دھرنے کے خاتمہ میں پاک فوج کا احسن کردار

13

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، گزشتہ تقریباً چالیس سال سے دھرنوں اور احتجاجی جلسے جلوسوں کی زد میں ہے۔ اس شہر میں احتجاج کا مقصد دنیا کی توجہ حاصل کرنا ہوتی ہے لیکن اس طرح دونوں جڑواں شہر مفلوج ہو جاتے ہیں۔ احتجاج کرنے اور دھرنے دینے والے، اس قدر پرجوش یا مشتعل ہوتے ہیں کہ وہ کسی قاعدے قانون کو خاطر میں نہیں لاتے اور نہ ہی کسی کی سنتے ہیں۔ ٹریفک کا نظام اس قدر بے ہنگم کہ چوک تو درکنار، سڑک پر چار آدمی بیٹھ جائیں تو آہستہ آہستہ سارا شہر جام ہو جاتا ہے۔ مریضوں اور زچگان کی ایمبولینسیں گھنٹوں پھنسی رہتی ہیں۔ سکولوں کے معصوم بچے، بھوکے پیاسے سڑکوں پر تڑپتے رہتے ہیں ذرائع آمد و رفت کارسرکار اور کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔آج کل ایک ایسے ہی دھرنے کی بازگشت ہر طرف سنائی دے رہی ہے جو مذہبی جماعت کی طرف سے فیض آباد میں دیا گیا۔ دھرنے میں شامل جماعت لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا موقف تھا کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف نامے کے بارے میں جو ترمیم کی گئی تھی وہ ختم نبوت کے منافی تھی۔حکومت نے حلف نامے کو پرانی حالت میں بحال کر دیا تاہم مظاہرین وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے پر مصر تھے۔فیض آباد کا دھرنا انیسویں روز میں داخل ہوا تو انتظامیہ نے اٹھانے کے لئے اقدامات شروع کئے اس سے پہلے دھرنے والوں سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا تھا۔ آنسو گیس کی شیلنگ اور پانی پھینکنے والی گاڑیوں کے ذریعے مظاہرین کو اٹھانے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہوئی۔حکومت اور دھرنے والوں میں مذاکرات چل رہے تھے مگر مطالبات تسلیم نہ ہونے پر 12 ربیع الاول کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی دھمکی دی تھی۔ حکومت کی طرف سے زبردستی دھرنا اٹھانے کی کوشش میں آپریشن کیا گیا جو ناکام ہوگیا اور بات بہت زیادہ بگڑ گئی۔ پولیس نے فیض آباد دھرنا ختم کرانے کے لیے کیے گئے آپریشن سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا کہ آپریشن شروع ہونے پر 80 فیصد علاقہ کلیئر کر لیا تھا تاہم احتجاجی مظاہرین ڈنڈوں، پتھروں اور دیگر آلات سے لیس تھے جب کہ راولپنڈی سے تازہ دم مظاہرین پہنچتے رہے۔ کھلی جگہ کی وجہ سے آنسو گیس کے شیل بھی اثر انداز نہ ہو سکے۔پولیس 20 دنوں سے دھرنا کے مقام پر تعینات تھی جس کی وجہ سے پولیس فورس تھک چکی تھی اور پولیس کے مذہبی جذبات کو بھی ابھارا گیا۔ دھرنے کے مقام پر مختلف صوبوں کی پولیس اور ایف سی سمیت رینجرز تعینات تھی جب کہ مختلف سیکیورٹی اداروں میں رابطوں کا فقدان تھا۔بالآخر وزیر قانون زاہد حامد نے استعفا دے دیا اور دھرنے والوں اور حکومت کے درمیان ایک چھ نکاتی معاہدہ طے پایا ۔ چھ نکاتی معاہدے پر فریقین کے علاوہ میجر جنرل فیض حمید نے بھی دستخط کئے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی جس میں یہ طے پایا تھا کہ فیض آباد دھرنا ختم کرانے کے لئے طاقت استعمال نہیں کی جائیگی اور معاملہ مذاکرات سے حل کیا جائیگا۔ مذاکرات کے بعد انتظامیہ اور فیض آباد دھرنے کی قیادت کے درمیان یہ طے پایا ہے کہ گرفتار مظاہرین تین روز کے اندر اندر رہا کر دیئے جائیں گے اور جن کے خلاف مقدمات درج ہیں وہ ختم کر دیئے جائیں گے۔زیادہ تر مقدمات دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کئے گئے ہیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس ایشو پر متعلقہ حکومتی ذمہ داروں بالخصوص وزارت داخلہ کی غیرسنجیدگی‘ عدم دلچسپی اور بے نیازی کے باعث ہی فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کی نوبت آئی اور پھر دھرنے نے اس طرح طول اختیار کیا کہ یہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں کیلئے وبال جان بن گیا جبکہ اس صورتحال پر حکومتی رٹ کے سوال بھی اٹھنا شروع ہوگئے۔ حکومتی حلقوں میں معاملہ فہمی کے فقدان کا یہ عالم رہا کہ دھرنے کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے فوری نوٹس لینے اور دھرنے کو فیض آباد انٹرچینج سے ہٹانے کے ابتدائی احکام کی تعمیل سے بھی گریز کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اس دھرنے کا ازخود نوٹس لیا تو بھی حکومتی نمائندے آئیں بائیں شائیں کرتے نظر آئے اور وزیر داخلہ محض یہ جواز پیش کرتے رہے کہ دھرنے میں بیٹھے لوگوں کے پاس آتشیں اسلحہ ہے اس لئے اپریشن کی صورت میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ یہی وہ فضا تھی جس میں دھرنے کے خاتمہ کیلئے فوج کی مداخلت بھی قابل قبول ہوگئی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاضی محمد امین نے بھی فوج کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج بہترین کام کر رہی ہے۔ فوج نے ملک کو بڑی مصیبت سے نکالا ہے۔ فوج کردار ادا نہ کرتی تو جانے کتنی نعشیں گرتیں۔ فوج نے دھرنے سے متعلق امن معاہدہ کرا کر عوام کو بہت بڑی مصیبت سے نکالا۔ یہ فوج کا بہت احسن اقدام تھا۔ پاک فوج کی معاونت اور ضمانت کی بنیاد پر حکومت اور دھرنا دینے والی تنظیم لبیک یارسول اللہ کے مابین سادہ کاغذ پر طے پانے والے تحریری معاہدہ کی بنیاد پر اگرچہ دھرنا ختم ہوچکا ہے اور جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں امن و امان بھی بحال ہوچکا ہے تاہم دھرنا ختم کرانے کیلئے اختیار کئے گئے طریقہ کار نے بعض ایسے تلخ اور سلگتے سوالات کو ضرور جنم دیا ہے جو پارلیمانی جمہوری نظام میں سول انتظامیہ کی رٹ کی ناکامی کے حوالے سے جمہوریت کی عملداری اور آئین و قانون کی حکمرانی پر ایک دھبہ بن کر چپکے رہیں گے۔ سول انتظامیہ کی جانب سے دھرنا اپریشن میں ناکامی کو منتخب سول حکومت کی ناکامی سے تعبیر کیا جارہا ہے جس کے لامحالہ پورے سسٹم پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔یہ تمام معاہدہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب اور ان کے نمائندے کی خصوصی کاوشوں کے ذریعے طے پایا، جس کے لیے ہم ان کے مشکور ہیں کہ انھوں نے قوم کو ایک بہت بڑے سانحہ سے بچا لیا۔