قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی فوجداری مقدمے میں اصل امتحان صرف الزامات کا نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ملزمان اور ریاست عدالتی عمل کے ساتھ کس حد تک سنجیدگی، وقار اور دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمہ ایک ایسی مثال بن چکا ہے جہاں ٹرائل سے زیادہ بحث عدالتی عمل کو متاثر کرنے کے رویّوں پر مرکوز ہو گئی ہے۔22 اگست 2025 کو NCCIA کی جانب سے پیکا ایکٹ کی دفعات 9، 10، 11 اور 26ـA کی مسلسل خلاف ورزی پر FIR نمبر 234/25 درج کی گئی۔ قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ سنگین نوعیت کے الزامات کے باوجود ابتدا میں ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ محض شاملِ تفتیش رکھا گیا، جو عمومی فوجداری مقدمات کے برعکس ایک غیر معمولی رعایت سمجھی جاتی ہے۔ بعد ازاں 29 اگست کو ایمان مزاری نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی، جو فوری طور پر منظور کر لی گئی۔یہاں سے مقدمے کا وہ مرحلہ شروع ہوتا ہے جسے قانونی حلقے”ٹرائل میں دانستہ تاخیر”کی کلاسیکی مثال قرار دیتے ہیں۔ 5 ستمبر کو وکیل کی عدم موجودگی کا جواز بنا کر سماعت ملتوی کروائی گئی اور 11 ستمبر کو درجن بھر وکلا کی موجودگی میں دونوں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری بھی منظور ہو گئی۔ اس کے باوجود، عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر کیس کو غیر سنجیدہ ثابت کرنے اور عدالت کی عمل داری پر سوال اٹھانے کا سلسلہ جاری رہا۔13 ستمبر کو استغاثہ نے چالان جمع کرایا اور 17 ستمبر کو کیس دوبارہ اسی عدالت کو مارک ہوا۔ اس کے بعد عدالتی طلب ناموں کے باوجود 20 اور 22 ستمبر کو ملزمان کی عدم پیشی نے عدالت کو ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے پر مجبور کیا۔ تاہم 24 ستمبر کو پیشی کے بعد وکلا کی تبدیلی اور عدالت کی جانب سے وارنٹس کی منسوخی ایک بار پھر غیر معمولی نرمی کا مظہر تھی، حالانکہ اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ناقابلِ ضمانت وارنٹ کے بعد ضمانت خود بخود ختم تصور ہوتی ہے ۔ مورخہ 30 ستمبر کو فردِ جرم کیلئے کیس تین مرتبہ کال ہوا مگر ملزمان پیش نہ ہوئے۔ وکیل کے ذریعے فردِ جرم عائد کی گئی، پھر وکالت نامہ واپس لے لیا گیا اور عدالت کو دوبارہ وارنٹ جاری کرنا پڑے۔ یکم اکتوبر کو نئے وکیل کی درخواست پر نہ صرف وارنٹس منسوخ کیے گئے بلکہ ضمانت بھی بحال کر دی گئی۔ اس کے بعد 7، 11، 13، 16، 20 اور 24 اکتوبر کو مختلف بہانوں سے التوا کی درخواستیں دی جاتی رہیں، جنہیں عدالت ہر بار منظور کرتی رہی۔یاد رہے کہ29 اکتوبر کو مسلسل غیر حاضری کے باعث ہادی علی چٹھہ کے خلاف ایک بار پھر ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہوئے۔ 30 اکتوبر کو فردِ جرم دوبارہ عائد ہوئی اور اس موقع پر عدالت کے اندر غیر مہذب رویّہ اختیار کیا گیا، تاہم وکیل کی معذرت پر عدالت نے ایک مرتبہ پھر تحمل کا مظاہرہ کیا۔ 5 نومبر کی سماعت میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی جب ملزمان نے عدالت کے خلاف بدتمیزی کی، کارروائی میں مداخلت کی اور یہاں تک کہ اپنے وکیلوں سے بھی الجھ پڑے۔ نتیجتاً وارنٹ دوبارہ جاری ہوئے اور وکیل نے وکالت سے معذرت کر لی۔اس کے باوجود 6 نومبر کو پھر وارنٹس منسوخ ہوئے، مزید مہلت دی گئی، اور 8، 14 اور 17 نومبر کی سماعتوں میں بھی ملزمان مختلف جواز پیش کر کے غیر حاضر رہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ رویہ محض دفاعی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ٹرائل کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش کے زمرے میں آتا ہے۔ 19 نومبر کو عدالت میں ایک بار پھر کارروائی میں رکاوٹ ڈالی گئی، تاہم عدالت نے کسی تعزیری اقدام کے بجائے تحمل کو ترجیح دی اور گواہان کی شہادت ریکارڈ کی گئی۔بعد ازاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے غیر معمولی ریلیف حاصل کر کے دوبارہ شہادتوں کا حکم لیا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ آٹھ وکلا کے وکالت نامے جمع ہونے کے باوجود ہادی علی چٹھہ نے خود جرح کی، اور جیسے ہی آخری گواہ کا مرحلہ آیا، پرانی حکمتِ عملی دوبارہ اختیار کر لی گئی۔ ایمان مزاری کی جانب سے بغیر میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے بار بار استثنیٰ مانگا گیا، اور جب عدالت نے کارروائی آگے بڑھانے کا حکم دیا تو دونوں ملزمان مفرور ہو گئے جس پر ضمانت منسوخ اور وارنٹ جاری ہوئے۔قانونی ریکارڈ کے مطابق پانچ مہینوں میں 44 عدالتی پیشیاں ہوئیں، جو کسی بھی عام مقدمے میں غیر معمولی تصور کی جاتی ہیں۔ اس دوران یہ بیانیہ بھی بنایا گیا کہ عدالت دن میں بار بار کیس کال کرتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ملزمان کی عدم موجودگی کے باعث عدالت کو انتظار کرنا پڑتا رہا تاکہ دونوں ایک ساتھ حاضر ہوں اور کارروائی شروع ہو سکے۔ یہ سہولت عام شہریوں کو شاذ و نادر ہی میسر آتی ہے۔مزید یہ کہ ایمان مزاری کی سوشل میڈیا سرگرمیاں، جن میں کالعدم تنظیموں اور ریاست مخالف عناصر کے بیانیے کو فروغ دیا گیا، مقدمے کی سنجیدگی کو مزید واضح کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ محض اظہارِ رائے نہیں بلکہ پیکا کے تحت قابلِ تعزیر جرم ہے۔یوںآخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مقدمے میں اصل سوال الزامات سے بڑھ کر عدالتی عمل کے احترام کا ہے۔ ملزمان کا مجموعی رویہ ، بار بار غیر حاضری، وکلا کی تبدیلی، ہنگامہ آرائی اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹرائل کو دانستہ طور پر متاثر کیا گیا۔ ایسے میںقانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ ایسے رویّوں کو محض برداشت نہ کیا جائے بلکہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھا جائے جس سنجیدگی سے الزامات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔اس ضمن میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پہلے سے ہی ایک دوسرے مقدمے میں پولیس کو مطلوب ہیں اور بجا طور پر قانونی اور عدالتی حلقوں کو توقع ہے کہ عدالت کی آڑ میں ایسے افراد کو غیر ضروری رعایت نہیں ملنی چاہیے۔
ریاست مخالف بیانیہ اور عدالتی عمل سے فرار

