Home » کالم » اورمضامین/کالم » دھوکے باز پڑوسی اور ہم
azmat_khan

دھوکے باز پڑوسی اور ہم

قرآن مجید سورہ الاسرا کی 80 ویں آیت میں حق و باطل کے معرکے کی خبر دیتا ہے جب سے دین حق آیا ہے باطل قوتیں متحرک ہو گئیں آج بھی یہ کسی نہ کسی صورت میں متحرک ہے بر صغیر کی تقسیم کے وقت ریڈ کلف ایوارڈ کے ذریعے بہت بڑی ڈندی ماری جس کے پیچھے مانٹ بیٹن اور نہرو کا گٹھ جوڑ تھاجس میں مسلم اکثریتی تحصیل گرداسپور راتوں رات انڈیا کو دے دی گئی جہاں سے گزر کر ہی کشمیر جانے کا واحد راستہ تھا جو پٹھان کوٹ سے ہو کر کشمیر میں داخل ہوتا تھا اور پاکستان آنے والے تمام دریا کشمیر سے آتے ہیں ان کے ہیڈورکس بھی انڈیا کے حوالے کردیے گئے اور نتیجا اپریل 1948 میں پاکستان جانے والا پانی مکمل طور پر بند کر دیا گیا یوں کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان لائف لائن پانی انڈیا کے کنٹرول میں دے دی گئی اب ہمارے پانی انڈیا کے کنٹرول میں چلے گئے نوبت یہاں جا پہنچی کہ پاکستان کو پانی انڈیا سے خریدنا پڑ گیا ہندوستانی سیاسی قیادت کو انگریزوں کی آشیرباد حاصل تھی اسلئے انڈیا ہمیشہ پاکستان سے نخوت اور تکبر کا مظاہرہ کرتا رہا اور کسی بین الاقوامی قانون کوخاطر میں لانے کو تیار نہیں تھا پاکستان نے معاملے کو ہیگ کی عالمی عدالت میں کے جانے کا اعلان کیا لیکن ہندوستان کو معلوم تھا کہ اگر معاملہ عالمی عدالت میں چلا گیا تو فیصلہ پاکستان کے حق میں آنے کا قوی امکانات ہیں لہذا وہ عالمی عدالت میں جانے سے پس وپیش کرتا رہا اس دوران امریکی ایٹمی توانائی کمیشن کے سابق سربراہ ڈیوڈ ایتھال نے علاقے کا دورہ کیا اور تجویز دی کہ انڈیا پاکستان عالمی بنک کی معاونت سے ایسا نہری نظام اور ڈیم بنائیں جس سے دونوں ملکوں کو مناسب پانی حاصل ہو سکے اس تجویز کی روشنی میں مذاکرات شروع ہوئے تو ہندوستانی اعتراضات اس قدر تھے کہ پاکستانی وزیراعظم سہروردی کے دور میں جنگ کی دھمکیوں تک بات چلی گئی بالآخر عالمی بنک نے خود ایک پلان بنایا اور فریقین کواس پر رضامند کیا اور 1960 میں سندھ طاس معاہدہ ہوا اورکراچی میں اسپر دستخط ہوئے جس کے مطابق تین مشرقی دریاؤں ستلج بیاس اور راوی ہندوستان کے حصے میں آئے اور مغربی دریاؤں سندھ جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق تسلیم کرلیا گیا لیکن ڈنڈی یہ ماری گئی کہ جب تک کشمیر پر انڈیا کا کنٹرول ہے وہ ان دریاؤں میں سے گھریلو استعمال زراعت اور ہائیڈروجنریشن (پانی سے بجلی پیدا کرنا)کے لئے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی جسے ہمارے کمزور مرعوب اور لالچی وفد نے تسلیم کرلیا یہ سوچے سمجھے بغیر کہ انڈیا اس کی تشریح کس طرح کرے گا اور وہ من مانی تشریح کر کے دھوکہ دے رہا ہے پاکستان ورلڈ بنک کی مدد سے انڈین بیسن ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کیا گیا جس میں کئی ملکوں نے فنڈ فراہم کئے پاکستان نے دو بڑے ڈیم بنا لئے اور نئی نہریں بنا کر مغربی دریاؤں کا پانی بند شدہ مشرقی دریاؤں میں ڈالا معاہدے میں ہر بات کی مکمل تفصیل موجود ہے جس کی رو سے انڈیا پاکستان کا پانی روکنے یا کمی کرنے کا مجاز نہیں اگر روکا تو وہ پانی چند روز کے اندر پاکستان کو واپس کرنے کا پابند ہوگا انڈیا میں اس وقت 6 ڈیم موجود تھے اور انڈیا مزید 8 بنانا چاہتا تھا معاہدے کے مطابق جو نئے ڈیم انڈیا بنائے گا اس کی اطلاع اور اس کا تفصیلی ڈیزائن پاکستان کو دیا جائے گا اگر پاکستان کو کوئی اعتراض نہ ہو تو ڈیم پر کام شروع کیا جاسکتا ہے لیکں منظور شدہ ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور دونوں طرف کے واٹر کمشنر تعمیرات کی نگرانی کریں گے 30 سال تک تو یہ معاہدہ چلتا رہا بنئے نے پاورجنریش کی شق کا فائدہ اٹھانے کی سوجھی اور وولر بیراج سلال ڈیم اور بگلیہار ڈیم بنانے شروع کئے اور اس میں ڈنڈی مارنی شروع کی بگلیہار مقبوضہ کشمیر میں ڈوڈہ کے مقام پر بنایا گیا مء 1992 میں انڈیا نے تفصیلات فراہم کیں پاکستان نے مئی میں اعتراض لگا کر واپس کردیا کہ اس ڈیزائن میں ایک تو پانی میں کمی واقع ہوگی دوسرے انڈیا کو کنٹرول حاصل ہوگا بہرحال 1999 میں کام شروع ہوا اور 2004 تک انڈیا پاکستان کو بات چیت میں الجھا کر تعمیرات کرتا رہا جب ڈیم کی تعمیر تقریبا مکمل ہوگئی تو ہمارے لوگ جا گے اور گونگلوؤں پر سے مٹی جھاڑنے جیسا اعتراض کردیا انڈیا نے دو کام کئے کہ کسی کو دبی میں فلیٹ لے کردئے کسی کو برطانیہ میں جائیداد دلوائی اور کسی کو کینیڈا میں معاملات ٹھیک کر کے دئے اور ڈیم کے ڈیزائن کی خلاف ورزی ہوتی رہی اور متعلقہ پاکستانی کارپردازان خاموش رہے یا انڈیا نے ان کو مذاکرات میں الجھائیبرکھا تاوقتیکہ تعمیر انڈیا کے مفاد میں مکمل ہو گئی تو معاہدے کے مطابق غیر جانب دار ماہر سے تب رجوع کیا جب تعمیر مکمل ہو گئی حالانکہ پاکستاں اعتراض کرکے تعمیر رکوا سکتا تھاتو اب ماہر تعمیر گرانے کا حکم تو نہیں دے سکتا تھا ماہر نے معمولی سی ردوبدل کے ساتھ اپنی رائے دے دی انڈیا نے اس پر جشن منایا ہم نے بغلیں جھانکیں اور کہا کہ ہماری فتح ہوئی ہے آج بھی کشن گنگا دریا جو پاکستان میں داخل ہو کر دریائے نیلم ہو جاتا ہے اس پر تعمیرات جاری ہیں ہندوستان کی جانب سے سرنگیں ڈال کر اس کا پانی وولر جھیل کی جانب لے جانا تھا جہاں ہائیدرو الیکٹرک پاور پلانٹ لگانا مقصود تھا اس سے پاکستان کے پانی میں کمی ہوگی اور پاکستان دریائے نیلم پر 969 میگاواٹ پاور پروجیکٹ کا منصوبہ رکھتا ہے جو اس سے یقیناًمتاثر ہوگا انڈیا اب بھی مزید کئی ڈیم بنانا چاہ رہا ہے اور بنیا ڈنڈی مارے گا آج انڈیا ہمیں سخت نقصان پہنچانے کے درپے ہے ہمیں آنکھیں کھول کر رکھنی ہوں گی کہ دشمن بہت عیار اور مکار ہے متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ خواب خرگوش سے جاگیں جو آپ کا فرض اور ذمہ داری ہے اللہ پاکستان کا

About Admin

Google Analytics Alternative