی، لاقانونیت ، بے روز گا ری بجلی اور گیس لو ڈ شیڈنگ پر قابو نہیں پاسکیں گے جب تک ہم قانون ساز اسمبلیوں میں اچھی شہرت، اعلی کردار اور شق نمبر 62 اور 63 پرپورا اُترتے لوگوں کو قانون ساز اداروں میں نہیں بھیجیں گے۔اگر ہم ان شقوں کا مطالعہ کریں تو موجودہ سیاست دانوں میں زیادہ تر سیاسی پا رٹیوں کاکوئی امیدارایسا نہیں جو ان شقوں پر پو را اُتر تا ہو۔اگر ہم ان دو شقوں کا مطالعہ کریں تو ان میں شق نمبر 62کا تعلق پا رلیمنٹ کے اُمیدواروں کی اہلیت سے ہے جبکہ آئین کی شق نمبر 63کا تعلق پا رلیمنٹ کی ا میدوار کی نا اہلی یا سیاسی وفا داری تبدیل کر نے سے ہے۔ شق نمبر 62 میں اس بات کی صاف الفا ظ میں وضا حت کی گئی ہے کہ قانون ساز اداروں کیلئے ایک امیدوار کی اہلیت کیلئے کیا کیا لوازمات ہونے چاہئے۔ اس شق کے مطابق قانون ساز اداروں کے امیدوار کیلئے ضروری ہے کہ وہ اچھے کر دار کے مالک ہوں اور وہ اسلام کے بنیادی قاعدوں اور ضا بطوں کی خلاف ور زیوں کیلئے اعلانیہ طو ر پر مرتکب نہ ہو ۔اُنکی شخصیت کی دوسری اہم اور نمایاں خصو صیت یہ ہو نی چاہئے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے بارے میں کا فی علم رکھتے ہوں اور اسلام کے بنیادی ارکان پر عمل پیراہوں اور گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ ہوں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام محب وطن سیاسی پا رٹیوں اور قوتوں کو مل کر آرٹیکل 62 اور 63 کی نفاذ کے لئے قادری صا حب کا دینا چاہئے تاکہ ملک آئندہ انتخابات میں کر پٹ ، بد عنوان امیدوار جیتنے نہ پائیں۔ میں چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس صا حبان سے بھی در خواست کرتا ہوں کہ آج کل جتنے بھی سیاسی لوگ وفا دا ریاں تبدیل کر رہے ہیں اُنکے خلاف بھی ایکشن لیا جائے اور الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جائے کہ آئین کی آرٹیکل 62 اور 63 کو مکمل طور پر نا فذالعمل بنائیں۔ وفاقی حکومت اور صو بائی حکومتوں نے سرکاری اداروں میں جتنی بھی تقرریاں کی ہیں اُنکو منسو خ کیا جائے۔عوام کو بھی سو چنا چاہئے کہ وہ بھی ایسے لوگوں کو منتخب کریں جو انکے لئے کام کریں اور انکو جہالت، لو ڈ شیڈنگ، مہنگائی، لاقانونیت اور بے روز گا ری کی دلدل سے نکالیں۔ جن جن سیاسی اہل کاروں نے بینکوں سے قرضے معاف کئے ہیں یا وہ حکومت کے نا دہندہ ہو اُنکے خلاف آئین کی شق نمر 62 اور 63 کے مطابق کا رروائی کی جائے۔کیا سیاسی پا رٹیوں اور عسکری قیادت کی شق ۶۲ اور ۶۳ لاگو کرنے کا ارادہ ہے۔
*****