دہلی ۔۔۔فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ سازی !!

23

بھارتی یوم جمہوریہ کے حوالے سے دہلی سرکار نے ان دنوں پاکستان کے خلاف بے سر و پا الزامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے کہ پاکستان 26 جنوری سے قبل بھارت میں کوئی تخریب کاری کرے گا حالانکہ مبصرین کے مطابق مودی سرکار کا منصوبہ ہے کہ پلوامہ سانحہ کی طرح کوئی فالس فلیگ آپریشن کر کے ہندوستان بھر میں جاری شہریت ترمیمی بل کیخلاف احتجاج سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے اور یہ اس کی دیرینہ روش ہے وگرنہ حقائق بڑی حد تک سامنے آ چکے ہیں ۔ دوسری جانب 13 سال پہلے 18 اور 19 فروری 2007کی درمیانی شب بھارتی صوبے ہریانہ سے گزررہی سمجھوتہ ایکسپریس میں ہوئی دہشتگردی میں 80سے زائد پاکستانی زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 150سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 68 ہے ۔ یادر ہے کہ یہ ریل گاڑی دہلی سے لاہور آرہی تھی اور مسافروں کی بھاری تعداد پاکستانی تھی ۔ اس سانحے کے وقوع پذیر کے بعد بھارتی میڈیا نے اپنی روایت کے مطابق ، اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی مگر فطرت کا قانون ہے کہ سچ کو ہر حال میں ظاہر ہونا ہوتا ہے اس لیے بعد میں خود ہندوستانی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ اس جرم میں انڈین فوج کا حاضر سروس کرنل اور ;828383; براہ راست ملوث تھی ۔ اس پر خود بھارت کے کئی تجزیہ نگاروں نے افسوس ظاہر کیا تھا کہ اگر ;828383; اور بھارتی حکمرانوں کے یہی لچھن چلتے رہے تو کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ مستقبل قریب میں بھارت کے لئے ایسی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں جن کا حل کسی کے پاس بھی نہیں ہو گا ۔ دانشوروں نے کہا ہے کہ بھارت (خصوصاً بی جے پی اور مودی) کی حرکتوں کو دیکھ کر اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ بھارت رقبے اور آبادی کے معاملے میں تو بلا شبہ ایک بڑا ملک ہے مگر اس کی ذہنیت اتنی چھوٹی ہے جس کا تصور بھی کوئی دوسرا خطہ نہیں کر سکتا اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اپنے اسی منفی چلن کی وجہ سے ہی بھارت کئی صدیوں تک دوسروں کا غلام رہا ہے مگر لگتا یہی ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا اور اگر ان کی مستقبل میں بھی یہی روش رہی تو اس بات کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آنے والے سالوں میں بھارت دوبارہ تاریخ کے صفحات میں کھو جائے گا اور اس کا حشر ’’ داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں ‘‘ جیسا ہو گا ۔ یاد رہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے مجرمان کرنل پروہت، میجر اپادھیا، سوامی اسیم آنند،لوکیش شرما،سند یپ ڈانگے،کمل چوہان کے خلاف یہ مقدمے ابھی بھی جاری ہیں ۔ اس کے ایک ملزم سنیل جوشی کو گرفتاری کے بعد پراسرار حالات میں قتل کر دیا گیا ۔ مبصرین کے مطابق سنیل جوشی کو اس لیے قتل کر دیا گیا تا کہ سانحے میں ملوث دیگر افراد کے نام نہ بتا سکے ۔ لیکن 10فروری 2014کے ہندی اخبار بھاسکر میں نیوز رپورٹ شاءع ہوئی ۔ جس میں ’’کارواں ‘‘ میگزین میں سوامی آنند کے اس انٹرویو کی تفصیل شامل تھی جس میں اس نے خاتون صحافی ’’لینا گیتا رگھوُناتھ‘‘کو فخریہ بتایا کہ اس جرم میں ;828383;کے موجودہ سربراہ ’’موہن بھاگوت‘‘ اور ;828383;کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن اندریش کمار بھی شامل تھے ۔ سوامی نے بتایا کہ ;828383; مسلمانوں اور ان کے مذہبی مقامات کونشانہ بنا کر انھیں خوفزدہ اور ہراساں رکھنا چاہتی ہے ۔ مبصرین کے مطابق غیر جانبدار حلقے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں زعفرانی دہشتگردی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے ،ایسے میں دہلی سرکارکے لیے یہ افسوس کی بات ہونی چاہئے کہ 13 سال کا وقت گزرنے کے باوجود ابھی تک مجرموں کو سزا دینے کی بجائے سادھوی پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت اور اسیما نند جیسے مرکزی مجرموں کو ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے بلکہ سادھوی پرگیہ تو اب بھوپال سے ;667480; کی ممبر لوک سبھا بھی ہیں ۔ ایسے میں اگر بھارت انسانی حقوق کے احترام کی بات کرے تو کیا کہا جا سکتا ہے ۔