Site icon Daily Pakistan

دورہ قطر،سفارتی تسلسل یا اسٹرٹیجک موڑ؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے اعصاب پر سوار ہے۔ غزہ کی جنگ کے اثرات ابھی مدھم نہیں ہوئے، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی وقفے وقفے سے شدت اختیار کر رہی ہے، امریکہ اور ایران کے تعلقات غیر یقینی کے دائرے میں گردش کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی عالمی منڈی کسی اچانک بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ایسے ماحول میں خلیج کی ریاستیں تماشائی نہیں بلکہ توازن پیدا کرنے والی قوتیں بن چکی ہیں۔ ان ریاستوں میں ایک اہم نام قطر کا ہے، جو بیک وقت امریکی عسکری موجودگی کا میزبان بھی ہے اور خطے کے حساس تنازعات میں ثالثی کا کردار بھی ادا کرتا رہا ہے۔اس پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی پس منظر میں پاکستان کی سفارت کاری ایک نئے امتحان سے گزر رہی ہے۔ اسلام آباد کو ایک طرف اپنی توانائی سلامتی، ترسیلاتِ زر اور خلیجی منڈیوں تک رسائی کا تحفظ درکار ہے، تو دوسری طرف اسے علاقائی تنازعات میں غیر جانبداری اور توازن بھی برقرار رکھنا ہے۔ ان حالات میں میاں محمد شہباز شریف کا حالیہ دور دوحہ رسمی سفری سرگرمی نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ ترجیحات اور معاشی حکمتِ عملی کا آئینہ دار اقدام ہے۔ دورے کے دوران وزیراعظم نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور اعلی قطری حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں ایل این جی سپلائی کے موجودہ فریم ورک کو زیادہ لچکدار بنانے، ادائیگیوں کے طریقہ کار میں سہولت پیدا کرنے اور توانائی کے نئے شعبوں خصوصا قابلِ تجدید توانائی اور گرین ہائیڈروجن میں اشتراک پر ابتدائی اتفاقِ رائے سامنے آیا۔ دونوں ممالک نے افرادی قوت کی مہارت بڑھانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے مشترکہ ورکنگ گروپ کو فعال کرنے پر بھی زور دیا۔ قلیل مدت میں یہ تیسری اعلی سطحی ملاقات ہے۔ سفارتی تسلسل بلاشبہ مثبت علامت ہے، مگر عالمی سیاست میں اصل قدر ملاقاتوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کے قابلِ پیمائش نتائج ہوتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کتنے دورے ہوئے؛ سوال یہ ہے کہ ان دوروں نے پاکستان کی معیشت، توانائی تحفظ اور علاقائی پوزیشن کو کتنا مضبوط کیا؟پاکستان اور قطر کے تعلقات تاریخی طور پر توانائی اور افرادی قوت کے گرد گھومتے رہے ہیں۔ قطر پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے والا ایک بڑا شراکت دار ہے ۔ اگر اس شراکت کو حقیقی اسٹرٹیجک سطح تک لے جانا ہے تو تجارتی تنوع، مشترکہ سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون ناگزیر ہوگا۔خطے کی موجودہ صورتحال میں قطر کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایک جانب امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور اس کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈا قائم ہے، تو دوسری جانب وہ ایران سمیت مختلف متحارب فریقوں کے ساتھ مکالمے کا دروازہ بھی کھلا رکھتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ عسکری تصادم کی صورت میں قطر کا کردار غالبا ثالثی اور تنا کم کرنے کا ہوگا۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال نہایت نازک ہے، کیونکہ خلیج میں کسی بھی جنگ کا براہِ راست اثر اس کی توانائی سپلائی لائنز اور سمندری تجارت پر پڑ سکتا ہے۔ اگر اسلام آباد اور دوحہ کے درمیان علاقائی سلامتی پر سنجیدہ تبادلہ خیال کو ادارہ جاتی شکل دی جاتی ہے مثلا خلیجی سلامتی ڈائیلاگ میں شمولیت، میری ٹائم سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی میں مشترکہ فریم ورک تو یہ تعلقات کی نئی جہت ہوگی۔ بصورتِ دیگر، بات چیت سفارتی اعلامیوں تک محدود رہنے کا خطرہ رکھتی ہے۔معاشی پہلو سے دیکھا جائے تو اصل امتحان سرمایہ کاری کے عملی بہا میں ہے۔ قطر کے ویلتھ فنڈز دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اگر پاکستان سیاسی استحکام، پالیسی تسلسل اور قانونی تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہو تو توانائی، گرین ہائیڈروجن، انفراسٹرکچر، بندرگاہوں اور آئی ٹی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے حقیقت بن سکتے ہیں۔ بصورت دیگر، بار بار کے دورے توقعات تو پیدا کریں گے مگر نتائج نہیں۔بین الاقوامی امور کے تناظر میں پاکستان کو اب علامتی سفارت کاری سے آگے بڑھنا ہوگا۔ خارجہ پالیسی کو براہِ راست معاشی مفادات سے جوڑنا، افرادی قوت کو ہنر مند بنانا اور دوطرفہ تعلقات کو بیانات کے بجائے معاہدوں اور منصوبوں میں ڈھالنا وقت کی ضرورت ہے۔ قطر کے ساتھ تعلقات ایک موقع ضرور ہیں، مگر موقع اسی وقت تاریخی موڑ بنتا ہے جب اسے ٹھوس حکمتِ عملی اور داخلی اصلاحات کا سہارا حاصل ہو۔آنے والے مہینے فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر توانائی معاہدوں میں بہتری، تجارت میں اضافہ، نئی سرمایہ کاری اور علاقائی سفارتی ہم آہنگی کے واضح آثار سامنے آئے تو یہ دورہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سنجیدہ اسٹرٹیجک قدم تصور ہوگا۔ بصورتِ دیگر، یہ بھی سفارتی سرگرمیوں کی طویل فہرست میں شامل ہو جائے گا۔پاکستان کیلئے اب انتخاب واضح ہے سفارتی مصروفیت یا سفارتی موثوریت۔

Exit mobile version