Home » کالم » رافیل جشن میں پاکستان کی 27فروری کی فتح کی گونج

رافیل جشن میں پاکستان کی 27فروری کی فتح کی گونج

27 فروری 2019ء کا دن بھارت کیلئے ایک ڈراوَنا خواب کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسی دن پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملاتے ہوئے اپنی طاقت کا لوہا پوری دنیا میں منوایا جس کے بعد بھارت سکتے میں آگیا اور اسے اپنی اوقات کا اچھی طرح اندازہ بھی ہو گیا،جنگ جنگ کا راگ الاپنے والا بکاوَ بھارتی میڈیا بھی ہندوستانی فوج کی اصلیت جان کر ششدر رہ گیا مگر عادت سے مجبور اپنی ٹی آر پی برقرار رکھنے اور اسے مزید بڑھانے کیلئے زہراگلنے کیساتھ ساتھ جھوٹ بولتا رہا اور ابھی تک بول رہا ہے ۔ بھارت کی انتہا پسند عسکری و سول قیادت بھی ہندوستانی عوام کو مزید بیوقوف بنانے کیلئے چھوٹی موٹی گیدڑ بھبکیاں مارتے اور مسلسل بھارتی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ۔ 8اکتوبر 2019ء کو ایک بار پھر 27فروری کی فتح کی گونج بھارت سمیت فرانس میں بھی سنائی دی ۔ ہندوستان میں 8اکتوبر2019کو 87واں فضائیہ کا دن منایا گیا اور ائیر بیس اسٹیشن ہنڈن غازی آباد میں پریڈ کا اہتمام کیا گیا حالانکہ ہندوستان 1947کو آزاد ہوا مگر ہندوستانی فضائیہ کا دن 87واں منایا گیا جو کہ ایک مضحکہ خیز ہے ۔ بھارت اس کی کچھ بھی دلیل دے مگر انگریز دور میں قائم ہر چیز انگریز کی ہی تھی خاص کر دفاع سے متعلق تمام اقدامات ۔ بھارت میں 8اکتوبر کوہی دسیرے کا تہوار منایا جاتا ہے جس کی ایک ہندو تاریخ ہے ،یہ تہوار من گھڑت ہے یا نہیں اس بحث میں وقت ضائع کیے بغیر میں اپنا موضوع جاری رکھوں گا ۔ 31جنوری 2012ء کو بھارتی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ فرانس کی لڑاکا جہاز بنانے والی کمپنی ڈسالٹ نے سے سے کم قیمت ٹینڈر بھرا ہے جس کو ہم نے قبول کرتے ہوئے فرانس سے 126لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ۔ معاہدے کے مطابق فرانس نے 18لڑاکا رافیل طیارے تیار کر کے بھار ت کے حوالے کرنا تھے باقی 108رافیل طیارے فرانسیسی کمپنی نے بھارت کیساتھ ملکر تیار کرنا تھے اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنا تھی اس سارے معاہدے کا دورانیہ 40سال تھا ۔ اس وقت بھارت میں کانگریس کی حکومت تھی ۔ 2014ء کوبھارتی انتخابات کے نتیجے میں بی جے پی برسراقتدار میں آئی جس کے فوری بعد بھارتی وزیردفاع منوہر نے اعلان کیا کہ روس کے طیارے سخوئی کو رافیل کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی مخالفت اس وقت کے بھارتی ائیر چیف مارشل اروپ نے کی ۔ فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ اور بھارتی کمپنی ایچ اے ایل(ہندوستان ایروناٹیکس لمیٹڈ)کے مابین مارچ 2014ء کو کیا جانیوالا معاہدہ مارچ 2015ء کوختم کر دیا جاتا ہے ،اپریل 2015ء کو فرانس کے سرکاری دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کیا کہ اب بھارت فرانس سے 36رافیل لڑاکا طیارے خریدے گا(واضح رہے کہ بھارتی حکمرانوں پر رافیل ڈیل میں کک بیکس لینے کا بھی الزام لگتا رہا اور یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ تک بھی گیا تھا) ۔ جولائی 2015ء کو بھارتی وزیردفاع نے لوک سبھا کو بتایا کہ فرانس کیساتھ 126رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ ختم کر دیا ہے اب فرانس سے 36طیارے خریدے جائیں گے جن میں 26رافیل سنگل سیٹراور8ڈبل سیٹر رافیل طیارے شامل ہونگے ۔ جنوری 2016ء کو بھارت اور فرانس کے درمیان ایک میمورنڈم پر دستخط کیے جاتے ہیں اور پھر ستمبر 2016ء کو باقاعدہ معاہدہ طے پا جاتا ہے ۔ فرانس کیساتھ بھارت کا 30بلین ڈالر کا معاہدہ کم ہو کر صرف7;46;8بلین ڈالر پر آجاتا ہے ۔ فرانس نے بھارت کی ضروریات اور موسم کومدنظر رکھتے ہوئے رافیل طیارے میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں جس کے بعد پہلا رافیل طیارہ فرانس میں ہی 8اکتوبر 2019ء کوبھارت کے حوالے کیا گیا اور بھارتی حکومت نے رافیل طیارہ حوالگی کادن جان بوجھ کر دسیرے کادن رکھا کیونکہ اس کے پیچھے آر ایس ایس نظریہ ہے(اگر بھارت رافیل کی حوالگی کے اس دن کو فضائیہ کے نام سے بھی منسوب کرتا تووہ کونسا بھارت کا دن ہوتا) ۔ فرانس کے بوردو شہر میں ڈسالٹ ائیر بیس پربھارتی وزیردفاع کو جب رافیل طیارے کو ناریل چڑھاتے اور اسکے ٹائروں کے نیچے لیموں دیتے دیکھا تو مجھے 27فروری 2019کی گونج فرانس میں سنائی اور اسکا بھارت کو درد محسوس ہوا ۔ یہ سب کچھ بھارتی میڈیا لائیو دکھا رہا تھا ۔ بھارتی ائیرچیف مارشل نے بھارتی چینل سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس وقت برصغیر کی فضاوَوں پر پاکستان کا راج ہے لیکن رافیل بھارت کو ملنے کے بعد ہماری فضائی طاقت بہتر ہو جائیگی ۔ جب بھارتی ائیرچیف پاک فضائیہ کی برتری کو تسلیم کر رہے تھے تو مجھے پھر 27فروری کی پاک فتح کی گونج فرانس میں بھی سنائی دی ۔ کیسا دلوں کو گرما دینے والا منظر تھا جب بھارتی ائیر چیف فرانس کی زمین پر پاکستان کی فضائیہ کی برتری کو تسلیم کر رہا تھا ۔ بھارتی میڈیا جب رافیل کی خوبیاں بیان کر کر نہیں تھک رہا تھا اور کئی گھنٹوں پر محیط سپیشل ٹرانسمیشنز بھی رافیل کی خوبیان بیان کرنے میں کم محسوس کر رہا تھا تب بھی مجھے پاکستان کی فتح کی گونج بھارتی حدود اور فضاؤں سمیت پوری دنیا میں سنائی دی جیسے بھارتی میڈیا 27فروری سے پہلے بھارتی عوام کو بیوقوف بناتا آیا ہے اور جنگ کا ماحول پیدا کرکے بھارتی فضائیہ اور بھارتی فوج کو منہ کی کھلوانے میں اہم کردار ادا کیا ٹھیک اسی طرح بھارتی میڈیا ایک بار پھروہی شوروغل مچاتا دکھائی دیا ۔ اب انسے یہ سوال تو بنتا ہے کہ اگر آج بھارت کی فضائی طاقت میں کچھ اضافہ ہو رہا ہے تو پہلے بھارتی میڈیا کس طاقت کا ڈھول پیٹتا رہا اور اپنی عوام اور فوج کو بیوقوف بناکر آگ میں جھونکنے کیلئے کردار ادا کرتا رہا ۔ 8اکتوبر 2019کو پھر بھارتی میڈیا جھوٹ بول رہا تھا کہ 27فروری کو ایک ایف سولہ گرایا گیا ۔ خیر بھارتی میڈیا کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ جھوٹ کو سربلند رکھتا ہے مگر دسیرے کے دن بھارتی میڈیا کا جھوٹ بولنا انکے مذہبی تہواروں پر بھی انگلیاں اٹھاتا ہے ۔ تھرڈ اور فورتھ جنریشن کے رافیل لڑاکا طیارے کوبھارتی میڈیا اس طرح پیش کر رہا تھا جیسے جہازوں نے خود ہی لڑنا ہو ۔ مجھے تو بھارتی میڈیا کے اس شور شرابے میں پاکستان کی 27فروری کی جیت کی گونج واضح سنائی دی ۔ بھارتی میڈیا جھوٹ پر جھوٹ بول کر لگتا ہے پھر کوئی رافیل گروائے گا کیونکہ جنگیں بغیر جذبے اور مہارت کے نہیں جیتی جاتیں اور ہاں جنگ جیتنے کیلئے پاک افواج کے جوانوں جیسے جوان بھی چاہئیں اس لیے بھارتی میڈیا اتنا ہی شور مچائے جتنا کل برداشت کر سکے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative